قومی زبان

پہلی تاریخ

درد کی ساعتوں سے گھبرا کر فائلوں سے دلوں کو بہلا کر کیا بتائیں کہ کس طرح ہم نے تیری فرقت میں دن گزارے ہیں تیری آمد ہمارے چہرے پر آج اک تازگی سی لے آئی لیکن اس عارضی مسرت کو خوب اچھی طرح سمجھتے ہیں چند لمحوں میں یہ نئے کاغذ ہم سے اس طرح دور بھاگیں گے جس طرح چند قرض داروں کی پیچھا ...

مزید پڑھیے

واپسی

موت کی پر سکوت بستی کو دے کے اک زندگی کا نذرانہ لوگ اپنے گھروں کو لوٹے ہیں سب کے چہرے ہیں فرط غم سے نڈھال سب کی آنکھیں چھلک گئی ہیں آج پھر بھی سرحد میں شہر کی آ کر ہنستے بچوں کو کھیلتا پا کر دیکھ کر زندگی کے ہنگامے ایسا محسوس کر رہے ہیں سب جیسے افسردگی کے صحرا سے کوئی آواز دے کے ...

مزید پڑھیے

جشن تھا عیش و طرب کی انتہا تھی میں نہ تھا

جشن تھا عیش و طرب کی انتہا تھی میں نہ تھا یار کے پہلو میں خالی میری جا تھی میں نہ تھا اس نے کب برخاست اے دل محفل معراج کی کس سے پوچھوں رات کم تھی یا سوا تھی میں نہ تھا میں تڑپ کر مر گیا دیکھا نہ اس نے جھانک کر اس ستم گر کو عزیز اپنی حیا تھی میں نہ تھا وعدہ لے لیتا کہ کھلوانہ نہ مجھ ...

مزید پڑھیے

لٹاتے ہیں وہ باغ عشق جائے جس کا جی چاہے

لٹاتے ہیں وہ باغ عشق جائے جس کا جی چاہے گل داغ تمنا لوٹ لائے جس کا جی چاہے چراغ یاس و حسرت ہم ہیں محفل میں حسینوں کی جلائے جس کا جی چاہے بجھائے جس کا جی چاہے کسی معشوق کی کوئی خطا میں نے نہیں کی ہے ستانے کو زبردستی ستائے جس کا جی چاہے بحل شوق شہادت میں کیا ہے ہم نے خون اپنا ہمارے ...

مزید پڑھیے

عشق دہن میں گزری ہے کیا کچھ نہ پوچھئے

عشق دہن میں گزری ہے کیا کچھ نہ پوچھئے نا گفتنی ہے حال مرا کچھ نہ پوچھئے کیا درد عشق کا ہے مزا کچھ نہ پوچھئے کہتا ہے دل کسی سے دوا کچھ نہ پوچھئے محشر کے دغدغے کا میں احوال کیا کہوں ہنگامہ جو ہوا سو ہوا کچھ نہ پوچھئے جب پوچھئے تو پوچھئے کیا گزری عشق میں ہم سے تو اور اس کے سوا کچھ ...

مزید پڑھیے

جو سامنا بھی کبھی یار خوب رو سے ہوا

جو سامنا بھی کبھی یار خوب رو سے ہوا زمانے بھر کا یرش مجھ پہ چار سو سے ہوا کہا اشاروں سے میں نے کہ تم پہ مرتا ہوں جو نطق بند مرا ان کی گفتگو سے ہوا کسی کو بھی نہ ہوس تھی حلال ہونے کی رواج شوق شہادت مرے گلو سے ہوا جدھر نگاہ کی جلوہ ترا نظر آیا کمال کشف مجھے تیری آرزو سے ہوا کھلا نہ ...

مزید پڑھیے

ہوئے ایسے بہ دل ترے شیفتہ ہم دل و جاں کو ہمیشہ نثار کیا

ہوئے ایسے بہ دل ترے شیفتہ ہم دل و جاں کو ہمیشہ نثار کیا رہ عشق سے پھر نہ ہٹائے قدم رہے محو ترے تجھے پیار کیا ترے شوق میں دل کی تباہی ہوئی ترے ذوق کی اس پہ گواہی ہوئی کوئی دم بھی نہ لینے دیا مجھے دم مجھے دشمن صبر و قرار کیا گئی جاں قفس میں برائے چمن چلی لے کے جہاں سے ہوائے چمن کبھی ...

مزید پڑھیے

جب سے ہوا ہے عشق ترے اسم ذات کا

جب سے ہوا ہے عشق ترے اسم ذات کا آنکھوں میں پھر رہا ہے مرقع نجات کا مالک ہی کے سخن میں تلون جو پائیے کہئے یقین لائیے پھر کس کی بات کا دفتر ہماری عمر کا دیکھو گے جب کبھی فوراً اسے کرو گے مرقع نجات کا الفت میں مر مٹے ہیں تو پوچھے ہی جائیں گے اک روز لطف اٹھائیں گے اس واردات کا سرخی ...

مزید پڑھیے

سلف سے لوگ ان پہ مر رہے ہیں ہمیشہ جانیں لیا کریں گے

سلف سے لوگ ان پہ مر رہے ہیں ہمیشہ جانیں لیا کریں گے یہی کرشمے ہوا کیے ہیں یہی کرشمے ہوا کریں گے ہمیں جو بے جرم پیستے ہو یہ جانتے ہو کہ کیا کریں گے خدا نے چاہا تو سرمہ ہو کر تمہاری آنکھوں میں جا کریں گے نہ رہنے دیں گے کبھی وہ باہم تپاک دیکھیں گے ان میں جس دم بدن سے خارج کریں گے جاں ...

مزید پڑھیے

ناحق و حق کا انہیں خوف و خطر کچھ بھی نہیں

ناحق و حق کا انہیں خوف و خطر کچھ بھی نہیں بے خبر ہیں وہ زمانے کی خبر کچھ بھی نہیں دھوم ہی دھوم تھی مدفن کی مگر کچھ بھی نہیں خاک اس گھر میں بسر ہوگی یہ گھر کچھ بھی نہیں ہائے افسوس ہوئی کون سی صحبت برخاست شب کو معراج میں تھے وقت سحر کچھ بھی نہیں کہہ رہی ہے یہ مرے دل سے محبت اس ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5649 سے 6203