قومی زبان

مٹی سے مشورہ نہ کر پانی کا بھی کہا نہ مان

مٹی سے مشورہ نہ کر پانی کا بھی کہا نہ مان اے آتش دروں مری پابندیٔ ہوا نہ مان ہر اک لغت سے ماورا میں ہوں عجب محاورہ مری زباں میں پڑھ مجھے دنیا کا ترجمہ نہ مان زندہ سماعتوں کا سوگ سنتے کہاں ہیں اب یہ لوگ تو بھی صدائیں دیتا رہ مجھ کو بھی بے صدا نہ مان یا تو وہ آب ہو بہت یا پھر سراب ...

مزید پڑھیے

پچھلے پہر کی دستک

ترے شہر کی سرد گلیوں کی آہٹ مرے خون میں سرسرائی میں چونکا یہاں کون ہے میں پکارا مگر دور خالی سڑک پر کہیں رات کے ڈوبتے پہر کی خامشی چل پڑی رت جگوں کی تھکاوٹ میں ڈوبی ہوئی آنکھ سے خواب نکلا کوئی لڑکھڑاتا ہوا رات کے سرد آنگن میں گرتا ہوا خالی شاخوں میں اٹکے ہوئے چاند کی آنکھ سے ایک ...

مزید پڑھیے

مجید امجدؔ کے لئے

تم آتے ہو دور دیس سے دور دیس سے آنے والوں پر ہر کوئی ہنستا ہے دل ڈرتا ہے جب سرد ہوا کے آنچل میں منہ ڈھانپ پرندے سوتے ہیں جب شام ڈھلے دیواروں پر کچھ سائے گڈمڈ ہوتے ہیں کچھ شکلیں رنگ جماتی ہیں اجڑی اجڑی دہلیزوں پر خاموشی دستک دیتی ہے اور بند کواڑوں کی تنہائی ہر سو خاک اڑاتی ہے اس ...

مزید پڑھیے

مٹی سے ایک مکالمہ

ماں کہتی ہے جب تم چھوٹے تھے تو ایسے اچھے تھے سب آباد گھروں کی مائیں پیشانی پر بوسہ دینے آتی تھیں اور تمہارے جیسے بیٹوں کی خواہش سے ان کی گودیں بھری رہا کرتی تھیں ہمیشہ اور میں تمہارے ہونے کی راحت کے نشے میں کتنی عمریں چور رہی تھی اک اک لفظ مرے سینے میں اٹکا ہے سب کچھ یاد ہے آج کہ ...

مزید پڑھیے

آخری بار زمانے کو دکھایا گیا ہوں

آخری بار زمانے کو دکھایا گیا ہوں ایسا لگتا ہے کہ میں دار پہ لایا گیا ہوں سب مجھے ڈھونڈنے نکلے ہیں بجھا کر آنکھیں بات نکلی ہے کہ میں خواب میں پایا گیا ہوں پیڑ بھی زرد ہوئے جاتے ہیں مجھ سے مل کر جانے میں کیسی اداسی سے بنایا گیا ہوں راہ تکتی ہے کسی اور جگہ خوش خبری میں مگر اور ہی ...

مزید پڑھیے

دشت میں اس کا آب و دانہ ہے

دشت میں اس کا آب و دانہ ہے عشق ہوتا ہی صوفیانہ ہے میں غلط وقت پر ہوا بیدار یہ کسی اور کا زمانہ ہے ریت پیغام لے کے آئی ہے دشت میری طرف روانہ ہے روز اک پھول بھیجتا ہے مجھے باغ سے اپنا دوستانہ ہے اے خدا ایک بار مل مجھ سے یہ تعارف تو غائبانہ ہے

مزید پڑھیے

ہزار طعنے سنے گا خجل نہیں ہوگا

ہزار طعنے سنے گا خجل نہیں ہوگا یہ وہ ہجوم ہے جو مشتعل نہیں ہوگا زمیں پر آنے سے پہلے ہی علم تھا مجھ کو مرا قیام یہاں مستقل نہیں ہوگا اندھیرا پوجنے والوں نے فیصلہ دیا ہے چراغ اب کسی شب میں مخل نہیں ہوگا تجھے معاف تو کر دوں گا ساری باتوں پر مگر یہ زخم کبھی مندمل نہیں ہوگا

مزید پڑھیے

کیوں چلتی زمیں رکی ہوئی ہے

کیوں چلتی زمیں رکی ہوئی ہے کیا میرے تئیں رکی ہوئی ہے سائے کو روانہ کر دیا ہے دیوار کہیں رکی ہوئی ہے خوابوں سے اداس ہو کے تعبیر پلکوں کے قریں رکی ہوئی ہے موسم کا لحاظ ہے ہوا کو یوں ہی تو نہیں رکی ہوئی ہے میں آتے دنوں سے جا ملا ہوں دنیا تو وہیں رکی ہوئی ہے

مزید پڑھیے

شہر سے جب بھی کوئی شہر جدا ہوتا ہے

شہر سے جب بھی کوئی شہر جدا ہوتا ہے ہر طرف نقشے پہ کہرام بپا ہوتا ہے روز اک باغ گزرتا ہے اسی رستے سے روز کشکول میں اک پھول دھرا ہوتا ہے زخم اور پیڑ نے اک ساتھ دعا مانگی ہے دیکھیے پہلے یہاں کون ہرا ہوتا ہے ایک دوجے کو کبھی جان نہیں پائے ہم میں نیا ہوتا ہوں یا خواب نیا ہوتا ہے میں ...

مزید پڑھیے

گلے لگائے مجھے میرا راز داں ہو جائے

گلے لگائے مجھے میرا راز داں ہو جائے کسی طرح یہ شجر مجھ پہ مہرباں ہو جائے ستارے جھاڑ کے بالوں سے اب یہ کہتا ہوں کوئی زمین پہ رہ کر نہ آسماں ہو جائے اسی لئے تو اداسی سے گفتگو نہیں کی کہیں وہ بات نہ باتوں کے درمیاں ہو جائے یہ زخم ایسے نہیں ہیں کہ جو دکھائیں تمہیں یہ رنج ایسا نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5737 سے 6203