ہمیں نہ دیکھیے ہم غم کے مارے جیسے ہیں
ہمیں نہ دیکھیے ہم غم کے مارے جیسے ہیں کہ ہم تو ویسے ہیں اس کے اشارے جیسے ہیں یہ وصل، وصل کی مد میں غلط شمار کیا کہ اس کے ساتھ بھی یونہی کنارے جیسے ہیں طلسم چشم سلامت رہے کہ جس کے سبب کہیں ہیں پھول کہیں ہم ستارے جیسے ہیں وہ جانتا ہے جبھی دور بھاگتا ہے بہت وہ جانتا ہے ہم اس کو ...