ایک شاعر کا خواب
کہیں اک شب جو اپنے بستر راحت پہ جا لیٹا رہا ہے چین تھوڑی دیر آنکھیں لگ گئیں آخر بلا کا خواب راحت میں مجھے منظر نظر آیا قلم میں یہ کہاں طاقت کہ اس کو کر سکے ظاہر نظر آیا مجھے میدان جس میں ہو کا عالم تھا نہ اپنا ہم سفر کوئی نہ اپنا کوئی ہم دم تھا درختوں کے نشاں کچھ تھے مگر سیل حوادث ...