قومی زبان

مد و جزر

رات کے آٹھ بج رہے تھے۔ میں بستر پر اوندھی پڑی تھی۔ میوزک سسٹم اَن تھا۔ ہلکی ہلکی موسیقی کی لَے پر میرے پیر تھرک رہے تھے، پر دل میں ٹیس اب بھی باقی تھی! حالاںکہ ہفتے بھر کا وقفہ گزر چکا تھا۔ اس درمیان وہ کئی فون کر چکا تھا۔ اپنی غلطی کا اعتراف کر چکا تھا۔ ایک بار تو میرے دل نے چاہا ...

مزید پڑھیے

بِسرجن

وہ پارک میں بیٹھا مونگ پھلی چبا رہا تھا! انگلیوں کی انگوٹھیاں نچا رہا تھا! انٹریو دینے جب کبھی کلکتہ آتا تو شام کو اس پبلک پارک میں چلا آتا اور باؤنڈری وال پر بیٹھ کر ہوڑہ پل، ودّیا ساگر سیتو، آتی جاتی کشتیوں اور لہروں کو تکتا رہتا۔ کبھی لمبی لمبی سانسیں کھینچ کھینچ کر ...

مزید پڑھیے

چوتھا فنکار

بوڑھے نے بڑی احتیاط سے ہونٹوں کے ایک کونے میں بیڑی دبائی اور پھرسے وہی قصہ چھیڑا۔ یہ قصہ سناتے وقت بوڑھے پر ایک اضطرابی کیفیت چھا جاتی تھی۔ ”چار دوست تھے۔ چاروں نے بھگوان وشو کرما سے پرارتھنا کی۔ اے بھگوان! ہمیں کوئی انوکھا فن سکھلا دے۔ بھگوان وشوکرمانے ان کی پرارتھنا ...

مزید پڑھیے

کنگن

اس نے دروازے پر لٹکتے کڑوں پر ایک سرسری نگاہ ڈالی۔ پھر ڈور بیل کی طرف ہاتھ بڑھایا۔ ویسے بھی اب کنڈیاں کھڑکانے کا دور کہاں رہا؟ کڑے کھنکانے اور ان سے جھول جانے کا زمانہ تو وہ بہت پیچھے چھوڑ آیا ہے۔ وہ توان کڑوں کو اکھاڑ پھینکنا چاہتا تھا۔ مگر ان کی میخیں کواڑ میں اس قدر پیوست ...

مزید پڑھیے

مہانگری

مہانگری کے بارے میں کئی طرح کی روایتیں مشہور تھیں۔ عورتیں اسے چڑیلوں کی بستی کہتی تھیں اور مرد آدم خوروں کی، وہاں کی کہانیوں سے بچے ڈرائے اور سلائے جاتے تھے، وہاں کا تصور لرزہ طاری کردیتا تھا اور کوئی وہاں جانے کا تصور کرتا تو بیویاں اس کے پیروں میں بیڑیاں بن جاتیں۔ ’’میں ...

مزید پڑھیے

سودا

میری عمرچالیس سے تجاوز کرچکی ہے۔ میں نے ابھی تک شادی نہیں کی۔ آگے کرنے کا ارادہ بھی نہیں ہے۔ دراصل میں شادی کے انسٹی ٹیوشن پر یقین ہی نہیں رکھتا۔ سماج میں شادی کی بڑی اہمیت ہے، ہوگی۔ مذہب بھی اس پر خاص زور دیتا ہے، دیتا رہے۔ مگر میرا مشاہدہ تو یہ ہے کہ شادی کے نام پر مرد کے گلے ...

مزید پڑھیے

باہم

کنیز چھوٹے چھوٹے قدم اٹھاتی چل رہی تھی۔ دھوپ سے بچنے کے لیے اس نے پلو کو سر اور گردن کے گرد لپیٹ لیا تھا۔ اس کے باوجود گرمی سے اس کا چہر تمتما رہا تھا۔ وہ بائیں طرف ہٹ کر ایک پرانی شکستہ بلڈنگ کے سائے میں چلنے لگی۔ بلڈنگ کی دیوار پر کچھ پوسٹر چپکے ہوئے تھے۔ جو اب کہیں کہیں سے پھٹ ...

مزید پڑھیے

درندہ

’’درندہ آیا۔۔۔د رندہ آیا۔۔۔‘‘ بستی میں چاروں طرف ایک شور سا اٹھا۔ دھڑا دھڑ کھڑکیاں اور دروازے بند کرلیے گئے۔ نوجوان لاٹھی، بلّم، تیر تفنگ لے کر گھروں سے باہر نکلے۔ گلیوں، کوچوں اور سڑکوں پر درندے کی تلاش شروع ہوگئی۔ گھنٹوں پکڑو، مارو، جانے نہ پائے کی آوازیں آتی رہیں۔ رات ...

مزید پڑھیے

دھرماتما

رام محل ریسٹورنٹ کے سامنے حسبِ معمول بھکاریوں کی ایک لمبی قطار لگی ہوئی تھی۔ بھوکے، مریل اور پھٹے حال لوگ، آنکھوں میں وحشت، ہونٹوں پر گالی اور بدن پر چیتھڑے۔ مرد، عورتیں، بوڑھے، بچے سب ریسٹورنٹ کے کنارے کنارے فٹ پاتھ پر ایک لمبی قطار میں بیٹھے کسی دھرماتما کا انتظار کررہے تھے ...

مزید پڑھیے

زندگی افسانہ نہیں

جمیلہ نے اپنے فیصلے پر بہت غور کیا کہ کہیں اس سے کوئی غلطی تو سرزد نہیں ہونے جارہی ہے۔ ایسی غلطی جس کی پھر کبھی تلافی نہ ہوسکے۔ مگر اسے محسوس ہوا کہ اس کے سامنے اب سوائے اس ایک راستے کے کوئی دوسرا راستہ نہیں ہے۔ اگر وہ آج ذرا بھی کمزور پڑی تو پھر عمر بھر یوں ہی گھٹتی اور کڑھتی رہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5940 سے 6203