پہلی تاریخ
درد کی ساعتوں سے گھبرا کر فائلوں سے دلوں کو بہلا کر کیا بتائیں کہ کس طرح ہم نے تیری فرقت میں دن گزارے ہیں تیری آمد ہمارے چہرے پر آج اک تازگی سی لے آئی لیکن اس عارضی مسرت کو خوب اچھی طرح سمجھتے ہیں چند لمحوں میں یہ نئے کاغذ ہم سے اس طرح دور بھاگیں گے جس طرح چند قرض داروں کی پیچھا ...