زہر کو مے نہ کہوں مے کو گوارا نہ کہوں
زہر کو مے نہ کہوں مے کو گوارا نہ کہوں روشنی مانگ کے میں خود کو ستارہ نہ کہوں اپنی پلکوں پہ لیے پھرتا ہوں چاہت کے سراب دل کے صحرا کو سمندر کا کنارہ نہ کہوں ہجر کے پھول میں وہ چہرۂ زریں دیکھوں وصل کے خواب کو ملنے کا اشارہ نہ کہوں مرتے مرتے بھی یہ تحریر امانت میری موت کے بعد بھی ...