قومی زبان

ہم اپنے کھیتوں میں ہوش بوئیں گے فصل آور حواس دیں گے

ہم اپنے کھیتوں میں ہوش بوئیں گے فصل آور حواس دیں گے زمیں کے ننگے بدن کو آخر پہاڑ کب تک لباس دیں گے فروش گاہوں سے جنس تازہ کبھی کی نایاب ہو چکی ہے یہ کار با اضطراب چمکے ہم اپنی جانوں کی راس دیں گے ہم آب بردوش ڈائنوں کے گلے میں کانٹے اتار دیں گے کہ ان کے ہونٹوں سے خون برسے کچھ ایسی ...

مزید پڑھیے

کبھی جو نور کا مظہر رہا ہے

کبھی جو نور کا مظہر رہا ہے وہ کن تاریکیوں میں مر رہا ہے کسی سورج کا ٹکڑا توڑ لائیں زمیں کا جسم ٹھنڈا پڑ رہا ہے کہیں آثار ڈھونڈیں زندگی کے کبھی یہ چاند میرا گھر رہا ہے متاع آسماں بھی لٹ نہ جائے ستارے پر ستارہ گر رہا ہے ہوا میں لفظ لکھے جا رہے ہیں کوئی زخمی پرندہ اڑ رہا ہے

مزید پڑھیے
صفحہ 5317 سے 6203