قومی زبان

صرف کرب انا دیا ہے مجھے

صرف کرب انا دیا ہے مجھے زندگی نے بھی کیا دیا ہے مجھے مسکراتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں غم نے بزدل بنا دیا ہے مجھے جس طرح ریت پر ہو نقش کوئی یوں ہوا نے مٹا دیا ہے مجھے میں اسے دل لگی سمجھتا تھا تو نے سچ مچ بھلا دیا ہے مجھے یا رب اس بے حسوں کے شہر میں کیوں دل درد آشنا دیا ہے مجھے وہ بھی ...

مزید پڑھیے

مقدر میں ساحل کہاں ہے میاں

مقدر میں ساحل کہاں ہے میاں مری ناؤ بے بادباں ہے میاں جو برق تپاں سے منور رہے وہی آشیاں آشیاں ہے میاں کہاں جائیے مے کدہ چھوڑ کر یہی ایک جائے اماں ہے میاں ابد تک مکمل نہ ہو پائے گی شب غم کی یہ داستاں ہے میاں کہاں پاؤں رکھوں پریشان ہوں زمیں صورت آسماں ہے میاں مقدس سہی کاروبار ...

مزید پڑھیے

لالہ زاروں میں زرد پھول ہوں میں

لالہ زاروں میں زرد پھول ہوں میں فصل گل ہے مگر ملول ہوں میں چاند تاروں کو رشک ہے مجھ پر تیرے قدموں کی صرف دھول ہوں میں کیوں مجھے سنگسار کرتے ہو کب یہ میں نے کہا رسول ہوں میں نور سر مستیٔ ابد ہوں مگر مے شفاف میں حلول ہوں میں رنج و غم کیوں نہ میری قدر کریں بے غرض اور با اصول ہوں ...

مزید پڑھیے

بے تمنا ہوں خستہ جان ہوں میں

بے تمنا ہوں خستہ جان ہوں میں ایک اجڑا ہوا مکان ہوں میں جنگ تو ہو رہی ہے سرحد پر اپنے گھر میں لہولہان ہوں میں غم و آلام بھی ہیں مجھ کو عزیز قدر دانوں کا قدردان ہوں میں ضبط تہذیب ہے محبت کی وہ سمجھتے ہیں بے زبان ہوں میں لب پہ اخلاص ہاتھ میں خنجر کیسے یاروں کے درمیان ہوں میں چھید ...

مزید پڑھیے

اور کس کا گھر کشادہ ہے کہاں ٹھہرے گی رات

اور کس کا گھر کشادہ ہے کہاں ٹھہرے گی رات مجھ کو ہی مہماں نوازی کا شرف بخشے گی رات نیند آئے گی نہ ان بے خواب آنکھوں میں کبھی مجھ کو تھپکی دیتے دیتے آپ سو جائے گی رات شام ہرگز دن کے سینے میں نہ خنجر گھونپتی یہ اگر معلوم ہوتا خوں بہا مانگے گی رات آنسوؤں سے تر بہ تر ہو جائے گا آنگن ...

مزید پڑھیے

جب آسمان پر مہ و اختر پلٹ کر آئے

جب آسمان پر مہ و اختر پلٹ کر آئے ہم رخ پہ دن کی دھوپ لیے گھر پلٹ کر آئے نظارہ جن کا باعث رحم نگاہ تھا آنکھوں کے سامنے وہی منظر پلٹ کر آئے ہر گھر سلگ رہا تھا عجب سرد آگ میں جب عرصہ گاہ جنگ سے لشکر پلٹ کر آئے صد رشک التفات تھا جب اس کا جور بھی جی کیوں نہ چاہے پھر وہ ستم گر پلٹ کر ...

مزید پڑھیے

کوئی سوچے نہ ہمیں کوئی پکارا نہ کرے

کوئی سوچے نہ ہمیں کوئی پکارا نہ کرے ہم کہیں ہیں کہ نہیں ہیں کوئی چرچا نہ کرے رات افسوں ہے کہیں کا نہیں رہنے دیتی دن کو سوئے نہ کوئی رات کو جاگا نہ کرے ہم نکل آئے ہیں اب دھوپ میں جلنے کے لیے کوئی بادل نہیں بھیجے کوئی سایہ نہ کرے ان گنت آنکھوں میں ہم جلتے رہے بجھتے رہے اب بھلے ...

مزید پڑھیے

دل میں کیا تھا جو کھو گیا ہے کہیں

دل میں کیا تھا جو کھو گیا ہے کہیں میرا نقصان ہو گیا ہے کہیں وہ تری کھوج میں رہا اور پھر غالباً تجھ کو رو گیا ہے کہیں رنگ وہ لے گیا مگر مجھ میں اپنی خوشبو سمو گیا ہے کہیں تیری آواز بھی نہیں سنتا کیا مرا بخت سو گیا ہے کہیں ہم رہ صد ملال ہے وہ کبھی اور ہر رنج دھو گیا ہے کہیں یوں ...

مزید پڑھیے

یہ جو سر ہم تری چوکھٹ سے لگائے ہوئے ہیں

یہ جو سر ہم تری چوکھٹ سے لگائے ہوئے ہیں یہ سمجھ لے کہ زمانے کے ستائے ہوئے ہیں ہم نے اس دل کو کہیں اور لگایا ہوا ہے اور یہ ہاتھ کہیں اور اٹھائے ہوئے ہیں تجھے دیکھوں تو مجھے یاد یہ کون آتا ہے تو نے یہ رنگ بھلا کس کے چرائے ہوئے ہیں کار دنیا نے ہمیں مہلت یک خواب نہ دی سو کہیں کھوئے ...

مزید پڑھیے

راہ دشوار بھی ہے بے سر و سامانی بھی

راہ دشوار بھی ہے بے سر و سامانی بھی اور اس دل کو ہے کچھ اور پریشانی بھی یہ جو منظر ترے آگے سے سرکتا ہی نہیں اس میں شامل ہے تری آنکھ کی حیرانی بھی اپنے مجبور پہ کچھ اور کرم ہو کہ اسے کم پڑی جاتی ہے اب غم کی فراوانی بھی صرف افسوس کا سایہ ہی نہیں ہے ہم پر ہم کہ ہیں خواب تب و تاب کے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5740 سے 6203