نگاہوں کو زباں کرنا خموشی کو بیاں کرنا
نگاہوں کو زباں کرنا خموشی کو بیاں کرنا عیاں کرنا بھی راز دل کبھی تو یوں عیاں کرنا ہوائے سود میں رہنا نہ پروائے زیاں کرنا حقیقت میں ہے سامان نشاط جاوداں کرنا کشیدہ ہو گئے تم جب کشش ثابت ہوئی دل کی سمجھ کر چاہئے تھا جذب دل کا امتحاں کرنا وفا کا ذکر خود کرنا خلاف رسم الفت ہے سبک ...