قومی زبان

چاند

تم ندی پر جا کر دیکھو جب ندی میں نہائے چاند کیسی لگائی ڈبکی اس نے ڈر ہے ڈوب نہ جائے چاند کرنوں کی اک سیڑھی لے کر چھم چھم اترا جائے چاند جب تم اسے پکڑنے جاؤ پانی میں چھپ جائے چاند اب پانی میں چپ بیٹھا ہے کیا کیا روپ دکھائے چاند چاہے جدھر کو جاؤ افسرؔ ساتھ ہمارے جائے چاند

مزید پڑھیے

کاغذ کی ناؤ

دیکھو اماں کیسی اچھی ہے مری کاغذ کی ناؤ لے چلا ہے ساتھ اس کو مینہ کے پانی کا بہاؤ بند کر دیتا نہ میں سب مہریوں کے منہ اگر کس طرح پانی سے بھر جاتا بھلا پھر سارا گھر میری کشتی تم ذرا دیکھو تو اک چکر میں ہے گو کہ دریا میں ہے لیکن پھر بھی گھر کے گھر میں ہے مچھلیاں اس واسطے آنگن کے دریا ...

مزید پڑھیے

راہنما بن جاؤں

درد جس دل میں ہو اس دل کی دوا بن جاؤں کوئی بیمار اگر ہو تو شفا بن جاؤں دکھ میں ہلتے ہوئے لب کی میں دعا بن جاؤں اف وہ آنکھیں کہ ہیں بینائی سے محروم کہیں روشنی جن میں نہیں نور جن آنکھوں میں نہیں میں ان آنکھوں کے لیے نور ضیا بن جاؤں ہائے وہ دل جو تڑپتا ہوا گھر سے نکلے اف وہ آنسو جو کسی ...

مزید پڑھیے

موسم برسات کی صبح

آج جس وقت مجھے تم نے جگایا اماں اپنے اور نیند کے پہلو سے اٹھایا اماں آسماں کملی تھا اوڑھے ہوئے کالی کالی تازگی اور سفیدی سے فضا تھی خالی نہ اندھیرا ہی تھا شب کا نہ اجالا دن کا رات کے گرد نظر آتا تھا ہالا دن کا ایک بلندی کی کڑک پستی کو دھندلاتی تھی دل ہلاتی ہوئی آواز سنی جاتی ...

مزید پڑھیے

ہوا ہے طور بربادی جو بے دستور پہلو میں

ہوا ہے طور بربادی جو بے دستور پہلو میں دل بے تاب کو رہتا ہے نامنظور پہلو میں عجب دل کو لگی ہے لو عجب ہے نور پہلو میں کیا ہے عشق نے روشن چراغ طور پہلو میں کہا جو میں نے میرے دل کی اک تصویر کھنچوا دو منگا کر رکھ دیا اک شیشہ چکناچور پہلو میں خوشی ہو ہو کے الفت میں جو بار غم اٹھاتا ...

مزید پڑھیے

الٰہی خیر جو شر واں نہیں تو یاں بھی نہیں

الٰہی خیر جو شر واں نہیں تو یاں بھی نہیں تأمل اس میں اگر واں نہیں تو یاں بھی نہیں کچھ ان گھر سے نہیں کم ہمارا خانۂ دل جو آدمی کا گزر واں نہیں تو یاں بھی نہیں وہ جان لیتے ہیں ہم ان پہ جان دیتے ہیں نصیحتوں کا اثر واں نہیں تو یاں بھی نہیں مرے مٹیں گے ہم اے دل یہی جو چشمک ہے صفائی مد ...

مزید پڑھیے

بلبل کا دل خزاں کے صدمے سے ہل رہا ہے

بلبل کا دل خزاں کے صدمے سے ہل رہا ہے گل زار کا مرقع مٹی میں مل رہا ہے عالم میں جس نے جس نے دیکھا ہے عالم ان کا کوئی تو ہم سے کہہ دے قابو میں دل رہا ہے رخصت بہار کی ہے کہرام ہے چمن میں غنچے سے غنچہ بلبل بلبل سے مل رہا ہے ہرگز شباب پر تم نازاں شرفؔ نہ ہونا ملنے کو خاک میں ہے جو پھول ...

مزید پڑھیے

رلوا کے مجھ کو یار گنہ گار کر نہیں

رلوا کے مجھ کو یار گنہ گار کر نہیں آنکھیں ہیں تر تو ہوں مرا دامن تو تر نہیں امید وصل سے بھی تو صدمہ نہ کم ہوا کیا درد جائے گا جو دوا کا اثر نہیں دن کو بھی داغ دل کی نہ کم ہوگی روشنی یہ لو ہی اور ہے یہ چراغ سحر نہیں تنہا چلیں ہیں معرکۂ عشق جھیلنے ان کی طرف خدائی ہے کوئی ادھر ...

مزید پڑھیے

چاہئیں مجھ کو نہیں زریں قفس کی پتلیاں

چاہئیں مجھ کو نہیں زریں قفس کی پتلیاں آشیاں جانوں جو ہوویں خار و خس کی پتلیاں ہو گئیں بے رنگ جب اگلے برس کی پتلیاں خون رو کر ہم نے کیں رنگیں قفس کی پتلیاں ہے یہ فولادی قفس مجھ ناتواں کا کیا کروں کس طرح توڑوں نہیں ہیں میرے بس کی پتلیاں کیا خدا کی شان ہے آتی ہے جب فصل بہار سب ہری ...

مزید پڑھیے

رہا کرتے ہیں یوں عشاق تیری یاد و حسرت میں

رہا کرتے ہیں یوں عشاق تیری یاد و حسرت میں بسے رہتے ہیں جیسے پھول اپنی اپنی نکہت میں کھچا حسن وفا ہو کر جو یہ تصویر وحدت میں خدا کا نور شامل ہو گیا انساں کی صورت میں نہیں ہے لذت دنیا و ما فیہا جو قسمت میں خدا معلوم حصہ ہے مرا کس خوان نعمت میں صفائی رخ بڑھی ایسی ہوا آئینہ حیرت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5653 سے 6203