روز اک باغ گزرتا ہے اسی رستے سے
روز اک باغ گزرتا ہے اسی رستے سے روز کشکول میں اک پھول دھرا ہوتا ہے زخم اور پیڑ نے اک ساتھ دعا مانگی ہے دیکھیے پہلے یہاں کون ہرا ہوتا ہے
روز اک باغ گزرتا ہے اسی رستے سے روز کشکول میں اک پھول دھرا ہوتا ہے زخم اور پیڑ نے اک ساتھ دعا مانگی ہے دیکھیے پہلے یہاں کون ہرا ہوتا ہے
میں اس کہانی میں ترمیم کر کے لایا ہوں جو تم کو پہلے سنائی تھی مسترد سمجھو مجھے خدا سے نہیں ہے کوئی گلہ لیکن تم آدمی ہو تو پھر آدمی کی حد سمجھو
زمیں کے غرب سے سورج طلوع کرتا ہوں اور اختتام کا قصہ شروع کرتا ہوں مری گلی مری وحشت سمجھ نہیں پائی سو اب تمہاری گلی سے رجوع کرتا ہوں
اے خدا ایک بار مل مجھ سے یہ تعارف تو غائبانہ ہے میں غلط وقت پر ہوا بیدار یہ کسی اور کا زمانہ ہے
تحفۂ عہد وفا دیجئے آپ بے وفا ہوں تو سزا دیجئے آپ ہم نے رکھا ہے ہواؤں کا بھرم ہم چراغوں کو دعا دیجئے آپ آج کل نیند بہت آتی ہے میری آنکھوں کو سزا دیجئے آپ ربط کچھ تو ہو مراسم کے لئے مجھ پہ الزام لگا دیجئے آپ رسم تنقید چل رہی ہے یہاں رسم تائید اٹھا دیجئے آپ پھر میں اٹھا ہوں نیا ...
بولنے کا نہیں چپ رہنے کا من چاہتا ہے ایسے حالات میں تو لطف سخن چاہتا ہے ایک تو روح بھی کافور صفت ہے اپنی اور اب جسم بھی بے داغ کفن چاہتا ہے میں وفاؤں کا پرستار ہوں لیکن مجھ سے میرا محبوب زمانے کا چلن چاہتا ہے تو ادھر کیسے ارے چاندنی صورت والے یہ وہ دھندا ہے جو آنکھوں میں جلن ...
یہ منظر دیکھ کر ساحل کی حیرانی نہیں جاتی مجھے چھو کر بھی کوئی موج طوفانی نہیں جاتی پریشانی اگر ہے تو پریشانی کا حل بھی ہے پریشاں حال رہنے سے پریشانی نہیں جاتی یہ کیسے لوگ ہیں جو آئینہ پہچان لیتے ہیں کہ اب ہم سے تو اپنی شکل پہچانی نہیں جاتی بہت کنجوس ہیں آنکھیں مری آنسو بہانے ...
شدت احساس تنہائی جگایا مت کرو مجھ کو اتنے سارے لوگوں سے ملایا مت کرو تم ہمارے حوصلے کی آخری امید ہو تم ہمارے زخم پر مرہم لگایا مت کرو آخری لمحات میں کیا سوچنے لگتے ہو تم جیت کے نزدیک آ کر ہار جایا مت کرو ایک آنسو بھی بہت ہے بہر ایصال ثواب ہم غریبوں کے لئے دریا بہایا مت ...
زندگی بھر جنہوں نے دیکھے خواب ان کو بخشے گئے ہیں پھر سے خواب دن اندھیرا دکھائی دیتا ہے رات دیکھے تھے جگمگاتے خواب اس نے ایسے بھلا دیا ہے مجھے یاد رہتے نہیں ہیں جیسے خواب رات کی بخششیں تو تھیں مجھ پر روز روشن نے بھی دکھائے خواب جن کی تعبیر ہی نہیں کوئی میں نے دیکھے ہیں اکثر ...
کیوں نہ اپنی خوبیٔ قسمت پہ اتراتی ہوا پھول جیسے اک بدن کو چھو کر آئی تھی ہوا یوں خیال آتا ہے اس کا یاد آئے جس طرح گرمیوں کی دوپہر میں شام کی ٹھنڈی ہوا اور ابھی سلگیں گے ہم کمرے کے آتش دان میں اور ابھی کہسار سے اترے گی برفیلی ہوا ہم بھی اک جھونکے سے لطف اندوز ہو لیتے کبھی بھولے ...