سبھی بچھڑ گئے مجھ سے گزرتے پل کی طرح
سبھی بچھڑ گئے مجھ سے گزرتے پل کی طرح میں گر چکا ہوں کسی خواب کے محل کی طرح نواح جسم میں روتا کراہتا دن رات مجھے ڈراتا ہے کوئی مری اجل کی طرح یہ شہر ہے یہاں اپنی ہی جستجو میں لوگ ملیں گے چلتے ہوئے چیونٹیوں کے دل کی طرح میں اس سے ملتا رہا آج کی توقع پر وہ مجھ سے دور رہا آنے والے کل ...