ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں پرے سے پرے سے پراں اور بھی ہیں
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں پرے سے پرے سے پراں اور بھی ہیں
ستاروں سے آگے جہاں اور بھی ہیں پرے سے پرے سے پراں اور بھی ہیں ابھی تو تجھے ایک پھینٹی لگی ہے ابھی تو ترے امتحاں اور بھی ہیں وہ اک نار ہی تو جلاتی نہیں ہے محلے میں چنگاریاں اور بھی ہیں وہ کھڑکی نہیں کھولتے تو نہ کھولیں نظر میں مرے باریاں اور بھی ہیں یہ شیعہ یہ سنی ہے حنفی ...
ابھی تو تجھے ایک پھینٹی لگی ہے ابھی تو ترے امتحاں اور بھی ہیں
صابن کی ٹکیا ننھی سی بٹیا پانی میں چھپ چھپ کرتی ہے گپ شپ پانی بہائے چھینٹے اڑائے لو جھاگ نکلا منو کو دیکھو وہ بھاگ نکلا جب منہ کو دھلائے صابن لگائے منو اکیلا سب کو نچائے لاتیں چلائے دھم دھم دھما دھم آنسو بہائے چھم چھم چھما چھم منو کھڑا ہے کرسی کے اوپر صابن کے ڈر سے کرتا ہے تھر ...
جنگل جنگل پڑی پکار چوہے نے چھاپہ اخبار نیلے پیلے صفحے چار تصویریں چالیس ہزار اس پر خبروں کی بھر مار ایک کے اوپر ایک سوار رشتے ناطوں کے جھگڑے طوطے مینا کی تکرار پھول سجائے بلبل نے خوب رہا مینا بازار بندر کی تصویروں پر شہد کی مکھی کی یلغار گیدڑ نے اعلان کیا سارس گیا سمندر ...
اس کا موسیقار ہے خچر اس کا سا زندہ ہے بندر ناچ رہے ہیں میاں مچھندر جاگ اٹھیں سوتے آپا جب گدھے نے راگ الاپا نام ہے اس کا راگ تمنا یعنی جو جی چاہے بننا الو بولا تاتک دھنا چمگادڑ نے کیا سیاپا جب گدھے نے راگ الاپا بھالو بولا چپ کر بھائی ہاتھی دینے لگا دہائی اتنی لمبی تان اڑائی چڑیوں ...
جب دریا میں آگ لگی مچھلی نے اک جست لگائی جا بیٹھی دیوار پر کچھوے کو اڑنا آتا تھا اڑ کے بیٹھا تار پر مینڈک کو آگے جانا تھا وہ تو بھاگا کار پر جب دریا میں آگ لگی تار پہ بلی ناچ رہی تھی کچھوے سے یہ بولی آؤ بادل میں چھپ جائیں کھیلیں آنکھ مچولی مچھلی بیٹھی اونگھ رہی تھی وہ بھی پیچھے ہو ...
زرد موسم کی ہواؤں میں کھڑا ہوں میں بھی اور اس سوچ میں گم ہوں کہ ہرا ہوں میں بھی سن کے ہر شخص کچھ اس طرح گزر جاتا ہے جیسے گرتے ہوئے پتوں کی صدا ہوں میں بھی میری آواز شکستہ کی ستائش نہ کرو اپنی آواز کی لہروں میں چھپا ہوں میں بھی تجھ کو تخلیق کیا میں نے کہ مجھ کو تو نے کون خالق ہے ...
دشت میں چھاؤں کوئی ڈھونڈ نکالی جائے اپنی ہی ذات کی دیوار بنا لی جائے یہ تو ممکن ہے کہ دیوار گرا دیں لیکن کیسے گرتی ہوئی دیوار سنبھالی جائے ڈھونڈھنا ہوگا خد و خال کی دنیا میں جسے پہلے اس شخص کی تصویر بنا لی جائے دل ہو فیاض تو بس ایک ہی در کافی ہے کیا ضروری ہے کہ ہر در پہ سوالی ...
عالم خواب سہی خواب میں چلتے رہیے رات کٹ جائے گی کروٹ تو بدلتے رہیے کس کو معلوم کہاں سے کوئی پتھر آ جائے حوصلہ ہو تو اندھیروں میں نکلتے رہیے بن ہی جائے گا کبھی کوئی خودی کا پیکر اپنے احساس کی گرمی سے پگھلتے رہیے زندگی سلسلۂ خواب تمنا ہے کوئی رات بھر خواب کو خوابوں سے بدلتے ...