میرے پاس کیا کچھ نہیں
میرے پاس راتوں کی تاریکی میں کھلنے والے پھول ہیں اور بے خوابی دنوں کی مرجھائی ہوئی روشنی ہے اور بینائی میرے پاس لوٹ جانے کو ایک ماضی ہے اور یاد۔۔۔ میرے پاس مصروفیت کی تمام تر رنگا رنگی ہے اور بے معنویت اور ان سب سے پرے کھلنے والی آنکھ میں آسماں کو اوڑھ کر چلتا اور زمین کو بچھونا ...