قومی زبان

محبت کرنے والوں کے بہار افروز سینوں میں

محبت کرنے والوں کے بہار افروز سینوں میں رہا کرتی ہے شادابی خزاں کے بھی مہینوں میں ضیائے مہر آنکھوں میں ہے توبہ مہ جبینوں کے کہ فطرت نے بھرا ہے حسن خود اپنا حسینوں میں ہوائے تند ہے گرداب ہے پر شور دھارا ہے لیے جاتے ہیں ذوق عافیت سی شے سفینوں میں میں ہنستا ہوں مگر اے دوست اکثر ...

مزید پڑھیے

جو داغ بن کے تمنا تمام ہو جائے

جو داغ بن کے تمنا تمام ہو جائے ہمیں تو خون بھی رونا حرام ہو جائے شباب درد مری زندگی کی صبح سہی پیوں شراب یہاں تک کہ شام ہو جائے یہی ہے مصلحت انتہائے راز اخترؔ جہاں میں رسم محبت نہ عام ہو جائے

مزید پڑھیے

سننے والے فسانہ تیرا ہے

سننے والے فسانہ تیرا ہے صرف طرز بیاں ہی میرا ہے یاس کی تیرگی نے گھیرا ہے ہر طرف ہول ناک اندھیرا ہے اس میں کوئی مرا شریک نہیں میرا دکھ آہ صرف میرا ہے چاندنی چاندنی نہیں اخترؔ رات کی گود میں سویرا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 5449 سے 6203