قومی زبان

ذہن زاد

”بیٹے قرطاس تم رو کیوں رہے ہو؟رونے کی کوئی ضرورت نہیں۔ تم خود کو تنہا نہ سمجھو۔ اگر تمہیں یہ لگتا ہے کہ تمہارا وجود فرضی ہے تو میں تم سے کہہ دینا چاہتا ہوں کہ وجود میرا کون سا حقیقی ہے۔ تم تو ان ڈھائی تین کروڑ سے کہیں بہتر ہو۔ ہاں۔۔۔! ڈھائی تین کروڑ ہی تو ہوتے ہیں زندگی سے چمٹ ...

مزید پڑھیے

پزّا بوائے

پزا بوائے نے اپنی بائیک پارکنگ میں کھڑی کی، وارمر (Warmer) سے پزا نکالا اور لفٹ میں سوار ہوگیا۔ اب وہ ایک ڈور بیل بجا رہا تھا، کچھ ہی دیر میں دروازہ کھلا۔ ایک گورا، خوبصورت اور لمبی انگلیوں کے ناخنوں پر نیل پینٹ والا ہاتھ باہر آیا۔ اس نے پزا بوائے کا گریبان پکڑا اور اندر کھینچ لیا، ...

مزید پڑھیے

ایش ٹرے

جِم (Gym) نے آخری بار ایک لمبی سانس چھوڑی اور اسٹیلا (Stella) کے برابر میں ہی ڈھیر ہو گیا۔ دونوں کافی دیر تک چھت کو دیکھتے رہے۔ سانسوں کی بازگشت دھیمی ہوئی۔ اسٹیلانے اپنا نازک ہاتھ جم کے پیٹ پر پھیرتے ہوئے کہا، ”دس سال پہلے جب ہم ٹین (Teen) تھے تب تمہارے Six Pack Abs ہوا کرتے تھے۔ تمہاری Physique ...

مزید پڑھیے

نوز پیس

ارمان نے جب آنکھ اٹھا کر اس کی طرف دیکھاتو دیکھتا ہی رہ گیا۔ اس کی چمکدار، بڑی اور پر اثر آنکھیں تنی ہوئی ابروؤں کے نیچے روشن چراغوں کی طرح دکھائی دے رہی تھیں۔ جن میں وہ کچھ دیر کے لیے کھو گیا تھا۔ صرف آنکھیں ہی تو تھیں جنہیں ارمان دیکھ سکتا تھا کیوں کہ اس لڑکی نے خود کو برقع میں ...

مزید پڑھیے

اپنی اپنی زندگی

یہ دوسری صبحِ کاذب تھی کہ ’’اَلصَّلٰوۃُ خَیْر’‘ مِنَ النَّوْم‘‘ کی آواز پر نہ تو وہ بستر سے ایک جھٹکے سے اٹھی، نہ ہی بِنا دیکھے پیروں میں چپل اُڑسی کہ غسل خانے کی جانب لپکے۔ اس کے ذہن کی اندھیر نگری میں سوچوں کا کہرام مچا تھا،بل کہ سوچ کے دونوں سرے ایک دوسرے سے گتھم گتھا تھے ...

مزید پڑھیے

بند کمروں کی شناسائیاں

دو چار روز سے گھر میں کچھ ہو رہا تھا۔ اس کے بچے اور میاں کچھ پلان کر رہے تھے۔ فون آ جا رہے تھے اور اس کامیاں بچوں کو بتا رہا تھا کہ ہاں فلاں وقت ٹھیک ہے، ہاں ہاں فلاں کا گھر بھی صحیح رہے گا۔ زرینہ کو اس تمام Activityسے یہ پلّے پڑا کہ کسی بڑی خاتون شخصیت سے ملاقات کا وقت اور مقام طے ہو ...

مزید پڑھیے

کم آشنائی، گریز پائی

نہ کم نہ زیادہ پورے ستائیس برس بعد اسے اچانک محسوس ہوا کہ آج دھوپ بہت دھوم دھام سے نکلی ہے۔ اس کے چاروں جانب بے حد شفّاف روشنی تھی۔ وہ باہر لان میں کرسی ڈالے بیٹھی تھی۔ اس نے آنکھیں سکیڑیں، تھوڑا کرسی کے پیچھے کھسکی اور گردن کو کندھوں پر پھینک کر آسمان کی طرف دیکھا تو اسے دھوپ کے ...

مزید پڑھیے

سلامت رہو!

سو یہ گھر آج سے اپنا ہوا۔ یہ اینٹیں، یہ سیمنٹ، یہ لال رنگ مٹی، یہ کھڑکی، یہ دروازہ، یہ سب میرا اپنا ہے۔ ایک کمرا، ایک کچن اور ایک باتھ، میری زندگی بھر کی کل کائنات، یہ گھر اور میرا اپنا بے معنی وجود۔۔۔ جس طرح گھر کے معنی اس کی وسعتوں سے ہوتے ہیں، کہ اس میں کون بستا ہے، کیسے بستا ...

مزید پڑھیے

یوز لیس

جب منیر اور وہ لڑکی جلال کے دفتر کی سیڑھیاں چڑھ کر، جلال کے کمرے میں آ کر کھڑے ہوئے تو جلال نے پہلے لڑکی کوبغور دیکھا اور پھر منیر سے نظر ملائی۔ پھر بڑی دھیمی آواز میں اس کے منہ سے عادتاً ’’یُوزلیس‘‘ نکل گیا۔ اس پر جو منیر کا ردعمل ہوا وہ حیران کن تھا۔ اس نے جلال کی آنکھوں میں ...

مزید پڑھیے

بَین

(جنگل کے اندر ساگوان کے ایک پیڑ کے نیچے بیٹھی وہ لڑکی ایک سوکھی ٹہنی سے زمین پر لکیر یں کھینچ رہی تھی۔ لکیروں کو بناتے وقت اس کی ٹہنی بار بار ٹوٹ جاتی اور وہ بچی ہوئی ٹہنی سے دوبارا کام شروع کر دیتی ۔وہ جو لکیریں کھینچ رہی تھیں وہ اتنی بے تکی بھی نہ تھیں ۔ بہت جلد انھوں نے ایک بڑی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5920 سے 6203