قومی زبان

دور ساغر کا چلے ساقی دوبارا ایک اور

دور ساغر کا چلے ساقی دوبارا ایک اور ابر کعبہ سے اٹھا ہے مان کہنا ایک اور جھومتا آتا ہے وہ بادل کا ٹکڑا ایک اور ساقیا بھر کر پلا دے جام صہبا ایک اور دن کو جو کچھ تم نے دیکھا یہ تو تھی سب دل لگی شب کو رہ جاؤ تو دکھلائیں تماشا ایک اور میں انہیں کہتا ہوں تم بے درد ہو نا آشنا وہ لگاتے ...

مزید پڑھیے

ملتے ہیں ہاتھ، ہاتھ لگیں گے انار کب

ملتے ہیں ہاتھ، ہاتھ لگیں گے انار کب جوبن کا ان کے دیکھیے ہوگا ابھار کب عشاق منتظر ہیں قیامت کب آئے گی بے پردہ منہ دکھائے گا وہ پردہ دار کب اک روز اپنی جان پہ ہم کھیل جائیں گے تم پوچھتے رہوگے یوں ہی بار بار کب بیکس کو کون روئے غریبوں کا کون ہے میری لحد پہ شمع ہوئی اشک بار کب کون ...

مزید پڑھیے

چاہت غمزے جتا رہی ہے

چاہت غمزے جتا رہی ہے وحشت صحرا دکھا رہی ہے غنچوں کا جگر ہلا رہی ہے بلبل کیا گل کھلا رہی ہے یوسف کا پتا لگا رہی ہے خوشبو کنعاں میں آ رہی ہے شیریں کیا رنگ لا رہی ہے عاشق کا لہو بہا رہی ہے کس شوخ کو دیجئے دل زار کس میں صاحب وفا رہی ہے آوازۂ فیض ہے جہاں میں جس کی شہرت سدا رہی ...

مزید پڑھیے

ترے جلال سے خورشید کو زوال ہوا

ترے جلال سے خورشید کو زوال ہوا ترے جمال سے مہتاب کو کمال ہوا خرام ناز میں ان کو یہ کب خیال ہوا کہ دل کسی کا پسا کوئی پائمال ہوا شباب سے تری رنگت کا طرفہ حال ہوا سپید جوڑا جو پہنا بدن میں لال ہوا جو وصل یار کی تدبیر کی وصال ہوا خیال عیش کا آیا تو اک ملال ہوا ہلال بدر ہوا بدر سے ...

مزید پڑھیے

سکۂ داغ جنوں ملتے جو دولت مانگتا

سکۂ داغ جنوں ملتے جو دولت مانگتا تنگ کرتی مفلسی گر میں فراغت مانگتا رنج سے فرصت نہ ملتی میں جو راحت مانگتا بوجھ ہوتا سر پہ گر قاروں کی دولت مانگتا گر مجھے ہوتی خبر میرا مسیحا آئے گا اے اجل اک دم کی میں بھی تجھ سے مہلت مانگتا خضر کی سی زندگی ہوتی جو مجھ ناکام کی میں دعائے وصل ...

مزید پڑھیے

نگاہوں میں اقرار سارے ہوئے ہیں

نگاہوں میں اقرار سارے ہوئے ہیں ہم ان کے ہوئے وہ ہمارے ہوئے ہیں جن آنکھوں میں آنسو چکارے ہوئے ہیں ہم ان کی نگاہوں کے مارے ہوئے ہیں نہ کھٹکیں کہو کس طرح تیر مژگاں جگر پر ہمارے اتارے ہوئے ہیں جھڑے جو تری کفش زریں کے ذرے فلک پر وہ جا کر سیارے ہوئے ہیں عبث جان دیتی ہے بلبل گلوں ...

مزید پڑھیے

آنکھوں پہ وہ زلف آ رہی ہے

آنکھوں پہ وہ زلف آ رہی ہے کالی جادو جگا رہی ہے زنجیر جو کھڑکھڑا رہی ہے وحشت کیا غل مچا رہی ہے لیلیٰ خاکہ اڑا رہی ہے مجنوں کو ہوا بتا رہی ہے زلفیں وہ پری ہلا رہی ہے دیوانوں کی شامت آ رہی ہے پامال خرام ہو چکے دفن پسنے کو بس اب حنا رہی ہے ہیں چال سے ان کی زندہ درگور مردوں پہ قیامت ...

مزید پڑھیے

ہمارے سامنے کچھ ذکر غیروں کا اگر ہوگا

ہمارے سامنے کچھ ذکر غیروں کا اگر ہوگا بشر ہیں ہم بھی صاحب دیکھیے ناحق کا شر ہوگا نہ مڑ کر تو نے دیکھا اور نہ میں تڑپا نہ خنجر نہ دل ہووے گا تیرا سا نہ میرا سا جگر ہوگا میں کچھ مجنوں نہیں ہوں جو کہ صحرا کو چلا جاؤں تمہارے در سے سر پھوڑوں گا سودا بھی اگر ہوگا چمن میں لائی ہوگی تو ...

مزید پڑھیے

نہیں ممکن کہ ترے حکم سے باہر میں ہوں

نہیں ممکن کہ ترے حکم سے باہر میں ہوں اے صنم تابع فرمان مقدر میں ہوں دل تو حیران ہے کیوں ششدر و مضطر میں ہوں عشق کہتا ہے کہ اس پردہ کے اندر میں ہوں پیر و سلسلۂ زلف معنبر میں ہوں طوق سے عذر نہ زنجیر سے باہر میں ہوں آب روئے صدف و زینت گوش محبوب در نایاب جو سنتے ہو وہ گوہر میں ...

مزید پڑھیے

جیتے جی کے آشنا ہیں پھر کسی کا کون ہے

جیتے جی کے آشنا ہیں پھر کسی کا کون ہے نام کے اپنے ہوا کرتے ہیں اپنا کون ہے جان جاں تیرے سوا رشک مسیحا کون ہے مار کر ٹھوکر جلا دے مجھ کو ایسا کون ہے یہ سیہ خیمہ ہے کس کا اس میں لیلیٰ کون ہے چنبر افلاک کے پردے میں بیٹھا کون ہے ہم نہ کہتے تھے کہ سودا زلف کا اچھا نہیں دیکھیے تو اب سر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5892 سے 6203