قومی زبان

پارسا بی بی کا بگھار

’’تو جب وہ بی بی دال بگھارتی تو زیرے، لہسن اور اصلی گھی کی سوندھی خوشبو اڑ کر سات آسمانوں تک پہنچتی اور فرشتے کہتے، لو آج پھر پارسا بی بی کے گھر ارہر کی سنہری سنہری دال پکی ہے، پارسا بی بی بیٹی تو تھی بادشاہ کی لیکن بیاہ کے آگئی تھی غریب منشی کے گھر۔۔۔‘‘ دادی تو یہ کہانی صدیوں ...

مزید پڑھیے

شکستہ پروں کی اڑان

’’کس لفنگے کے چکر میں پڑی ہو۔ خدا خدا کرو۔ لڑکی جوان ہو رہی ہے۔‘‘ دلہن چچی نے پھر وہی بات کہی جس سے ناصرہ بیگم کو پتنگے لگتے تھے۔ ماروں گھٹنا پھوٹے آنکھ۔ بھلا یہاں لڑکی کے جوان ہونے کا کیا ذکر ہے اور خدا خدا کرنے کو تو ابھی عمر باقی ہے۔ میاں بھری جوانی میں داغ دے گئے تو اس کا ...

مزید پڑھیے

گڑیا

وہ گھر سے چلی تو جھٹپٹا ہو چلا تھا۔ ٹرین رات کے نو بجے تھی جیسا کہ ان لوگوں نے بتایا تھا۔ ٹرین کیا ہوتی ہے یہ وہ جانتی تھی۔ ایک دو ریل گاڑیاں اس کے گاؤں کے کنارے کنارے گنے اور ارہر کے کھیتوں کے پاس سے گزرا کرتی تھیں۔ وہ کہاں سے آتی ہیں اور کہاں جاتی ہیں اس پر اس نے کبھی غور کرنے کی ...

مزید پڑھیے

بجنس

ٹفن میں ابھی کچھ وقت باقی تھا۔ کلونے امردوں کا ٹھیلا اسکول کے گیٹ سے ذرا ساہٹ کر کھڑا کیا کہ آنے جانے والوں کو دقت نہ ہو۔ یہ ایک مشنری اسکول تھا۔ تیسرے اسٹینڈرڈ تک لڑکے بھی لیے جاتے تھے لیکن اس کے بعد صرف لڑکیاں۔ زیادہ تربچے امردوں کے بڑے شوقین تھے۔ ماں باپ سیب، انگور کھلائیں ...

مزید پڑھیے

متھ

دو چار روز سے گھر میں کچھ ہو رہا تھا۔ اس کے بچے اور میاں کچھ پلان کر رہے تھے۔ فون آ جا رہے تھے اور اس کامیاں بچوں کو بتا رہا تھا کہ ہاں فلاں وقت ٹھیک ہے، ہاں ہاں فلاں کا گھر بھی صحیح رہے گا۔ زرینہ کو اس تمام Activityسے یہ پلّے پڑا کہ کسی بڑی خاتون شخصیت سے ملاقات کا وقت اور مقام طے ہو ...

مزید پڑھیے

ہجوم ہم نفساں

بارہ برسوں کا سلسلہ وقت اورحالات و واقعات پر مشتمل ایک دراز سلسلہ ہے۔۔۔ گزرے زمانوں میں بن باس کی مدت بارہ برسوں پر محیط تھی۔ بارہ برس ایک لمبا زمانہ تھا، اور بہت سی امثال بارہ برسوں کے حوالے سے مروج تھیں۔ دیو مالا میں لکشمن ریکھا بھی بارہ برسوں کے لیے ہی کھینچی گئی تھی۔ ان ...

مزید پڑھیے

توتیا من موتیا

شمع اور بختیار کی شادی عام روایتی شادیوں جیسی تھی۔ اس قدر رواجی کہ شمع اور بختیار کی عمروں کا پندرہ سال کا تفاوت بھی مد نظر نہیں رکھا گیا تھا۔ بختیار ایک لاابالی اور پختہ عادات و اطوار کا مالک تھا۔ اس روایتی مرد کے دل میں بیوی کی شناخت محض ایک ذاتی وجود کے حوالے سے تھی۔ گزرتے وقت ...

مزید پڑھیے

حالتے رفت

تسلسل کیوں ٹوٹتا ہے؟۔ عمارت کیوں ڈھے جاتی ہے؟ یقیناًتسلسل جس تار سے بندھا ہوتا ہے، بے عملی کے عمل سے، کسی جوڑ پر وہ تار زنگ آلود ہوجاتا ہے اور اگر عمارت ڈھے جاتی ہے تو بھی کسی کاریگر کے ہاتھ کی کجی یا ناقص میٹیریل کا استعمال عمارت کے وجود کو ختم کر دیتا ہے۔ میری عادت ہے کہ میں بات ...

مزید پڑھیے

میں ہوں فرزانہ

ابتدائی سیشن کے بعد گروپس میں بھی ڈسکشن اختتام پذیر ہو چکی تھی، اور اب چاے کا وقفہ تھا۔ ڈیلی گیٹس دو دو، چار چار کی ٹولیوں میں بیٹھے کسی نہ کسی موضوع پر اظہارِ خیال کر رہے تھے۔ نعیمہ ہیومن رائٹس والوں کی طرف سے کراچی سے پہنچی تھیں، ڈاکٹر راشدہ کانفرنس کی روحِ رواں تھیں، ڈاکٹر ...

مزید پڑھیے

سیلاب

سر غرور بلند کر کے ساحل نے سمندر سے کہا۔ میری شان ہی سے تیری شان ہے۔ سمندر نے پر شور قہقہہ لگایا۔ اور کنارے کو بہا دیا۔ پنڈت رادھے شام ایک رجعت پسند اخبار کے ایڈیٹر اور مالک تھے۔ ان کا ضمیر اس پژمردہ چنگاری کی طرح تھا، جو خوشامد اور چاپلوسی کی منوں راکھ کے نیچے دب گئی ہو۔ قومی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5913 سے 6203