قومی زبان

رنگ

آج اُس نے پھر ویسا ہی خواب دیکھا۔وہ سوچ میں پڑ گئی تھی۔ کیوں ۔ ۔ ۔ ؟ ۔ ۔ ۔ کیوں دیکھتی ہوں میں یہ خواب۔ کہتے ہیں خواب میں انسان اپنی ادھوری خواہشات کو تکمیل کے عمل تک پہنچاتا ہے۔ ۔ ۔ میری تو کوئی خواہش ادھوری نہیں ۔ ۔ ۔ کوئی کمی نہیں زندگی میں ۔ ایک مکمل انسان ہوں میں ۔ ۔ ۔ پھر؟ وہ ...

مزید پڑھیے

میرا کے شیام

’’کِس سے بات کرنا ہے؟‘‘ فون پر جاذب سی نسوانی آواز سن کر صبیحہ نے پوچھا۔ ’’جی۔ آپ ہی سے۔‘‘ آواز میں ہلکی سے کھنک شامل ہو گئی۔ صبیحہ اُس آواز کو بخوبی پہچانتی تھی۔ یہ وہ آواز تھی جس کی وجہ سے اُسے عجیب عجیب تجربے ہوئے تھے۔ مختلف حالات سے دوچار ہونا پڑا تھا۔ اور خود صاحبۂ ...

مزید پڑھیے

ہم تو ڈوبے ہیں صنم ۔ ۔ ۔

ہو سکتا ہے یہ میری آخری خواہش ہو۔ ۔ ۔ تم سے۔ ۔ ۔ کچھ۔ ۔ ۔ میں آخری بار مانگ رہا ہوں شاید۔ شاہد نے نادیہ کی طرف ملتجیانہ نظروں سے دیکھ کر ٹھہر ٹھہر کر کہا۔ مجھے۔ ۔ ۔ ڈر لگ رہا ہے۔ ۔ ۔ ایسا مت کہو۔ ۔ ۔ نادیہ کھڑکی سے باہر دیکھنے لگی۔ کس بات سے۔ ۔ ۔ ؟میری خواہش سے۔ ۔ ۔ یا میرے اندیشے ...

مزید پڑھیے

ایسے مانوس صیّاد سے۔ ۔ ۔

کبھی کبھی آپ کو ایسا تو محسوس نہیں ہوتا کہ اگر آپ نے گھر خالی کر دیا ہوتا تو مشرا جی کے بچوّں کا گھر شاید نہ ٹوٹتا۔ شینا نے سعید صاحب کے چہرے کی طرف بغور دیکھا۔ اُسے یقین تھا کہ اس بات کے جواب میں سعید صاحب کے ضمیر کا سارا بوجھ اُس کے سامنے عیاں ہو جائے گا۔ سعید صاحب نے میز پر سے ...

مزید پڑھیے

ٹیڈی بیئر

سیاہ چشمے کی بائیں جانب کے کھلے حصے میں سے وہ اسے چپکے چپکے دیکھ رہی تھی، جو خود میں گم گا رہا تھا اور گٹار بھی بجا رہا تھا۔ گاڑی کے ہلکوروں کے ساتھ اس کے ماتھے پر آگے کو لا کر پیچھے کی طرف سجائے گئے بال بھی جھول جاتے۔ اس نے قلمیں بڑھا رکھی تھیں جو کم عمری کے سبب گو زیادہ گھنی نہ ...

مزید پڑھیے

یہ تنگ زمین

میں نے جب اپنے خریدے ہوئے خوبصورت کھلونوں کو ڈھیر کی شکل میں لاپرواہی سے ایک کونے میں پڑا ہوا دیکھا تو مجھے دکھ سا ہوا۔یہ کھلونے کتنے چاؤ سے لائی تھی میں اس کے لیے۔ یہ چھوٹا سا پیانو۔ ۔ ۔ یہ جلترنگ۔ ۔ ۔ یہ چھوٹی سی گِٹار،چہکنے والی ربر کی بلبل،ٹیں ٹیں بولنے والا طوطا، اور ڈرم ...

مزید پڑھیے

تجربہ گاہ

خاکی نے ہسپتال کی تجربہ گاہ میں لگے بڑے سے آئینے میں خود کو سر سے پاؤں تک دیکھا۔ وہ اپنے اُسی قیمتی لباس میں تھا جو اُسے بہت پسند ہوا کرتا تھا۔ اُس کا قد چھ فٹ کے قریب تھا۔ رنگ کھِلتا ہوا گندمی، بال گھنے اور بھورے تھے۔ آنکھوں کی پُتلیاں سیاہ تھیں ۔ بہت پہلے وہ دنیا بھر کے چند ...

مزید پڑھیے

پوتھی پڑھی پڑھی

بالکنی میں کھڑے ہونے کے بعد جب میں نے اوپر نظر اٹھائی تو راکھ کے رنگ کے آسمان کو دیکھتے ہی طبیعت بجھ سی گئی۔ اُداسیاں پھن پھیلائے میرے دائیں بائیں آ کھڑی ہوئیں ۔ مجھے خود کو ان ناگنوں کا شکار نہیں ہونے دینا چاہیے۔زندگی ٹھہر تو نہیں گئی۔ ایسا نہیں ہے کہ راکھ کے رنگ کا آسمان ...

مزید پڑھیے

بالکنی

’’چلو۔۔۔ چلو چلو۔۔۔ راستہ دو۔۔۔ ایک طرف۔۔۔ ہاں۔۔۔‘‘ دوسپاہی گیٹ سے اندر داخل ہوئے۔ اُن کے پیچھے ایک اعلیٰ افسر اور اُس کے عقب میں اور دو سپاہی تھے۔ ’’لیکن ہم نے کِیا کیا ہے بھیّا۔۔۔ یہاں تو کوئی نہیں ہے۔ ہم تو خود پریشان ہیں حالات سے۔ ہمارے گھر میں کوئی لڑکا بھی نہیں ہے۔ ...

مزید پڑھیے

ایک چاقو کا فاصلہ

عصمت چغتائی پر صد سالہ عالمی سیمینار کا آخری دن تھا۔ آڈیٹوریم فکشن نگاروں، نقادوں، پروفیسروں، ریسرچ اسکالروں، فیمنسٹوں، کمیونسٹوں، سوشلسٹوں اور صحافیوں کے علاوہ دیگر دیسی اور بدیسی ادیبوں سے بھرا ہوا تھا۔ ایک سے بڑھ کر ایک مضمون اور خاکے پڑھے گئے، تقریریں بھی بڑی پر جوش ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5919 سے 6203