تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر
تمام عمر کی تنہائی کی سزا دے کر تڑپ اٹھا مرا منصف بھی فیصلہ دے کر میں اب مروں کہ جیوں مجھ کو یہ خوشی ہے بہت اسے سکوں تو ملا مجھ کو بد دعا دے کر میں اس کے واسطے سورج تلاش کرتا ہوں جو سو گیا مری آنکھوں کو رت جگا دے کر وہ رات رات کا مہماں تو عمر بھر کے لیے چلا گیا مجھے یادوں کا سلسلہ ...