قومی زبان

یہ صنم روایت و نقل کے ہبل و منات سے کم نہیں

یہ صنم روایت و نقل کے ہبل و منات سے کم نہیں تیرا فکر واعظ حق نوا کسی سومنات سے کم نہیں کہیں برق چمکے میں جل اٹھوں کوئی تارا ٹوٹے میں رو پڑوں یہ دل ستم زدہ ہم نشیں دل کائنات سے کم نہیں کہیں رنگ و نور جمال ہے کہیں بیم و فکر مآل ہے کہیں شام غیرت صبح ہے کہیں دن بھی رات سے کم نہیں جسے ...

مزید پڑھیے

آرزو کو روح میں غم بن کے رہنا آ گیا

آرزو کو روح میں غم بن کے رہنا آ گیا سہتے سہتے ہم کو آخر رنج سہنا آ گیا دل کا خوں آنکھوں میں کھنچ آیا چلو اچھا ہوا میری آنکھوں کو مرا احوال کہنا آ گیا سہل ہو جائے گی مشکل ضبط سوز و ساز کی خون دل کو آنکھ سے جس روز بہنا آ گیا میں کسی سے اپنے دل کی بات کہہ سکتا نہ تھا اب سخن کی آڑ میں ...

مزید پڑھیے

محبت ہے اذیت ہے ہجوم یاس و حسرت ہے

محبت ہے اذیت ہے ہجوم یاس و حسرت ہے جوانی اور اتنی دکھ بھری کیسی قیامت ہے وہ ماضی جو ہے اک مجموعہ اشکوں اور آہوں کا نہ جانے مجھ کو اس ماضی سے کیوں اتنی محبت ہے لب دریا مجھے لہروں سے یوں ہی چہل کرنے دو کہ اب دل کو اسی اک شغل بے معنی میں راحت ہے ترا افسانہ اے افسانہ خواں رنگیں سہی ...

مزید پڑھیے

قسم ان آنکھوں کی جن سے لہو ٹپکتا ہے

قسم ان آنکھوں کی جن سے لہو ٹپکتا ہے مرے جگر میں اک آتش کدہ دہکتا ہے گزشتہ کاہش و اندوہ کے خیال ٹھہر مرے دماغ میں شعلہ سا اک بھڑکتا ہے کسی کے عیش تمنا کی داستاں نہ کہو کلیجہ میری تمناؤں کا دھڑکتا ہے علاج اخترؔ ناکام کیوں نہیں ممکن اگر وہ جی نہیں سکتا تو مر تو سکتا ہے

مزید پڑھیے

سمجھتا ہوں میں سب کچھ صرف سمجھانا نہیں آتا

سمجھتا ہوں میں سب کچھ صرف سمجھانا نہیں آتا تڑپتا ہوں مگر اوروں کو تڑپانا نہیں آتا یہ جمنا کی حسیں امواج کیوں ارگن بجاتی ہیں مجھے گانا نہیں آتا مجھے گانا نہیں آتا یہ میری زیست خود اک مستقل طوفان ہے اخترؔ مجھے ان غم کے طوفانوں سے گھبرانا نہیں آتا

مزید پڑھیے

غم زدہ ہیں مبتلائے درد ہیں ناشاد ہیں

غم زدہ ہیں مبتلائے درد ہیں ناشاد ہیں ہم کسی افسانۂ غم ناک کے افراد ہیں گردش افلاک کے ہاتھوں بہت برباد ہیں ہم لب ایام پر اک دکھ بھری فریاد ہیں حافظے پر عشرتوں کے نقش باقی ہیں ابھی تو نے جو صدمے سہے اے دل تجھے بھی یاد ہیں رات بھر کہتے ہیں تارے دل سے روداد باب ان کو میری وہ شباب ...

مزید پڑھیے

پھول سونگھے جانے کیا یاد آ گیا

پھول سونگھے جانے کیا یاد آ گیا دل عجب انداز سے لہرا گیا اس سے پوچھے کوئی چاہت کے مزے جس نے چاہا اور جو چاہا گیا ایک لمحہ بن کے عیش جاوداں میری ساری زندگی پر چھا گیا غنچۂ دل ہائے کیسا غنچہ تھا جو کھلا اور کھلتے ہی مرجھا گیا رو رہا ہوں موسم گل دیکھ کر میں سمجھتا تھا مجھے صبر آ ...

مزید پڑھیے

آفتوں میں گھر گیا ہوں زیست سے بے زار ہوں

آفتوں میں گھر گیا ہوں زیست سے بے زار ہوں میں کسی رومان غم کا مرکزی کردار ہوں مدتوں کھیلی ہیں مجھ سے غم کی بے درد انگلیاں میں رباب زندگی کا اک شکستہ تار ہوں دوسروں کا درد اخترؔ میرے دل کا درد ہے مبتلائے غم ہے دنیا اور میں غم خوار ہوں

مزید پڑھیے

صاف ظاہر ہے نگاہوں سے کہ ہم مرتے ہیں

صاف ظاہر ہے نگاہوں سے کہ ہم مرتے ہیں منہ سے کہتے ہوئے یہ بات مگر ڈرتے ہیں ایک تصویر محبت ہے جوانی گویا جس میں رنگوں کے عوض خون جگر بھرتے ہیں عشرت رفتہ نے جا کر نہ کیا یاد ہمیں عشرت رفتہ کو ہم یاد کیا کرتے ہیں آسماں سے کبھی دیکھی نہ گئی اپنی خوشی اب یہ حالت ہے کہ ہم ہنستے ہوئے ...

مزید پڑھیے

سنا کے اپنے عیش تام کی روداد کے ٹکڑے

سنا کے اپنے عیش تام کی روداد کے ٹکڑے اڑا دوں گا کسی دن چرخ کی بیداد کے ٹکڑے اسیری کو عطا کر کے اسیری کا شرف ہم نے اڑا ڈالے خود اپنی فطرت آزاد کے ٹکڑے کہاں کا آدمی انسان کیسا ماحصل یہ ہے کہیں اشخاص کے پرزے کہیں افراد کے ٹکڑے تباہی کے مزوں سے بھی گئے اب واۓ محرومی سمیٹوں گا کہاں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5453 سے 6203