قومی زبان

زمیں سے چل کے تو پہنچا ہوں آسماں تک میں

زمیں سے چل کے تو پہنچا ہوں آسماں تک میں سفر کا بوجھ اٹھائے پھروں کہاں تک میں ازل وجود سفر راستے کی دھند عدم قصوروار ہوں ترتیب داستاں تک میں سکون زیست عبارت تھا جس کی یادوں سے بھلا چکا ہوں وہ حرف قرار جاں تک میں یہ سوچ کر نہ کوئی راستے میں لٹ جائے دئے جلاتا چلا کوئے دلبراں تک ...

مزید پڑھیے

شیام گوکل نہ جانا کہ رادھا کا جی اب نہ بنسی کی تانوں پہ لہرائے گا

شیام گوکل نہ جانا کہ رادھا کا جی اب نہ بنسی کی تانوں پہ لہرائے گا کس کو فرصت غم زندگی سے یہاں کون بے وقت کے راگ سن پائے گا اس گلی سے چلی درد کی رو مگر شہر میں اہل دل ہیں نہ اہل نظر جانے کس سر سے گزرے گی یہ موج خوں جانے کس گھر یہ سیلاب غم جائے گا ظلمت غم سے اتنے ہراساں نہ ہو کون مشکل ...

مزید پڑھیے

درد کی لہر یقیناً مرے گھر جائے گی

درد کی لہر یقیناً مرے گھر جائے گی میں نہ ہوں گا تو خدا جانے کدھر جائے گی موجۂ خوں سے گزرنا ہے گزر جائے گی چار دن بعد یہ ندی بھی اتر جائے گی کون کر سکتا ہے افکار و نظر کو محصور کام خوشبو کا بکھرنا ہے بکھر جائے گی منزل زیست تجھے میں نہ کروں گا مایوس میں نہ پہنچا تو مری گرد سفر جائے ...

مزید پڑھیے

نہ کرب‌ ہجر نہ کیفیت وصال میں ہوں

نہ کرب‌ ہجر نہ کیفیت وصال میں ہوں مجھے نہ چھیڑئیے اب میں عجیب حال میں ہوں تمام رنگ عبارت میں سوز جاں سے مرے میں حسن ذات ہوں اور منزل جمال میں ہوں مرا وجود ضرورت ہے ہر زمانے کی میں روشنی کی طرح ذہن ماہ و سال میں ہوں ابھی وسیلۂ اظہار ڈھونڈھتی ہے نگاہ ابھی سوال کہاں حسرت سوال میں ...

مزید پڑھیے

جب بھی تنہائی کبھی ہوتی ہے حاصل مجھ کو

جب بھی تنہائی کبھی ہوتی ہے حاصل مجھ کو وقت رکھ دیتا ہے میرے ہی مقابل مجھ کو آخری عمر کی افتاد گئی طبع کی خیر راس آتا ہے الم زار نہ محفل مجھ کو ایک بار اور میں جی پاؤں تو شاید حل ہوں زندگانی نے دئے ایسے مسائل مجھ کو عشق اتنا بھی ہے کافی کہ تجھے چاہتا ہوں اتنا حاصل ہے تو کیا کچھ ...

مزید پڑھیے

جب سے دریا میں ہے طغیانی بہت

جب سے دریا میں ہے طغیانی بہت پار جانے میں ہے آسانی بہت کوئی منظر بھی نہیں اچھا لگا اب کے آنکھوں میں ہے ویرانی بہت اپنی قیمت تو نہیں لیکن یہاں ایسے گوہر کی ہے ارزانی بہت کھیت ہیں بنجر تو صحرا بے نمو ورنہ دریاؤں میں ہے پانی بہت اس کے چہرے پر مری آنکھیں سجیں میرے چہرے پر تھی ...

مزید پڑھیے

نہ گھر سکون کدہ ہے نہ کارخانۂ عشق

نہ گھر سکون کدہ ہے نہ کارخانۂ عشق مگر یہ ہم ہیں کہ لکھتے رہے ہیں نامۂ عشق بہت سے نام تھے اب کوئی یاد آتا نہیں ہمارے دل میں رہا دفن اک خزانۂ عشق سب اپنے اپنے طریقے سے بھیک مانگتے ہیں کوئی بنام محبت کوئی بہ جامۂ عشق تمہی پہ کیا کہ ہم اب خود پہ بھی نہیں کھلتے تو کیا یہ کم ہے کہ ہم ...

مزید پڑھیے

ہوا کے رخ پہ کھلا بادباں اندھیرے کا

ہوا کے رخ پہ کھلا بادباں اندھیرے کا یہاں پہ نام نہیں اب کسی سویرے کا اٹھا کے لے گیا ثروت کبھی کا ہے جوگی کوئی سراغ نہیں اب اسی کے پھیرے کا ہوائے گرم کے تپتے لباس میں پہروں وہ سایہ ٹانکتا ہے ہر شجر گھنیرے کا ہر ایک شاخ سے صندل کے سانپ ہیں لپٹے اثر پذیر نہیں کوئی دم سپیرے کا سکوت ...

مزید پڑھیے

رکاوٹ راستے کی میل کا پتھر نہیں ہوتا

رکاوٹ راستے کی میل کا پتھر نہیں ہوتا نظر منزل پہ ہو تو فاصلوں کا ڈر نہیں ہوتا قلعہ ایمان کا مضبوط ہو تو سر نہیں ہوتا خدا سے ڈرنے والوں کو کسی کا ڈر نہیں ہوتا بھٹکتی ہے خوشی خانہ بدوشی کی طرح در در جہاں میں مستقل اس کا کہیں بھی گھر نہیں ہوتا فقط اعمال اور کردار پر ہیں منحصر ...

مزید پڑھیے

سجدے میں تو ضرور یہ سر دیر تک رہا

سجدے میں تو ضرور یہ سر دیر تک رہا رزق حرام کا بھی اثر دیر تک رہا ہر گوشہ بدن پہ سحر دیر تک رہا آنکھوں سے گفتگو کا اثر دیر تک رہا سچائی پر سزا تھی یہاں جھوٹ پر وہاں عالم میں کشمکش کے بشر دیر تک رہا ترک تعلقات سے سلجھا نہ مسئلہ بے چین وو ادھر یہ ادھر دیر تک رہا افسوس مستفیض مسافر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5764 سے 6203