اگر اپنا کہا تم آپ ہی سمجھے تو کیا سمجھے
اگر اپنا کہا تم آپ ہی سمجھے تو کیا سمجھے مزا کہنے کا جب ہے اک کہے اور دوسرا سمجھے کلام میر سمجھے اور زبان میرزا سمجھے مگر ان کا کہا یہ آپ سمجھیں یا خدا سمجھے
اگر اپنا کہا تم آپ ہی سمجھے تو کیا سمجھے مزا کہنے کا جب ہے اک کہے اور دوسرا سمجھے کلام میر سمجھے اور زبان میرزا سمجھے مگر ان کا کہا یہ آپ سمجھیں یا خدا سمجھے
دل ہے نہ نشان بے دلی کا کیا وقت پڑا ہے بے کسی کا دیکھا کئے راستہ کسی کا تھا شغل یہ اپنی زندگی کا پروائے کرم نہ شکوۂ غم اللہ رے دماغ بے دلی کا میں اور یہ بے نیازئ شوق احسان ہے جوش بے خودی کا مرنا مرنے کی آرزو میں حاصل ہے یہ اپنی زندگی کا آنسو بھر آئے دل بھر آیا گر نام بھی سن لیا ...
درد مسلسل سے آہوں میں پیدا وہ تاثیر ہوئی اکثر چارہ گروں کی حالت مجھ سے سوا گمبھیر ہوئی کیا جانے کیوں مجھ سے میری برگشتہ تقدیر ہوئی مملکت عیش آنکھ جھپکتے ہی غم کی جاگیر ہوئی اس نے میرے شیشۂ دل کو دیکھ کے کیوں منہ موڑ لیا شاید اس آئینے میں اس کو ظاہر کوئی لکیر ہوئی جب بھی لکھا ...
کچھ سازگار جب مرے حالات بھی نہیں ایسے میں میرے سر پہ ترا بات بھی نہیں مشتاق دید بھی نہیں یہ طرفہ بات ہے دل میں خیال ترک ملاقات بھی نہیں کہتا نہیں میں آپ کو بیگانہ خو مگر پہلے سی مجھ پہ لطف و عنایات بھی نہیں مجھ کو بنایا مملکت غم کا تاجدار اور میرے لب پہ شکر کے کلمات بھی نہیں کس ...
بہاروں سے خزاں تک یوں ہی سیر گلستاں کر کے رفو کرتے رہے ہم جیب و داماں دھجیاں کر کے ملے گا کیا تجھے صیاد مجھ کو بے زباں کر کے سکون قلب ملتا ہے مجھے آہ و فغاں کر کے چمن کو روشنی دی نذر آتش آشیاں کر کے کیا یہ تجربہ ہم نے گھر اپنا رائیگاں کر کے حقیقت میں کرم تم نے کیا ہے حق شناسوں ...
حسرتیں آ آ کے جمع ہو رہی ہیں دل کے پاس کارواں گویا پہنچنے والا ہے منزل کے پاس بیچ میں جب تک تھیں موجیں ان میں شورش تھی بہت انتشار ان میں ہوا جب آ گئیں ساحل کے پاس نذر قاتل جان جب کر دی تو باقی کیا رہا اب تڑپنے کے علاوہ ہے ہی کیا بسمل کے پاس غرق کر دیں میری کشتی پھر یہ موجیں ...
کیوں کہوں کوئی قد آور نہیں آیا اب تک ہاں مرے قد کے برابر نہیں آیا اب تک ایک مدت سے ہوں میں سینہ سپر میداں میں حملہ آور کوئی بڑھ کر نہیں آیا اب تک یہ تو دریا ہیں جو آپے سے گزر جاتے ہیں جوش میں ورنہ سمندر نہیں آیا اب تک ہوں گے منزل سے ہم آغوش یہ امید بندھی راستے میں کوئی پتھر نہیں ...
جہاں نہ دل کو سکون ہے نہ ہے قرار مجھے یہ کس مقام پہ لے آئی یاد یار مجھے یہ بات سچ ہے میں برگ خزاں رسیدہ ہوں مگر سلام کیا کرتی ہے بہار مجھے ستم یہ ہے وہ کبھی بھول کر نہیں آیا تمام عمر رہا جس کا انتظار مجھے بس اپنے آپ سنورنا بھی کوئی بات ہوئی تو اپنی زلف کی صورت کبھی سنوار ...
جام تو جام مئے ہوش ربا بھی بدلی ساتھ ہی رندوں کے پینے کی ادا بھی بدلی فصل گل بدلی صبا بدلی فضا بھی بدلی آپ بدلے تو گلستاں کی ہوا بھی بدلی ٹوٹ جائے گا یقیناً دل مے خوار اگر نگۂ ساقئ میخانہ ذرا بھی بدلی بزم یاراں میں صدا سے مجھے پہچانتا کون میرے حالات جو بدلے تو صدا بھی ...
اک بار اپنا ظرف نظر دیکھ لیجئے پھر چاہے جس کے عیب و ہنر دیکھ لیجئے کیا جانے کس مقام پہ کس شے کی ہو طلب چلنے سے پہلے زاد سفر دیکھ لیجئے ہو جائے گا خود آپ کو احساس بے رخی گر آپ میرا زخم جگر دیکھ لیجئے سب کی طرف ہے آپ کی چشم نوازشات کاش ایک بار آپ ادھر دیکھ لیجئے تارے میں توڑ لاؤں ...