قومی زبان

وہ شخص کیا ہے مرے واسطے سنائیں اسے

وہ شخص کیا ہے مرے واسطے سنائیں اسے ہوا میں میرے حوالے سے گنگنائیں اسے اداس راتوں میں آوارہ گرد بنجارے ہٹا لیں بانسری ہونٹوں سے اور گائیں اسے وہ میرا دل ہے کوئی ریت کا گھروندا نہیں کہ شوخ موجیں مٹائیں اسے بنائیں اسے ہے دل میں درد کا لشکر پڑاؤ ڈالے ہوئے ملے وہ جان غزل تو کہاں ...

مزید پڑھیے

اتنا یقین رکھ کہ گماں باقی رہے

اتنا یقین رکھ کہ گماں باقی رہے ایک ذرا کار جہاں باقی رہے باقی رہے یادوں کی اک قوس قزح یعنی مری جائے اماں باقی رہے شورش خوں رقص جنوں ختم نہ ہو قہقہہ ہم نفساں باقی رہے آتا رہے یوں ہی سدا موسم گل سلسلۂ دل زدگاں باقی رہے قافلۂ غم گزراں کی بھی سنا حوصلۂ ہم سفراں باقی رہے قید قفس ...

مزید پڑھیے

اس کی جام جم آنکھیں شیشۂ بدن میرا

اس کی جام جم آنکھیں شیشۂ بدن میرا اس کی بند مٹھی میں سارا بانکپن میرا میں نے اپنے چہرے پر سب ہنر سجائے تھے فاش کر گیا مجھ کو سادہ پیرہن میرا دل بھی کھو گیا شاید شہر کے سرابوں میں اب مری طرح سے ہے درد بے وطن میرا ایک دشت خاموشی اب مرا مقدر ہے یاد بے صدا تیری زخم بے چمن میرا آؤ آج ...

مزید پڑھیے

اک حقیقت ہوں اگر اظہار ہو جاؤں گا میں

اک حقیقت ہوں اگر اظہار ہو جاؤں گا میں جانے کس کس جرم کا اقرار ہو جاؤں گا میں کاٹ لو اب کے مجھے بھی خواہشوں کی فصل پر زندگی اک خواب ہے بیدار ہو جاؤں گا میں رفتہ رفتہ باغ کی سب تتلیاں کھو جائیں گی اور اک دن خود سے بھی بیزار ہو جاؤں گا میں یا تو اک دن توڑ ڈالوں گا حصار آگہی یا کسی ...

مزید پڑھیے

بڑا مخلص ہوں پابند وفا ہوں

بڑا مخلص ہوں پابند وفا ہوں کسی کی سادگی پر رو پڑا ہوں مری قیمت زمین و آسماں ہے بہت انمول ہوں پھر بھی بکا ہوں چھلکتا جام ہوں پھر بھی ہوں پیاسا میں اپنے آپ میں اک کربلا ہوں نہ جانے گفتگو کیا گل کھلائے تمہاری خامشی سے جل گیا ہوں کتاب دل کو دیمک لگ گئی ہے تمہارا نام کیا ہے ...

مزید پڑھیے

قدم قدم پہ نیا امتحاں ہے میرے لیے

قدم قدم پہ نیا امتحاں ہے میرے لیے یہ شہر آج بھی اک ہفت خواں ہے میرے لیے نہیں ہے اب کوئی احساس روز و شب بھی مجھے بس ایک عرصۂ پیکار جاں ہے میرے لیے نہ رہ گزار شجر دار ہے نہ آب و سحاب یہ تیز دھوپ یہ صحرائے جاں ہے میرے لیے میں اک ستارہ ہوں اس کے فلک سے ٹوٹا ہوا وہ دھند ہوتی ہوئی ...

مزید پڑھیے

وہ نشانہ بھی خطا جاتا تو بہتر ہوتا

وہ نشانہ بھی خطا جاتا تو بہتر ہوتا آخری تیر نہ لگتا تو میں پتھر ہوتا تشنگی اپنی صداؤں سی بھٹکتی ہوتی ریت کا ڈھیر سرابوں کا سمندر ہوتا پھر وہی قصہ وہ اک بار سناتا مجھ کو پھر نگاہوں میں وہی خواب سا منظر ہوتا میں نے ہی کاٹ دیں سب پھیلتی شاخیں ورنہ اس گھنے پیڑ کا سایہ مرے سر پر ...

مزید پڑھیے

ابھی گناہ کا موسم ہے آ شباب میں آ

ابھی گناہ کا موسم ہے آ شباب میں آ نشہ اترنے سے پہلے مری شراب میں آ دھنک سی خواب سی خوشبو سی پھر برس مجھ پر نئی غزل کی طرح تو مری کتاب میں آ اٹھا نہ دیر تک احسان موسم گل کا میں زندگی ہوں مجھے جی مرے عذاب میں آ وہ میرے لب کے پرندے وہ تیرا جھیل بدن بجھا نہ پیاس مری تو مگر سراب میں ...

مزید پڑھیے

اپنی آنکھوں کو امیدوں سے سجائے رکھنا

اپنی آنکھوں کو امیدوں سے سجائے رکھنا جلتی راتوں میں کوئی خواب بچائے رکھنا لوٹ کر آؤں گا پھر گاؤں تمہارے اک دن اپنے دروازے پہ اک دیپ جلائے رکھنا اجنبی جان کے پتھر نہ سواگت کو بڑھیں اپنی گلیوں کو مرا نام بتائے رکھنا سونے ساون میں ستائے گی بہت پروائی درد کو دل میں مگر اپنے دبائے ...

مزید پڑھیے

انا رہی نہ مری مطلق العنانی کی

انا رہی نہ مری مطلق العنانی کی مرے وجود پہ اک دل نے حکمرانی کی کرم کیا کہ بکھرنے دیا نہ اس نے مجھے مرے جنوں کی حفاظت کی مہربانی کی پہاڑ کاٹنا اک مشغلہ تھا بچپن سے کڑے دنوں میں بھی تیشے سی نوجوانی کی بدن کہ اڑنے کو پر تولتا پرندہ سا کسی کمان سی چڑھتی ندی جوانی کی کمالؔ میں نے تو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5780 سے 6203