مٹی سے مشورہ نہ کر پانی کا بھی کہا نہ مان
مٹی سے مشورہ نہ کر پانی کا بھی کہا نہ مان اے آتش دروں مری پابندیٔ ہوا نہ مان ہر اک لغت سے ماورا میں ہوں عجب محاورہ مری زباں میں پڑھ مجھے دنیا کا ترجمہ نہ مان زندہ سماعتوں کا سوگ سنتے کہاں ہیں اب یہ لوگ تو بھی صدائیں دیتا رہ مجھ کو بھی بے صدا نہ مان یا تو وہ آب ہو بہت یا پھر سراب ...