قومی زبان

دانا ہوئے بزرگ ہوئے رہنما ہوئے

دانا ہوئے بزرگ ہوئے رہنما ہوئے وہ دن کہ ہم تھے شمع مجالس ہوا ہوئے ان کو نہیں دماغ تلذذ جہان میں جو ابتدا سے وقف غم انتہا ہوئے خورشید کی نگاہ سے شبنم ہے مشتہر وہ آشنا ہوئے ہیں تو سب آشنا ہوئے منزل ہے شہریارئ‌ عالم تو دیکھنا اس راہ میں ہزاروں قبیلے فنا ہوئے حد سے زیادہ ہم نے ...

مزید پڑھیے

خوبیٔ طرز مقالات سے کیا ہوتا ہے

خوبیٔ طرز مقالات سے کیا ہوتا ہے بات کرتے رہے ہم بات سے کیا ہوتا ہے رات کٹ جائے تو پھر رات چلی آئے گی رات کٹ جائے گی اک رات سے کیا ہوتا ہے کسی جانب سے جواب آئے تو کچھ بات چلے کاوش حسن سوالات سے کیا ہوتا ہے جب کہ تقطیر رگ جاں سے بندھی ہے تقدیر بے خبر ذکر و مناجات سے کیا ہوتا ہے دان ...

مزید پڑھیے

یوں خود کو خواہشات کے اکثر دکھائے رنگ

یوں خود کو خواہشات کے اکثر دکھائے رنگ ہولی میں جیسے کوئی اکیلے اڑائے رنگ دل سے بھلا کے ذہن کی ویرانیوں کا غم دیوار و در پہ سب نے ہیں کیا کیا سجائے رنگ تصویر جو بنائی ہے اپنوں کے واسطے ڈر ہے کہ اس میں لوگ نہ ڈھونڈیں پرائے رنگ تحفے میں دوں کسی کو یہ حسرت ہی رہ گئی مدت سے چٹکیوں ...

مزید پڑھیے

چاہو تو مرا دکھ مرا آزار نہ سمجھو

چاہو تو مرا دکھ مرا آزار نہ سمجھو لیکن مرے خوابوں کو گنہ گار نہ سمجھو آساں نہیں انصاف کی زنجیر ہلانا دنیا کو جہانگیر کا دربار نہ سمجھو آنگن کے سکوں کی کوئی قیمت نہیں ہوتی کہتے ہو جسے گھر اسے بازار نہ سمجھو اجڑے ہوئے طاقوں پہ جمی گرد کی تہہ میں روپوش ہیں کس قسم کے اسرار نہ ...

مزید پڑھیے

خود فراموش جو پایا ہے مجھے دنیا نے

خود فراموش جو پایا ہے مجھے دنیا نے میرے ہاتھوں سے بھی لوٹا ہے مجھے دنیا نے دل تو بے دام بکا ذہن کی قیمت نہ لگی کیسے بازار میں بیچا ہے مجھے دنیا نے وقف جذبات نہ ہونے کی سزا دی ہے عجب آتش سرد میں پھونکا ہے مجھے دنیا نے ہم سفر مجھ کو بنانے سے گریزاں ہے مگر ہر نئے موڑ پہ ڈھونڈا ہے ...

مزید پڑھیے

لاکھ حربے سہی ہر وضع کے شیطان کے پاس

لاکھ حربے سہی ہر وضع کے شیطان کے پاس ڈھال ایمان کی موجود ہو انسان کے پاس ملک سمجھو اسے پامال بجا ہے اک دین اب تو بس اک یہی دولت ہے مسلمان کے پاس لگتے ہی تیر تمہارا گئی یوں جان نکل بیٹھ کر جاتی گھڑی دو گھڑی مہمان کے پاس آدمیت ہی تو بنیاد ہے ہر خوبی کی ہو نہ یہ بھی تو دھرا کیا ہے ...

مزید پڑھیے

ہے رشک کیوں یہ ہم کو سر دار دیکھ کر

ہے رشک کیوں یہ ہم کو سر دار دیکھ کر دینے ہیں بادہ ظرف قدح خوار دیکھ کر خود کردۂ ازل سے تجلی طور کے جھپکے کی آنکھ کیا تری تلوار دیکھ کر آساں پسندیوں سے ہیں بیزار اہل عشق چھانٹا یہ مرحلہ بھی ہے دشوار دیکھ کر بن جائے گا یہ رشتۂ تسبیح ایک دن دھوکا نہ کھائیو کہیں زنار دیکھ کر اس ...

مزید پڑھیے

سوز دروں سے جل بجھو لیکن دھواں نہ ہو

سوز دروں سے جل بجھو لیکن دھواں نہ ہو ہے درد دل کی شرط کہ لب پر فغاں نہ ہو پھر ہو رہا ہے شور صلائے نبرد عشق ہاں اے دہان زخم جواب الاماں نہ ہو بازار جاں فروش میں سودا نہ ہو یہ کیا گاہک ملے تو جنس تو یہ بھی گراں نہ ہو اس درد لا جواب کی کیونکر کروں دوا وہ حال دل نشیں بھی تو مجھ سے بیاں ...

مزید پڑھیے

قربت اور دوری

جذبۂ مذہب سیاست کا خروش علم کی جہد مسلسل فن کا جوش آدمی کی سمت ہے سب کا جھکاؤ سب کو ہے انساں سے بنیادی لگاؤ بات یہ ان سب کے ہے مد نظر آدمی سے ہوں سدا نزدیک تر سب کو قرب انسان کا منظور ہے آدمی ہی آدمی سے دور ہے

مزید پڑھیے

مٹی

مبارک چیز ہے نعمت ہے مٹی کہ اس سے آدمی نے جسم پایا بنائے رزق ہے دولت ہے مٹی کہ اس نے دانۂ گندم اگایا جہاں میں باعث رحمت ہے مٹی کہ انسانوں نے اس سے گھر بنایا مگر اک دن یہ مٹی مثل اژدر نگل جائے گی ہم کو تم کو اخترؔ

مزید پڑھیے
صفحہ 5393 سے 6203