قومی زبان

ایک بھی چین کا بستر نہیں ہونے دیتا

ایک بھی چین کا بستر نہیں ہونے دیتا میرے گھر کو وہ مرا گھر نہیں ہونے دیتا نت نیا ایک شگوفہ وہ دکھاتا ہے مجھے ظلم کی حد وہ مقرر نہیں ہونے دیتا سب کو دکھلاتا ہے وہ چھوٹا بنا کر مجھ کو مجھ کو وہ میرے برابر نہیں ہونے دیتا کیسی سازش ہے یہ اس کی ذرا میں بھی دیکھوں کیوں مجھے وہ سر منظر ...

مزید پڑھیے

اپنی جیسی ہی کسی شکل میں ڈھالیں گے تمہیں

اپنی جیسی ہی کسی شکل میں ڈھالیں گے تمہیں ہم بگڑ جائیں گے اتنا کی بنا لیں گے تمہیں جانے کیا کچھ ہو چھپا تم میں محبت کے سوا ہم تسلی کے لئے پھر سے کھگالیں گے تمہیں ہم نے سوچا ہے کہ اس بار جنوں کرتے ہوئے خود کو اس طرح سے کھو دیں گے کہ پا لیں گے تمہیں مجھ میں پیوست ہو تم یوں کہ زمانے ...

مزید پڑھیے

سفر کے بعد بھی ذوق سفر نہ رہ جائے

سفر کے بعد بھی ذوق سفر نہ رہ جائے خیال و خواب میں اب کے بھی گھر نہ رہ جائے میں سوچتا ہوں بہت زندگی کے بارے میں یہ زندگی بھی مجھے سوچ کر نہ رہ جائے بس ایک خوف میں ہوتی ہے ہر سحر میری نشان خواب کہیں آنکھ پر نہ رہ جائے یہ بے حسی تو مری ضد تھی میرے اجزا سے کہ مجھ میں اپنے تعاقب کا ڈر ...

مزید پڑھیے

فصیل جسم گرا دے مکان جاں سے نکل

فصیل جسم گرا دے مکان جاں سے نکل یہ انتشار زدہ شہر ہے یہاں سے نکل تری تلاش میں پھرتے ہیں آفتاب کئی سو اب یہ فرض ہے تجھ پر کہ سائباں سے نکل تمام شہر پہ اک خامشی مسلط ہے اب ایسا کر کہ کسی دن مری زباں سے نکل مقام وصل تو ارض و سما کے بیچ میں ہے میں اس زمین سے نکلوں تو آسماں سے نکل میں ...

مزید پڑھیے

پیکر نور میں ڈھلتا ہی چلا جاتا ہوں

پیکر نور میں ڈھلتا ہی چلا جاتا ہوں لو پکڑ لوں تو میں جلتا ہی چلا جاتا ہوں ایک تو ہے کی میسر نہیں آنے والا ایک میں ہوں کہ مچلتا ہی چلا جاتا ہوں فیصلہ کن ہے اگر تو تو بس اب جلدی کر میں جو ٹل جاؤں تو ٹلتا ہی چلا جاتا ہوں نخل صحرا تھا مگر جب سے تو رویا مجھ پر دیکھ میں پھولتا پھلتا ہی ...

مزید پڑھیے

آنکھوں پہ شب رقم بھی نہیں کر سکوں گا میں

آنکھوں پہ شب رقم بھی نہیں کر سکوں گا میں اے خواب تیرا غم بھی نہیں کر سکوں گا میں اک مستقل سفر ہے تری آرزو مجھے اور خود کو تازہ دم بھی نہیں کر سکوں گا میں اس کو خدا بنانے کی ضد پر اڑا ہے تو اے دل جسے صنم بھی نہیں کر سکوں گا میں سبزہ بھی چاہتی ہیں تصور کی خاک پر وہ آنکھیں جن کو نم ...

مزید پڑھیے

اب اختیار میں موجیں نہ یہ روانی ہے

اب اختیار میں موجیں نہ یہ روانی ہے میں بہہ رہا ہوں کہ میرا وجود پانی ہے میں اور میری طرح تو بھی اک حقیقت ہے پھر اس کے بعد جو بچتا ہے وہ کہانی ہے ترے وجود میں کچھ ہے جو اس زمیں کا نہیں ترے خیال کی رنگت بھی آسمانی ہے ذرا بھی دخل نہیں اس میں ان ہواؤں کا ہمیں تو مصلحتاً اپنی خاک ...

مزید پڑھیے

لہر کا خواب ہو کے دیکھتے ہیں

لہر کا خواب ہو کے دیکھتے ہیں چل تہہ آب ہو کے دیکھتے ہیں اس پہ اتنا یقین ہے ہم کو اس کو بیتاب ہو کے دیکھتے ہیں رات کو رات ہو کے جانا تھا خواب کو خواب ہو کے دیکھتے ہیں اپنی ارزانیوں کے صدقے ہم خود کو نایاب ہو کے دیکھتے ہیں ساحلوں کی نظر میں آنا ہے پھر تو غرقاب ہو کے دیکھتے ہیں وہ ...

مزید پڑھیے

کسی طرح کی عبادت روا نہیں رکھوں گا

کسی طرح کی عبادت روا نہیں رکھوں گا صنم رکھوں گا میں دل میں خدا نہیں رکھوں گا تمام عمر گزاروں گا آبیاری میں کچھ اس طرح کہ میں خود کو ہرا نہیں رکھوں گا جو آنے والے ہوں پہلے سے اطلاع کریں کہ عمر بھر تو میں خود کو کھلا نہیں رکھوں گا میں جم کے سوؤں گا آؤں گا خواب میں ملنے فراق میں ...

مزید پڑھیے

حرف لفظوں کی طرف لفظ معانی کی طرف

حرف لفظوں کی طرف لفظ معانی کی طرف لوٹ آئے سبھی کردار کہانی کی طرف اس سے کہنا کہ دھواں دیکھنے لائق ہوگا آگ پہنے ہوئے جاوں گا میں پانی کی طرف پہلے مصرعے میں تجھے سوچ لیا ہو جس نے جانا پڑتا ہے اسے مصرع ثانی کی طرف دل وہ دریا ہے مرے سینۂ خالی میں کہ اب دھیان جاتا ہی نہیں جس کہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5736 سے 6203