قومی زبان

نگاہوں کو زباں کرنا خموشی کو بیاں کرنا

نگاہوں کو زباں کرنا خموشی کو بیاں کرنا عیاں کرنا بھی راز دل کبھی تو یوں عیاں کرنا ہوائے سود میں رہنا نہ پروائے زیاں کرنا حقیقت میں ہے سامان نشاط جاوداں کرنا کشیدہ ہو گئے تم جب کشش ثابت ہوئی دل کی سمجھ کر چاہئے تھا جذب دل کا امتحاں کرنا وفا کا ذکر خود کرنا خلاف رسم الفت ہے سبک ...

مزید پڑھیے

میں تو فدائے نرگس مستانہ ہو گیا

میں تو فدائے نرگس مستانہ ہو گیا پیمانہ سے دل اب مرا مے خانہ ہو گیا ہر رنگ میں مجھے ہے مع مشک بو کا رنگ جو ظرف ہاتھ آ گیا پیمانہ ہو گیا کچھ مخمصات دہر تھے دیوانگی سے کم اچھا ہوا کہ عشق میں دیوانہ ہو گیا دل چاہئے گداز نہیں زور و زر سے کام اپنی مثال عشق میں پروانہ ہو گیا ہوتا نہ ...

مزید پڑھیے

ہجر کی شب زلف برہم کا خیال آتا رہا

ہجر کی شب زلف برہم کا خیال آتا رہا اک نہ اک ہر دن مرے سر پر وبال آتا رہا شکر ہے تاریک دل میں روشنی کے واسطے گو تصور میں سہی اس کا جمال آتا رہا ہے کرم اس کا کہ ہم سے بے بصر کے واسطے عالم امثال میں وہ بے مثال آتا رہا بھولنے والے کو آخر دل بھلائے کس طرح بے خیالی میں بھی جب اس کا خیال ...

مزید پڑھیے

مزا آتا کسی صورت اگر ترک وفا ہوتا

مزا آتا کسی صورت اگر ترک وفا ہوتا تمہاری طرح میں بھی بے وفا ہوتا تو کیا ہوتا مصیبت ہو گئی آخر تمنا کی گرفتاری اگر بے مدعا ہوتا تو بندہ بھی خدا ہوتا یہ شان بے نیازی ہے خدا معلوم ہوتا ہے خدا معلوم کیا ہوتا اگر وہ بت خدا ہوتا نہ رہتا یوں پریشاں رات دن میں فکر درماں میں جو مجھ کو ...

مزید پڑھیے

جو گل کھلا وہ داغ دل بوستاں ہوا

جو گل کھلا وہ داغ دل بوستاں ہوا عبرت نگاہ دل نہ کبھی شادماں ہوا جو دل میں رہ سکا نہ زباں سے بیاں ہوا بن کر جنوں وہ راز محبت عیاں ہوا کہنے سے غیر کے ہوئے وہ تیغ آزما مجھ کو نہ آزمائیں کہ بس امتحاں ہوا اس خود فریب دل کو امیدیں ہیں اور وہ نا مہرباں ہوا نہ کبھی مہرباں ہوا اکثر رہا ...

مزید پڑھیے

موت نے مسکرا کے پوچھا ہے

موت نے مسکرا کے پوچھا ہے زندگی کا مزاج کیسا ہے اس کی آنکھوں میں میری غزلیں ہیں میری غزلوں میں اس کا چہرا ہے اس سے پوچھو عذاب رستوں کا جس کا ساتھی سفر میں بچھڑا ہے چاندنی صرف ہے فریب نظر چاند کے گھر میں بھی اندھیرا ہے عشق میں بھی مزہ ہے جینے کا غم اٹھانے کا گر سلیقہ ہے چھوڑ ...

مزید پڑھیے

دل لگایا ہے تو نفرت بھی نہیں کر سکتے

دل لگایا ہے تو نفرت بھی نہیں کر سکتے اب ترے شہر سے ہجرت بھی نہیں کر سکتے آخری وقت میں جینے کا سہارا ہے یہی تیری یادوں سے بغاوت بھی نہیں کر سکتے جھوٹ بولے تو جہاں نے ہمیں فن کاری کہا اب تو سچ کہنے کی ہمت بھی نہیں کر سکتے اس نئے دور نے ماں باپ کا حق چھین لیا اپنے بچوں کو نصیحت بھی ...

مزید پڑھیے

آئے بالیں پہ مرے عیسی دوراں ہو کر

آئے بالیں پہ مرے عیسی دوراں ہو کر کیوں مگر بیٹھ گئے سر بہ گریباں ہو کر رونق بزم تو ہوں صورت پروانہ مگر آزمائیں تو مجھے شمع فروزاں ہو کر نہ تو جینے کا مزہ ہے نہ سکوں مرنے میں زندگی رہ گئی اک خواب پریشاں ہو کر ہم نفس پوچھ تو لے حال نشیمن بھی ذرا برق صیاد کے گھر آئی گلستاں ہو کر نہ ...

مزید پڑھیے

غیر سے رسم و راہ کیوں میں نے سنا دیا کہ یوں

غیر سے رسم و راہ کیوں میں نے سنا دیا کہ یوں اس نے پکڑ کے ہاتھ سے مجھ کو اٹھا دیا کہ یوں مجھ کو نکما کہہ دیا میں نے کہا بھلا یہ کیوں آئنہ لے کے ہاتھ میں اس نے دکھا دیا کہ یوں مردہ دلوں میں زندگی آتی ہے کیسے عود کر رخ سے نقاب زلف کو اس نے ہٹا دیا کہ یوں پیار سے پیش آ کے جو وجہ ملال ...

مزید پڑھیے

درد دل کے ساتھ ہے زخم جگر کس سے کہوں

درد دل کے ساتھ ہے زخم جگر کس سے کہوں بن گئی ہے عاشقی بھی درد سر کس سے کہوں مر رہا ہوں جا رہا ہوں موت کی آغوش میں اف خدا ہوتی نہیں ان کو خبر کس سے کہوں آشیاں احباب نے چھینا کیا بے گھر مجھے ہائے پھر کاٹے ہیں میرے بال و پر کس سے کہوں زخم دل میں پھول ہیں گو رنگ و نکہت کچھ نہیں جیسے ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5820 سے 6203