یہ صنم روایت و نقل کے ہبل و منات سے کم نہیں
یہ صنم روایت و نقل کے ہبل و منات سے کم نہیں تیرا فکر واعظ حق نوا کسی سومنات سے کم نہیں کہیں برق چمکے میں جل اٹھوں کوئی تارا ٹوٹے میں رو پڑوں یہ دل ستم زدہ ہم نشیں دل کائنات سے کم نہیں کہیں رنگ و نور جمال ہے کہیں بیم و فکر مآل ہے کہیں شام غیرت صبح ہے کہیں دن بھی رات سے کم نہیں جسے ...