نقشہ لیل و نہار کا کھینچا ہے
نقشہ لیل و نہار کا کھینچا ہے موسم کا خط جدا جدا کھینچا ہے سورج نقطۂ زمین کی گردش پرکار یہ دائرہ فلسفی نے کیا کھینچا ہے
نقشہ لیل و نہار کا کھینچا ہے موسم کا خط جدا جدا کھینچا ہے سورج نقطۂ زمین کی گردش پرکار یہ دائرہ فلسفی نے کیا کھینچا ہے
میں سر پہ گناہوں کا لئے بار آیا میں حشر میں پی کے مست و سرشار آیا دیکھا جو مجھے جھومتے اور آگ لگی دوزخ یہ پکارا وہ گنہ گار آیا
غفلت کے تخم بونے والے اٹھے اوقات عزیز کھونے والے اٹھے چمکا جو تیرا نور تو آنکھیں کھولیں سورج نکلا تو سونے والے اٹھے
پیری میں شباب کی نشانی نہ ملی افسوس متاع زندگانی نہ ملی جو کچھ کھویا تھا ڈھونڈ کر پھر پایا ہر چیز ملی مگر جوانی نہ ملی
پیدل نہ مجھے روز شمار ان سے دے مرکب پہ لیے گنہ کا بار آنے دے میں گھر سے لحد تک بھی گیا ہو کے سوار محشر میں بھی تو مجھ کو سوار آنے دے
کچھ لطف سخن وقت ملاقات نہیں لب پر تعریف دل پہ گر ہات نہیں یک واہ کرے تو دوسرا آہ کرے جس میں نہ اثر ہو وہ مری بات نہیں
ہم راز رقیب ہو گئے ہو اب میرے قریب ہو گئے ہو تم اپنا مکان بھی اجالو تاروں کے منیب ہو گئے ہو بیمار امید کو دعا دو مجبور طبیب ہو گئے ہو تابوت میں روح پھونکنے کو تم اذن صلیب ہو گئے ہو ہر پردہ کے بعد ایک پردہ حد درجہ عجیب ہو گئے ہو سونے کی انگشتری میں احمدؔ انگشت غریب ہو گئے ہو
شاخ ارماں کی وہی بے صبری آج بھی ہے موجب گریۂ شام و سحری آج بھی ہے وہی آئینہ بکف دیدہ وری آج بھی ہے ان میں پہلے کی طرح خود نگری آج بھی ہے سنگ باروں کے لیے درد سری آج بھی ہے کل گراں تھی جو مری شیشہ گری آج بھی ہے آج بھی مورد الزام ہے معصوم نگاہ جرم الزام سے کل بھی تھا بری آج بھی ...
اس پار تو خیر آسماں ہے اس پار اگر دھواں دھواں ہے اندھا ہے غریب خوش گماں ہے اور سامنے کھائی ہے کنواں ہے دیوار کہن کے زیر سایہ بالو کے محل کی داستاں ہے جلتی ہوئی ریت کا سہارا جلتی ہوئی ریت بھی کہاں ہے پتھر کی لکیر کے علاوہ مٹی کا دیا بھی درمیاں ہے ہر شہر کے زیر پردہ جنگل احمدؔ ...
بازار کی فصیل بھی رخسار پر ملے دود چراغ جو کسی شوراب سے جلے ماتھے کی بندی ہاتھ کی راکھی دعا کے بول بیمار کے قریب مسیحائی میں ڈھلے کاغذ کی ناؤ ٹوٹا دیا تاش کا محل اپنے ہیں ہم جلیس یہی چند منچلے اتنا تو اہتمام رہے آرتی کے ساتھ گیہوں کی فصل کے لیے شوراب بھی ڈھلے احمدؔ اب آفتاب کے ...