قومی زبان

دھند

مسافروں سے کہو آسماں کو مت دیکھیں نہ کوئی ابر کا ٹکڑا نہ کوئی تار شفق گذشتہ شام کا اٹھا ہوا وہ گرد و غبار ابھی تلک ہیں فضائیں اسی سے آلودہ وہ ایک آگ کبھی زاد راہ تھی۔ اپنا جہاں قیام کیا تھا وہیں پہ چھوڑ آئے تو اہل قافلہ اب داستان گو سے کہو کوئی روایت کہنہ کوئی حکایت نو جو خوں کو ...

مزید پڑھیے

کشف

گھور اندھیرے صحراؤں میں جب میں بھٹکا اک ٹیلے پر چڑھ کر چیخا خدایا!! اک سکتے کے بعد جواباً ستر بار اپنی ہی آواز سنائی دی مجھ کو

مزید پڑھیے

تلاش آخر

آؤ آج سے ہم بھی خوف خوف ہو جائیں خوف بھی تو نشہ ہے خوف بھی تو قوت ہے خوف کے لیے بھی تو جان کی ضرورت ہے آؤ اپنی طاقت کو ہم بھی آزما دیکھیں خوف خوف ہو جائیں خود نمائی کے تیور ڈھنگ پردہ داری کے ہم نوائی کے دعوے رنگ دشمنی کے سب، خوف کی علامت ہیں قربتوں کی خواہش میں سر گرانیاں کیا ...

مزید پڑھیے

خواب اک پرندہ ہے

خواب اک پرندہ ہے آنکھ کے قفس میں یہ جب تلک مقید ہے عکس بن کے زندہ ہے خواب اک پرندہ ہے خواب اک پرندہ ہے زرد موسموں میں بھی خوش گوار یادوں کو تازہ کار رکھتا ہے آنے والے موسم کے گیت گنگناتا ہے شاخ شاخ پر مہکے پھول چن کے لاتا ہے اور پھر ہوا کے دوش خوشبوؤں کا ساتھی ہے خواب اک پرندہ ...

مزید پڑھیے

یاد اک دریچہ ہے

ذہن کی عمارت میں یاد اک دریچہ ہے اور اس دریچے کے گرد دور تک پھیلا وقت کا سمندر ہے وقت کے سمندر میں دن مہینے لہریں ہیں تند و تیز لہروں پر تیرتے ہوئے لمحے خوش گلو پرندے ہیں یاد اک دریچہ ہے جب کبھی اکیلے میں دل اداس ہوتا ہے ہم اسی دریچے سے پار جھانک لیتے ہیں وقت کے سمندر میں خوش گوار ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5315 سے 6203