قومی زبان

کہاں ہے ایسی زمیں جس پہ آسمان نہ ہو

کہاں ہے ایسی زمیں جس پہ آسمان نہ ہو وہ کیسا شہر جہاں ایک بھی مکان نہ ہو ہمارے دشت نے اتنا تو انتظام رکھا سروں پہ دھوپ رہے کوئی سائبان نہ ہو دل و دماغ کی الجھن میں یہ کہاں ممکن کہ ذہن و دل تو تھکیں روح کو تھکان نہ ہو خود اپنی پیٹھ تو ہم تھپتھپا نہیں سکتے ہمیں ہے خوف کہ بے جا کوئی ...

مزید پڑھیے

کہاں کچھ بھی ادھورا چاہتا ہوں

کہاں کچھ بھی ادھورا چاہتا ہوں تھکا ہوں اور تھکنا چاہتا ہوں یہ ممکن تو نہیں پر کیا برا ہے جا سب اچھا ہی اچھا چاہتا ہوں سمندر چھوڑ کر صحرا میں آیا یہاں دریا ہی دریا چاہتا ہوں جہاں یہ چاند دیکھا جا رہا ہے وہاں سورج اگانا چاہتا ہوں مجھے حاصل نہیں کچھ زندگی سے مگر کیوں اور جینا ...

مزید پڑھیے

نظر تو آس کی اب اہل آسمان پہ ہے

نظر تو آس کی اب اہل آسمان پہ ہے دعا کا تیر عبث اجر کی کمان پہ ہے زمیں نصیب کہاں دور کے سفر سے اسے وہ ایک دھوپ کا ٹکڑا جو سائبان پہ ہے جسے جتن سے رکھا دل ہی دل میں وقت جنوں وہ راز شہر میں ہر ایک کی زبان پہ ہے تمام شوق دھرے کے دھرے نہ رہ جائیں جنوں کے شہر میں آفت ہماری جان پہ ہے سفر ...

مزید پڑھیے

خاک میں نے جو اڑائی تھی بیابانوں میں

خاک میں نے جو اڑائی تھی بیابانوں میں رسم ابھی تک وہ چلی آتی ہے دیوانوں میں وحشیوں کو یہ سبق دیتی ہوئی آئی بہار تار باقی نہ رہے کوئی گریبانوں میں جس کو حسرت ہو مرے دل سے نکل جانے کی ایسا ارماں نہ ہو شامل مرے ارمانوں میں مجھ سے کہتی ہے مری روح نکل کر شب غم دیکھ میں ہوں ترے نکلے ...

مزید پڑھیے

وحشت زدوں کی کتنی دلچسپ ہیں ادائیں

وحشت زدوں کی کتنی دلچسپ ہیں ادائیں کچھ دیر خون روئیں کچھ دیر مسکرائیں حیران ہیں کدھر ہم بہر تلاش جائیں آتی ہیں ہر طرف سے ان کی ہی اب صدائیں گونجی ہوئیں ہیں میرے نالوں سے یہ فضائیں یا کالی کالی راتیں کرتی ہیں سائیں سائیں اس وقت خاص رہرو ہمت نہ ہار جائیں منزل قریب سمجھیں جب ...

مزید پڑھیے

آ رہی ہے یہ طور سے آواز

آ رہی ہے یہ طور سے آواز آئے وہ جس کو تاب دید پہ ناز یہ تڑپ اور یہ آہ روح گداز ہائے ہیں اپنا خود نہیں ہم راز ہے وہیں ابتدائے سرحد ناز ہو جہاں ختم عقل کی پرواز وہ مقرر تو در کریں اپنا ڈھونڈ لے گی مری جبین نیاز ایک مضراب غم میں ٹوٹ گیا کتنا نازک تھا زندگی کا ساز پردۂ زیست اٹھا ...

مزید پڑھیے

لبریز ہو چکا ہے پیمانہ زندگی کا

لبریز ہو چکا ہے پیمانہ زندگی کا سن جاؤ اب بھی آ کر افسانہ زندگی کا جب حال آپ ہی نے پوچھا نہ زندگی کا پھر کس کو ہم سنائیں افسانہ زندگی کا اب ہم ہیں اور ظالم تیری گلی کے چکر گردش میں آ گیا ہے پیمانہ زندگی کا کیا آپ سن سکیں گے روداد یاس و حسرت کیا آپ کو سناؤں افسانہ زندگی کا آؤ کہ ...

مزید پڑھیے

بیکسی کا حال میت سے عیاں ہو جائے گا

بیکسی کا حال میت سے عیاں ہو جائے گا بے زباں ہونا مرا گویا زباں ہو جائے گا شوق سے دل کو مٹا دو لیکن اتنا سوچ لو اس کے ہر ذرے سے پیدا اک جہاں ہو جائے گا دل کے بہلانے کو آؤ آج نالے ہی کریں آسماں کے ظرف کا بھی امتحاں ہو جائے گا وقت خود مانوس کر دیتا ہے اے تازہ اسیر چند دن رہ لے قفس بھی ...

مزید پڑھیے

برسائے جتنے پھول قفس پر بہار نے

برسائے جتنے پھول قفس پر بہار نے سب چن لیے وہ میرے دل بے قرار نے دم توڑنے سے پہلے جدائی نہ کی پسند کتنا دیا ہے ساتھ شب انتظار نے ابھرے ہیں دل کی داغ بھی موسم کے ساتھ ساتھ چمکا دیا بہار کو آ کر بہار نے اک داغ تک کفن پہ نہ نکلا بروز حشر رکھا سمجھ کے تیری امانت مزار نے اے ابرؔ میرا ...

مزید پڑھیے

نشان اپنا مٹاتا جا رہا ہوں

نشان اپنا مٹاتا جا رہا ہوں ترے نزدیک آتا جا رہا ہوں میں اپنے ذوق الفت کے تصدق ستم پر مسکراتا جا رہا ہوں مسلسل بج رہا ہے بربط جور وفا کے گیت گاتا جا رہا ہوں فسانہ نزع میں ناکامیوں کا نگاہوں سے سناتا جا رہا ہوں محبت ہوتی جاتی ہے مکمل مصیبت میں سماتا جا رہا ہوں مذاق جستجو ہے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5761 سے 6203