گلے سے دیر تلک لگ کے روئیں ابر و سحاب
گلے سے دیر تلک لگ کے روئیں ابر و سحاب ہٹا دیے ہیں زمان و مکاں کے ہم نے حجاب لحد کی مٹی کی تقدیر کی امان میں دوں سفید لٹھے میں کفنا کے سرخ شاخ گلاب میں آسمان ترے جسم پہ بچھا دیتا مگر یہ نیل میں چادر بنی نہیں کمخواب ترا وہ راتوں کو اٹھ کر سسک سسک رونا لہو میں نیند کی ٹیسیں پلک پہ ...