قومی زبان

بہار آئی زمانہ ہوا خراباتی

بہار آئی زمانہ ہوا خراباتی ہمارے دل میں بھی اک لہر کاش آ جاتی ہوا بھی سرد ہے بھیگی ہے رات بھی لیکن سلگ رہی ہے کسی آگ سے مری چھاتی مرے پڑوس میں یہ ذکر ہے کئی دن سے صدا جو آتی تھی رونے کی اب نہیں آتی لگا کے سینے سے شادابیوں کو سو جاتا مجھے بہار جوانی میں موت آ جاتی بجا رہا ہے کوئی ...

مزید پڑھیے

کبھی زخم زخم نکھر کے دیکھ کبھی داغ داغ سنور کے دیکھ

کبھی زخم زخم نکھر کے دیکھ کبھی داغ داغ سنور کے دیکھ کبھی تو بھی ٹوٹ مری طرح کبھی ریزہ ریزہ بکھر کے دیکھ سر خار سے سر سنگ سے جو ہے میرا جسم لہو لہو کبھی تو بھی تو مرے سنگ میل کبھی رنگ میرے سفر کے دیکھ اسی کھیل سے کبھی پائے گا تو گداز قلب کی نعمتیں کبھی روٹھ جا کبھی من کے دیکھ کبھی ...

مزید پڑھیے

یہ شوق سارے یقین و گماں سے پہلے تھا

یہ شوق سارے یقین و گماں سے پہلے تھا میں سجدہ ریز نوائے اذاں سے پہلے تھا ہیں کائنات کی سب وسعتیں اسی کی گواہ جو ہر زمین سے ہر آسماں سے پہلے تھا ستم ہے اس سے کہوں جسم و جاں پہ کیا گزری کہ جس کو علم مرے جسم و جاں سے پہلے تھا اسی نے دی ہے وہی ایک دن بجھائے گا پیاس جو سوز سینہ و اشک ...

مزید پڑھیے

سناٹا طوفاں سے سوا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے

سناٹا طوفاں سے سوا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے یہ کچھ اور بڑا دھوکا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے ضبط جنوں سے اندازوں پر در تو بند نہیں ہوتے تو مجھ سے بڑھ کر رسوا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے رہنے دے یہ حرف تسلی میری ہمت پست نہ کر ناکامی ہی میں رستا ہو یہ بھی تو ہو سکتا ہے ڈھونڈنے والا ڈھونڈ رہا ...

مزید پڑھیے

یہ تن گھرا ہوا چھوٹے سے گھر میں رہتا ہے

یہ تن گھرا ہوا چھوٹے سے گھر میں رہتا ہے پر اپنا من کہ جو ہر دم سفر میں رہتا ہے دھنک کی طرح نکھرتا ہے شب کو خوابوں میں وہی جو دن کو مری چشم تر میں رہتا ہے وصال اس کو لکھوں میں کہ ہجر کا آغاز جو ایک لمحہ مسلسل نظر میں رہتا ہے چلو وہ ہم نہیں کوئی تو ہے ضرور کہ جو سکوں سے سایۂ دیوار و ...

مزید پڑھیے

آج یوں مجھ سے ملا ہے کہ خفا ہو جیسے

آج یوں مجھ سے ملا ہے کہ خفا ہو جیسے اس کا یہ حسن بھی کچھ میری خطا ہو جیسے وہی مایوسی کا عالم وہی نومیدی کا رنگ زندگی بھی کسی مفلس کی دعا ہو جیسے کبھی خاموشی بھی یوں بولتی ہے پیار کے بول کوئی خاموشی میں بھی نغمہ سرا ہو جیسے حرف دشنام سے یوں اس نے نوازا ہم کو یہ ملامت ہی محبت کا ...

مزید پڑھیے

کیا ہے میں نے تعاقب وہ صبح و شام اپنا

کیا ہے میں نے تعاقب وہ صبح و شام اپنا میں دشت دشت پکارا کیا ہوں نام اپنا میں تجھ کو بھول نہ پاؤں یہی سزا ہے مری میں اپنے آپ سے لیتا ہوں انتقام اپنا یہ نسبتیں کبھی ذاتی کبھی صفاتی ہیں ہر ایک شکل میں لازم ہے احترام اپنا اسی تلاش میں پہونچا ہوں عشق تک تیرے کہ اس حوالے سے پا جاؤں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5452 سے 6203