قومی زبان

پیار کے تحفے

نہ جانے کیا ملا کیا حسرتیں باقی رہیں دل میں ابھی دنیا سے کیا کچھ اور لینا ہے مجھے تو یہ خبر ہے یہ دہکتی آگ سب کچھ خاک کر دے گی فقط میرا نشاں اٹھتا دھواں چاروں طرف رشتوں پہ میلی راکھ چھڑکاتا یہ تیزابی رگ و پے میں پنپتا زہر مغرورانہ بے زاری نگہ داری کی دیواریں کھڑی کرتی یہ سب اس آگ ...

مزید پڑھیے

ہمالہ

عجیب بیزار شخص ہے وہ اسے عقیدت اذیتوں آزمائشوں سے وہ سر پہ دنیا کا بوجھ ڈالے روایتوں کے لئے حوالے تمام ہمت بکف دیانت کنواں نیا روز کھودتا ہے پھر اس میں گرتا ہے گر کے خود کو نکالنے کی مہم میں دن رات کاٹتا ہے اسے محبت ہے ذات کی گہری کھائیوں سے کمال حیرت ہے اس نے خود سے کبھی نہ ...

مزید پڑھیے

وسعتیں

بادل کے پردوں سے تہہ دار کہروں میں ڈوبا ہوا نور لپٹا ہوا صبح کی اولیں دودھیا چھاؤں میں اک جھلک آسمانوں کی وسعت کی رم جھم ٹپکتی ہوئی جھیل کی پر سکوں سطح پر تیرتی یوں لگا جیسے میری پہنچ میں یہیں آ گئی سطح جاں سے اٹھی یہ دعا اس حسیں لمحۂ سحر‌ آگیں میں خوشیوں سے بھر دے مرے دل کی ...

مزید پڑھیے

ختم ان کے کبھی ستم نہ ہوئے

ختم ان کے کبھی ستم نہ ہوئے سر ہمارے اگرچہ خم نہ ہوئے تم کوئی شام ایسی بتلاؤ جب ہوئے تم اداس ہم نہ ہوئے اپنا خالق تو ہے صنم اپنا ہم کسی کے مگر صنم نہ ہوئے کس کو آنکھیں ملا کے دیکھیں جب تیری نظروں میں محترم نہ ہوئے اور جینے کا کیا ہنر رکھتے کم سے کم ہاتھ تو قلم نہ ہوئے کیا ہوا ...

مزید پڑھیے

ذہن و دل میں پچھلی شب کی داستاں تو صاف ہو

ذہن و دل میں پچھلی شب کی داستاں تو صاف ہو جھلملائیں گے ستارے آسماں تو صاف ہو غیر کو تو چھوڑ اس کا جو بھی ہو رد عمل بات لیکن تیرے میرے درمیاں تو صاف ہو رہروی جاری رہے بے شک ہو منزل کے خلاف کارواں پر حکم میر کارواں تو صاف ہو دل سمجھ لے گا اشارہ آپ کر کے دیکھیے شرط ہے لیکن نگاہوں کی ...

مزید پڑھیے

کسی کی زلف نہیں لب کی گرمیاں بھی نہیں

کسی کی زلف نہیں لب کی گرمیاں بھی نہیں گلوں پہ آج تو آوارہ تتلیاں بھی نہیں ابھی یہ حال ہوا اس پہ کشتیاں گزریں وہ گاؤں جس پہ کبھی چھائیں بدلیاں بھی نہیں ہمارا گھر ہے کہ دیواروں کی نمائش ہے کوئی کواڑ تو کیا اس میں کھڑکیاں بھی نہیں گراں تھی شب تو مری صبح بھی ہراساں ہے ابھی افق پہ ...

مزید پڑھیے

کسی کی راہ کا پتھر ہٹا رہا ہوں ابھی

کسی کی راہ کا پتھر ہٹا رہا ہوں ابھی سفر کو اور بھی مشکل بنا رہا ہوں ابھی اسے یہ جان کر اچھا بہت لگے گا مگر میں اس کی یاد میں سب کچھ بھلا رہا ہوں ابھی میں ساتھ اپنے ہی سائے کا چھوڑ دوں نہ کہیں کہ سر پہ دھوپ غموں کی اٹھا رہا ہوں ابھی حیات تو بھی تو دھوکے سے کم نہیں لیکن فریب تیرے ...

مزید پڑھیے

فرقت سے ہم کنار تو تو بھی ہے میں بھی ہوں

فرقت سے ہم کنار تو تو بھی ہے میں بھی ہوں ملنے کو بے قرار تو تو بھی ہے میں بھی ہوں دنیا میں سر اٹھا کے کہاں تک چلیں گے ہم دنیا سے شرمسار تو تو بھی ہے میں بھی ہوں ایسا کریں کہ بانٹ لیں آپس کے رنج و غم حالات کا شکار تو تو بھی ہے میں بھی ہوں منزل کی آرزو میں بھٹکنے کا شوق رکھ اک راہ کا ...

مزید پڑھیے

شب ڈھلی محفل اٹھی اب گھر چلیں

شب ڈھلی محفل اٹھی اب گھر چلیں ہر طرف ہے خامشی اب گھر چلیں ڈھونڈتے ہو کیا خوشی اب گھر چلیں مل چکے ہیں غم کئی اب گھر چلیں دیکھ کر صحرا میں خواب گلستاں تھک چکی ہے رہروی اب گھر چلیں جل اٹھا دل میں چراغ آگہی راہ کچھ روشن ہوئی اب گھر چلیں ناخدا لایا کہ لایا ہے خدا ناؤ ساحل پر لگی اب ...

مزید پڑھیے

مرا دیا ہے مقابل چراغ شاہی کے

مرا دیا ہے مقابل چراغ شاہی کے میں جانتا ہوں کہ آثار ہیں تباہی کے سزا سنائی گئی پیشتر گواہی کے تو کیا ثبوت کروں پیش بے گناہی کے کسے ہے ہوش کہ یہ جشن ہے کہ ماتم ہے مذاکرات ہیں جلسے کی سربراہی کے کوئی تو جھانکے ذرا دن کی آستینوں میں ملیں گے ناگ کئی رات کی سیاہی کے ہمارے گھر ہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5754 سے 6203