قومی زبان

لہو رگوں میں سنبھالا نہیں گیا مجھ سے

لہو رگوں میں سنبھالا نہیں گیا مجھ سے کسی دشا میں اچھالا نہیں گیا مجھ سے سڈول بانہوں میں بھرتا میں لوچ ساون کا وہ سنگ موم میں ڈھالا نہیں گیا مجھ سے میں خواب پڑھتا تھا ہمسائیگی کی ابجد سے مگر وہ حسن خیالا نہیں گیا مجھ سے وہی ہے میرے لہو میں چمک الوہی سی سمے اجالنے والا نہیں گیا ...

مزید پڑھیے

ادا ہے خواب ہے تسکین ہے تماشا ہے

ادا ہے خواب ہے تسکین ہے تماشا ہے ہماری آنکھ میں اک شخص بے تحاشا ہے ذرا سی چائے گری اور داغ داغ ورق یہ زندگی ہے کہ اخبار کا تراشا ہے تمہارا بولتا چہرہ پلک سے چھو چھو کر یہ رات آئینہ کی ہے یہ دن تراشا ہے ترے وجود سے بارہ دری دمک اٹھی کہ پھول پلو سرکنے سے ارتعاشا ہے میں بے زباں ...

مزید پڑھیے

کنول جو وہ کنار آب جو نہ ہو

کنول جو وہ کنار آب جو نہ ہو کسی بھی اپسرا سے گفتگو نہ ہو قضا ہوا ہے ایک جسم بے طرح کہیں ہماری آنکھ بے وضو نہ ہو ہتھیلیوں میں بھر کے بات تو کریں چراغ کو مکالمے کی خو نہ ہو دمک رہا ہے کیسری حجاب سے اس آئینے میں کوئی ہو بہ ہو نہ ہو میں کیا کروں گا رہ کے اس جہان میں جہاں پہ ایک خواب ...

مزید پڑھیے

رستے میں عجب آثار ملے

رستے میں عجب آثار ملے جوں کوئی پرانا یار ملے جس طرح کڑکتی دھوپوں میں دو جسموں کو دیوار ملے جس طرح مسافر گاڑی میں اک رشتے کی مہکار ملے جس طرح پرانے کپڑوں سے اک چوڑی خوشبو دار ملے جس طرح اندھیرے کھیتوں میں اک رت مشعل بردار ملے جس طرح کوئی ہنس مکھ بالک جس طرح غصیلی نار ملے جس ...

مزید پڑھیے

اک وظیفہ ہے کسی درد کا دہرایا ہوا

اک وظیفہ ہے کسی درد کا دہرایا ہوا جس کی زد میں ہے پہاڑوں کا دھواں آیا ہوا یہ ترے عشق کی میقات یہ ہونی کی ادا دھوپ کے شیشے میں اک خواب سا پھیلایا ہوا باندھ لیتے ہیں گرہ میں اسی منظر کی دھنک ہم نے مہمان کو کچھ دیر ہے ٹھہرایا ہوا طائرو ابر و ہوا بھی ہیں اسی الجھن میں کیسے دو ہونٹوں ...

مزید پڑھیے

دل یار کا تخت ہوا ہی نہیں

دل یار کا تخت ہوا ہی نہیں جیون خوش بخت ہوا ہی نہیں اسے توڑنا بھی تو نرمی سے یہ دل کبھی سخت ہوا ہی نہیں آنکھوں نے بہت اصرار کیا سپنا دو لخت ہوا ہی نہیں ہم ہنس کر اسے رلا دیتے وہ اور کرخت ہوا ہی نہیں تجھ شہر تجھے ہم آ ملتے کوئی ساز و رخت ہوا ہی نہیں ہم چھاؤں بچھاتے دور تلک کوئی ...

مزید پڑھیے

لہو میں رنگ سخن اس کا بھر کے دیکھتے ہیں

لہو میں رنگ سخن اس کا بھر کے دیکھتے ہیں چراغ بام سے جس کو اتر کے دیکھتے ہیں ملائمت ہے غزل کی سی اس کی باتوں میں یہ بات ہے تو چلو بات کرکے دیکھتے ہیں صحیفۂ لب و رخسار و پیرہن اس کا تلاوتوں میں ہیں پتے شجر کے دیکھتے ہیں بلا کے نامے ہیں دو سیپیائی آنکھوں میں گریز و گردش و غمزے نظر ...

مزید پڑھیے

سر کو آواز سے وحشت ہی سہی

سر کو آواز سے وحشت ہی سہی اور وحشت میں اذیت ہی سہی خاک زادی ترے عشاق بہت میں تری یاد سے غارت ہی سہی وہ کہاں ہیں کہ جو مصلوب نہ تھے میری مٹی میں بغاوت ہی سہی آہ و آہنگ و اہانت کے کنار اے مری پیاس پہ تہمت ہی سہی خود سے میثاق غلط تھا میرا اے ترے خواب ضرورت ہی سہی عشق اے عشق عزادار ...

مزید پڑھیے

اس جادہ عشاق کی تقدیر عجب ہے

اس جادہ عشاق کی تقدیر عجب ہے مٹھی میں جہاں پاؤں میں زنجیر عجب ہے بے وقعت و کم مایہ سہی خواب ہمارے خوابوں سے الگ ہونے کی تعزیر عجب ہے میں شعر کہوں اور ترے نام پہ رو دوں یہ رنج کا پیرایۂ دلگیر عجب ہے آنکھوں میں بچھے سرمئی مخمل کی ادا اور محمل میں پھٹے ہونٹوں کی تحقیر عجب ہے ہر ...

مزید پڑھیے

کہانیوں نے ذرا کھینچ کر بدن اپنے

کہانیوں نے ذرا کھینچ کر بدن اپنے حرم سرا سے بلایا ہمیں وطن اپنے کھلے گلے کی قمیصیں کھلے گلے کے فراق یہ لڑکیاں ہیں بدلتی ہیں پیرہن اپنے غدر کے پھول سجاتی ہیں ایسے بالوں میں سنبھال سکتی ہوں جیسے بھرے بدن اپنے عجب بھڑک ہے شرابوں کی اور آنکھوں کی بلا ہے حسن بدکنے لگے ہیں بن ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5876 سے 6203