یہ تو ہیں چند ہی جلوے جو چھلک آئے ہیں
یہ تو ہیں چند ہی جلوے جو چھلک آئے ہیں رنگ ہیں اور مرے دل کے گلستاں میں ابھی میرے آغوش تخیل میں ہیں لاکھوں صبحیں آفتاب اور بھی ہیں میرے گریباں میں ابھی
یہ تو ہیں چند ہی جلوے جو چھلک آئے ہیں رنگ ہیں اور مرے دل کے گلستاں میں ابھی میرے آغوش تخیل میں ہیں لاکھوں صبحیں آفتاب اور بھی ہیں میرے گریباں میں ابھی
عشق اک جنس گراں مایہ ہے اک دولت ہے یہ مگر عمر کا حاصل تو نہیں ہے اے دوست منزلیں اور بھی ہیں اس سے حسیں اس سے جمیل وصل کچھ آخری منزل تو نہیں ہے اے دوست
تبسم لب ساقی چمن کھلا ہی گیا نشاط فصل بہاراں دلوں پہ چھا ہی گیا کہو حکایت گیسو فسانۂ قد یار شکست دار و رسن کا زمانہ آ ہی گیا
سالہا سال فضاؤں میں شرربار رہی ایک پر سوز ہیولیٰ میں گرفتار رہی خاک ہر چند کہ تھی پست و حقیر و نادار اپنی فطرت سے مگر بر سر پیکار رہی
عطا ہوئی ہے مرے دل کی سلطنت تجھ کو حریم جاں میں اتر شمع دلبری لے کر گزر وفا کے شبستان رنگ و نکہت میں مزاج آدمی و شیوۂ پری لے کر
حسن ہی حسن ہے فطرت کے صنم خانے میں نور ہی نور ہے اس خاک کے کاشانے میں رات آتی ہے ستاروں کی ردا اوڑھے ہوئے صبح مے پیتی ہے خورشید کے پیمانے میں
ہم اپنے کھیتوں میں ہوش بوئیں گے فصل آور حواس دیں گے زمیں کے ننگے بدن کو آخر پہاڑ کب تک لباس دیں گے فروش گاہوں سے جنس تازہ کبھی کی نایاب ہو چکی ہے یہ کار با اضطراب چمکے ہم اپنی جانوں کی راس دیں گے ہم آب بردوش ڈائنوں کے گلے میں کانٹے اتار دیں گے کہ ان کے ہونٹوں سے خون برسے کچھ ایسی ...
کبھی جو نور کا مظہر رہا ہے وہ کن تاریکیوں میں مر رہا ہے کسی سورج کا ٹکڑا توڑ لائیں زمیں کا جسم ٹھنڈا پڑ رہا ہے کہیں آثار ڈھونڈیں زندگی کے کبھی یہ چاند میرا گھر رہا ہے متاع آسماں بھی لٹ نہ جائے ستارے پر ستارہ گر رہا ہے ہوا میں لفظ لکھے جا رہے ہیں کوئی زخمی پرندہ اڑ رہا ہے
آ تیرے ہونٹ چوم لوں اے مژدۂ نجات صدیوں کے بعد ختم پہ آئی ستم کی رات ہر شاخ پر کھلے ہوئے رنگ شفق کے پھول ہر نخل کی کمر میں نسیم سحر کا ہات
دیکھو تو تیرہ و تاریک فضا کا عالم کس قدر درہم و برہم ہے ستاروں کا نظام تو چمکتا ہے افق پر ابھی مانند ہلال آسماں وقت کا ہے منتظر ماہ تمام