الٰہی اس کو محبت سے کچھ تعلق ہے
الٰہی اس کو محبت سے کچھ تعلق ہے جو اس طرح سے سناتا ہے نغمۂ رنگیں جہاں رباب کی آواز کان میں آئی کسی کی یاد نے سینے میں بجلیاں بھر دیں
الٰہی اس کو محبت سے کچھ تعلق ہے جو اس طرح سے سناتا ہے نغمۂ رنگیں جہاں رباب کی آواز کان میں آئی کسی کی یاد نے سینے میں بجلیاں بھر دیں
ہمیشہ جاگتے ہی جاگتے سحر کر دی کبھی ہنسا کبھی آہیں بھریں کبھی رویا بنا کے چاند کو اپنا گواہ کہتا ہوں میں آج تک شب مہتاب میں نہیں سویا
دل حسرت زدہ میں ایک شعلہ سا بھڑکتا ہے محبت آہیں بھرتی ہے تمنائیں ترستی ہیں کوئی دیکھے بھری برسات کی راتوں میں حال اپنا گھٹا چھائی ہوئی ہوتی ہے اور آنکھیں برستی ہیں
جن کو ہے عیش دل میسر، وہ ہائے کیا کھل کھلا کے ہنستے ہیں اور ہم بے نصیب اے اخترؔ مسکرانے کو بھی ترستے ہیں
حسن کی داستاں بنا ڈالا عشق کا ترجماں بنا ڈالا بھر کے اعضا میں رقص کا جادو تو نے ان کو زباں بنا ڈالا
زخم کھانے کے دن گئے لیکن یاد کے زخم تو مہکتے ہیں آنکھیں اب بھی برستی ہیں اخترؔ دل کے داغ آج بھی دہکتے ہیں
خوں بھرے جام انڈیلتا ہوں میں ٹیس اور درد جھیلتا ہوں میں تم سمجھتے ہو شعر کہتا ہوں اپنے زخموں سے کھیلتا ہوں میں
محبت کرنے والوں کے بہار افروز سینوں میں رہا کرتی ہے شادابی خزاں کے بھی مہینوں میں ضیائے مہر آنکھوں میں ہے توبہ مہ جبینوں کے کہ فطرت نے بھرا ہے حسن خود اپنا حسینوں میں ہوائے تند ہے گرداب ہے پر شور دھارا ہے لیے جاتے ہیں ذوق عافیت سی شے سفینوں میں میں ہنستا ہوں مگر اے دوست اکثر ...
جو داغ بن کے تمنا تمام ہو جائے ہمیں تو خون بھی رونا حرام ہو جائے شباب درد مری زندگی کی صبح سہی پیوں شراب یہاں تک کہ شام ہو جائے یہی ہے مصلحت انتہائے راز اخترؔ جہاں میں رسم محبت نہ عام ہو جائے
سننے والے فسانہ تیرا ہے صرف طرز بیاں ہی میرا ہے یاس کی تیرگی نے گھیرا ہے ہر طرف ہول ناک اندھیرا ہے اس میں کوئی مرا شریک نہیں میرا دکھ آہ صرف میرا ہے چاندنی چاندنی نہیں اخترؔ رات کی گود میں سویرا ہے