میں نے کہا کیوں لاش پہ آقا کی ہے مرتا
میں نے کہا کیوں لاش پہ آقا کی ہے مرتا ہوٹل کی طرف جا کہ غذا بھی ہے کوئی چیز کتے نے کہا ہو یہ جہالت کہ تعصب لیکن مرے نزدیک وفا بھی ہے کوئی چیز
میں نے کہا کیوں لاش پہ آقا کی ہے مرتا ہوٹل کی طرف جا کہ غذا بھی ہے کوئی چیز کتے نے کہا ہو یہ جہالت کہ تعصب لیکن مرے نزدیک وفا بھی ہے کوئی چیز
چھوڑ لٹریچر کو اپنی ہسٹری کو بھول جا شیخ و مسجد سے تعلق ترک کر اسکول جا چار دن کی زندگی ہے کوفت سے کیا فائدہ کھا ڈبل روٹی کلرکی کر خوشی سے پھول جا
نئی تہذیب میں بھی مذہبی تعلیم شامل ہے مگر یوں ہی کہ گویا آب زمزم مے میں داخل ہے کہاں تک داد دوں تیری بلاغت کی میں اے اکبرؔ یہ تیرا ایک مطلع لاکھ مضمونوں کا حاصل ہے
جس روشنی میں لوٹ ہی کی آپ ہمیں سوجھے تہذیب کی میں اس کو تجلی نہ کہوں گا لاکھوں کو مٹا کر جو ہزاروں کو ابھارے اس کو تو میں دنیا کی ترقی نہ کہوں گا
واہ رے سید پاکیزہ گہر کیا کہنا یہ دماغ اور حکیمانہ نظر کیا کہنا قوم کے عشق میں پر سوز جگر کیا کہنا ایک ہی دھن میں ہوئی عمر بسر کیا کہنا
اب کہاں تک بت کدہ میں صرف ایماں کیجئے تا کجا عشق بتاں میں سست پیماں کیجئے ہے یہی بہتر علی گڑھ جا کے سید سے کہوں مجھ سے چندہ لیجئے مجھ کو مسلماں کیجئے
قدیم وضع پہ قائم رہوں اگر اکبر تو صاف کہتے ہیں سید ہی رنگ ہے میلا جدید طرز اگر اختیار کرتا ہوں خود اپنی قوم مچاتی ہے شور و واویلا
دیکھتا ہے اک عمر سے بندہ بس یہی باتیں اور یہی فنڈہ ہوتا ہے کچھ کام نہ دھندہ لاؤ چندہ لاؤ چندہ
سانس لیتے ہوئے بھی ڈرتا ہوں یہ نہ سمجھیں کہ آہ کرتا ہوں بحر ہستی میں ہوں مثال حباب مٹ ہی جاتا ہوں جب ابھرتا ہوں اتنی آزادی بھی غنیمت ہے سانس لیتا ہوں بات کرتا ہوں شیخ صاحب خدا سے ڈرتے ہوں میں تو انگریزوں ہی سے ڈرتا ہوں آپ کیا پوچھتے ہیں میرا مزاج شکر اللہ کا ہے مرتا ہوں یہ ...
دل مرا جس سے بہلتا کوئی ایسا نہ ملا بت کے بندے ملے اللہ کا بندا نہ ملا بزم یاراں سے پھری باد بہاری مایوس ایک سر بھی اسے آمادۂ سودا نہ ملا گل کے خواہاں تو نظر آئے بہت عطر فروش طالب زمزمۂ بلبل شیدا نہ ملا واہ کیا راہ دکھائی ہے ہمیں مرشد نے کر دیا کعبہ کو گم اور کلیسا نہ ملا رنگ ...