قومی زبان

چرایا ہوا سکھ

ہمیشہ کی طرح آج بھی اجیت نے سونے سے پہلے کافی کا پیالہ ختم کیا، پھر دوتین سگرٹ پھونکے لیکن ہمیشہ کی طرح اس نے امیتاکے گرد بازوؤں کا حلقہ نہیں بنایا۔ بہت دیر تک وہ چھت کی طرف یونہی بے مقصد دیکھتا رہا۔ انتظار کرتے کرتے جب امیتا کے دھیر کا پیمانہ لبریز ہوگیا تو وہ خود ہی قریب آگئی ...

مزید پڑھیے

ایک تھکی ہوئی عورت

حسب معمول اس رات بھی وسندھرا نے اپنی سہاگ رات کا تصور کیا اور اجے کی طرف کروٹ بدل کر سونے کی کوشش کرنے لگی۔ کانچ کی سرخ چوڑیوں کے جگر جگر کرتے ننھے ننھے ٹکڑے تصور کی آنکھوں کے سامنے ناچ اٹھے جیسے ستارے ٹوٹ کر شرارے چھوڑ رہے ہوں۔ اس نے ننداسی آنکھوں کو ایک مرتبہ پھر کھول کر اس ...

مزید پڑھیے

ہری بول

نانی کا نانہال گرچہ وہ خود عرصہ پہلے نانی بن چکی تھی اور عرصۂ دراز کے بعد اپنے نانہالی گاؤں آئی تھی لیکن سب کچھ ویسا ہی تھا۔ کچھ نہیں بدلا تھا۔ اگر بدلا بھی تھا تو بس اتنا ہی کہ نظر میں نہ آئے۔ کوئی بتائے تبھی محسوس ہو۔ ٹرین نے حسب معمول اس اونگھتے اداس اسٹیشن پر اتارا۔ وہاں سے ...

مزید پڑھیے

تھکے پاؤں

رتنا کو جانکی کٹیر ڈھونڈنے میں کوئی دشواری نہیں ہوئی۔ تقریب کا گھر ویسے بھی دور سے پہچانا جاتا ہے۔ بڑی ہی سادہ لیکن قیمتی آرائش تھی۔ اس نے دل ہی دل میں میناکشی کے گھر والوں کے ذوق کی داد دی۔ گیٹ پراستقبال کرنے والوں کا ہجوم بھی اتنا ہی تھا جتنا مہمانوں کا۔ لیکن وہ صرف میناکشی کی ...

مزید پڑھیے

بھیڑیے

گودام سےبھینسوں کی سانی کے لیے سرسوں کی کھلی نکالتے وقت انجورانی نے کھڑکی کے دونوں پٹ کھول دیے تھے اور امرائی میں کھڑے بور سے لدے آم کے درخت کسی تصویر کی طرح فریم میں جڑ اٹھے تھے۔ دور کہیں کھیت مزدوروں کے چیتی گانے کی آوازآرہی تھی۔ ایسی صاف، دلکش اور واضح جیسے وہ سرخ پھول جنہیں ...

مزید پڑھیے

نیا سال مبارک ہو

نئے سال کی شام کو دی جانے والی پارٹی کے سارے انتظامات مکمل تھے۔ بس صرف اپنے چہرے کی مرمت اور رنگ و روغن کے لیے بیوٹی پارلر جانا باقی رہ گیا تھا اور راستے سے کچھ خشک میوے خریدنے تھے۔ ثروت نے گاڑی گیراج سے نکالی ہی تھی کہ مالی کی بیوی دوڑتی ہوئی آئی دکھائی دی۔ سرد ہوا کی بوچھار سے ...

مزید پڑھیے

ڈے کیئر

وہاں ہمیشہ میلہ لگارہتاتھا ۔کھوے سے کھوا چھلتا۔ خلقت یوں امڈی آتی تھی جیسے مفت کچھ بٹ رہاہو۔ لیکن مفت کچھ بٹتاہوتاتو کیاسب کے چہرے ایسے ہوتے ؟ سُتے ہوئے، متردد آنکھوں والے ، موت کی پرچھائیاں جن پر رقص کرتی ہوتی تھیں ۔ اپنی موت کی نہیں تو کسی عزیز کی موت کے اندیشے کی ۔ کہیں امید ...

مزید پڑھیے

بی بی کی نیاز

مرزا اسلم بیگ آگے آگے اپنی کھڑکھڑیا سائیکل پر اور پیچھے پیچھے سفید برقعے میں ملفوف وہ خاتون میاں جان محمد کے رکشے میں۔ گود میں آٹھ ماہ کا دبلاپتلا مریل بچہ جو معلوم ہو کہ ابھی پیدا ہوا ہے۔ وہ بھی قبل از وقت۔ ایک گوری چٹی تین سالہ بچی بغل میں دبکی ہوئی۔ تازہ چھدی ناک میں سیاہ ...

مزید پڑھیے

ان کی عید

منیر میاں نے حسب دستور مشینی انداز میں وضو کیا اور گھٹنوں پرہاتھ رکھ کر اٹھے۔ جسم جیسے گیلاآٹا ہورہا تھا، جدھر جھکو ادھر ڈھلک جائے۔ ’’آتا ہوں نیک بخت۔‘‘ انہوں نے بیوی سے کہا، جو پچھلے دوسال میں بیس برس کا سفر طے کرچکی تھیں۔ ہاتھوں میں رعشہ اور نظر کم زور۔ وہ بھی گھٹنوں پر ...

مزید پڑھیے

انگوٹھی

اس غریب برہمن کسان کے گھر پکھراج کی وہ قیمتی انگوٹھی کہاں سے آئی یہ بھی دراصل ایک داستان ہی تھی۔ وہ غریب کسان دراصل اتنا غریب بھی نہ ہوتا اگر وہ چمپارن میں نہ ہوتا اور نیل کی کاشت کرانے والے نلہے صاحبوں نے اسے محتاجی کی کگار پر نہ لاکھڑا کیا ہوتا۔ زمین تو اس کے پاس اچھی خاصی تھیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5912 سے 6203