قومی زبان

گلے سے دیر تلک لگ کے روئیں ابر و سحاب

گلے سے دیر تلک لگ کے روئیں ابر و سحاب ہٹا دیے ہیں زمان و مکاں کے ہم نے حجاب لحد کی مٹی کی تقدیر کی امان میں دوں سفید لٹھے میں کفنا کے سرخ شاخ گلاب میں آسمان ترے جسم پہ بچھا دیتا مگر یہ نیل میں چادر بنی نہیں کمخواب ترا وہ راتوں کو اٹھ کر سسک سسک رونا لہو میں نیند کی ٹیسیں پلک پہ ...

مزید پڑھیے

یہ ترے حسن کا آویزہ جو مہتاب نہیں

یہ ترے حسن کا آویزہ جو مہتاب نہیں کعبۂ عشق نہیں روضہ یک خواب نہیں ایک کولاژ بناتی ہے تری خاموشی خط انکار نہیں صورت ایجاب نہیں کہر کی رحل پہ اور دھند کے جزدان میں وہ اک صحیفہ ہے کہ جس پر کوئی اعراب نہیں اک کہانی کے پس و پیش تری آہٹ ہے گھاس کے کنج نہیں کائی کے تالاب نہیں تیرے ...

مزید پڑھیے

سلونی سردیوں کی نظم

پرانے بوٹ ہیں تسمے کھلے ہیں ابھی مٹی کے چہرے ان دھلے ہیں شرابیں اور مشکیزہ سحر کا ابھی ہے جسم پاکیزہ گجر کا ستے چہرے پہ استہزا کا موسم لہو نبضوں سے خالی کر گیا ہے گلے میں ملک کے تعویذ ڈالو بدیسی برچھیوں سے ڈر گیا ہے غزل دالان میں رکھی ہے میں نے مہک ہے سنگترے کی قاش جیسی یہ کیسی مے ...

مزید پڑھیے

صدائیں قید کروں آہٹیں چرا لے جاؤں

صدائیں قید کروں آہٹیں چرا لے جاؤں مہکتے جسم کی سب خوشبوئیں اڑا لے جاؤں بلا کا شور ہے طوفان آ گیا شاید کہاں کا رخت سفر خود کو ہی بچا لے جاؤں تری امانتیں محفوظ رکھ نہ پاؤں گا دوبارہ لوٹ کے آنے کی بس دعا لے جاؤں کہا ہے دریا نے وہ شرط ہار جائے گا جو ایک دن میں اسے ساتھ میں بہا لے ...

مزید پڑھیے

ہوائیں تیز تھیں یہ تو فقط بہانے تھے

ہوائیں تیز تھیں یہ تو فقط بہانے تھے سفینے یوں بھی کنارے پہ کب لگانے تھے خیال آتا ہے رہ رہ کے لوٹ جانے کا سفر سے پہلے ہمیں اپنے گھر جلانے تھے گمان تھا کہ سمجھ لیں گے موسموں کا مزاج کھلی جو آنکھ تو زد پہ سبھی ٹھکانے تھے ہمیں بھی آج ہی کرنا تھا انتظار اس کا اسے بھی آج ہی سب وعدے ...

مزید پڑھیے

بادباں کھولے گی اور بند قبا لے جائے گی

بادباں کھولے گی اور بند قبا لے جائے گی رات پھر آئے گی پھر سب کچھ بہا لے جائے گی خواب جتنے دیکھنے ہیں آج سارے دیکھ لیں کیا بھروسہ کل کہاں پاگل ہوا لے جائے گی یہ اندھیرے ہیں غنیمت کوئی رستہ ڈھونڈ لو صبح کی پہلی کرن آنکھیں اٹھا لے جائے گی ہوش مندوں سے بھرے ہیں شہر اور جنگل ...

مزید پڑھیے

بدن بھیگیں گے برساتیں رہیں گی

بدن بھیگیں گے برساتیں رہیں گی ابھی کچھ دن یہ سوغاتیں رہیں گی تڑپ باقی رہے گی جھوٹ ہے یہ ملیں گے ہم ملاقاتیں رہیں گی نظر میں چہرہ کوئی اور ہوگا گلے میں جھولتی بانہیں رہیں گی سفر میں بیت جانا ہے دنوں کو مسلسل جاگتی راتیں رہیں گی زبانیں نطق سے محروم ہوں گی صحیفوں میں مناجاتیں ...

مزید پڑھیے

گزر گئے ہیں جو موسم کبھی نہ آئیں گے

گزر گئے ہیں جو موسم کبھی نہ آئیں گے تمام دریا کسی روز ڈوب جائیں گے سفر تو پہلے بھی کتنے کیے مگر اس بار یہ لگ رہا ہے کہ تجھ کو بھی بھول جائیں گے الاؤ ٹھنڈے ہیں لوگوں نے جاگنا چھوڑا کہانی ساتھ ہے لیکن کسے سنائیں گے سنا ہے آگے کہیں سمتیں بانٹی جاتی ہیں تم اپنی راہ چنو ساتھ چل نہ ...

مزید پڑھیے

ہمارے بارے میں کیا کیا نہ کچھ کہا ہوگا

ہمارے بارے میں کیا کیا نہ کچھ کہا ہوگا چلیں گے ساتھ تو دنیا کا سامنا ہوگا وہ ایک شخص جو پتھر اٹھا کے دوڑا تھا ضرور خواب کی کڑیاں ملا رہا ہوگا ہمارے بعد اک ایسا بھی دور آئے گا وہ اجنبی ہی رہے گا جو تیسرا ہوگا خزاں پسند ہمیں ڈھونڈنے کو نکلے ہیں ہمارے درد کا قصہ کہیں سنا ہوگا جو ...

مزید پڑھیے

دور تک پھیلا سمندر مجھ پہ ساحل ہو گیا

دور تک پھیلا سمندر مجھ پہ ساحل ہو گیا لوٹ کر جانا یہاں سے اور مشکل ہو گیا داخلہ ممنوع لکھا تھا فصیل شہر پر پڑھ تو میں نے بھی لیا تھا پھر بھی داخل ہو گیا خواب ہی بازار میں مل جاتے ہیں تعبیر بھی پہلے لوگوں سے سنا تھا آج قائل ہو گیا اس ہجوم بے کراں سے بھاگ کر جاتا کہاں تم نے روکا تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5877 سے 6203