دانا ہوئے بزرگ ہوئے رہنما ہوئے
دانا ہوئے بزرگ ہوئے رہنما ہوئے وہ دن کہ ہم تھے شمع مجالس ہوا ہوئے ان کو نہیں دماغ تلذذ جہان میں جو ابتدا سے وقف غم انتہا ہوئے خورشید کی نگاہ سے شبنم ہے مشتہر وہ آشنا ہوئے ہیں تو سب آشنا ہوئے منزل ہے شہریارئ عالم تو دیکھنا اس راہ میں ہزاروں قبیلے فنا ہوئے حد سے زیادہ ہم نے ...