قومی زبان

کس طرح جاؤں کہ یہ آئے ہوئے رات میں ہیں

کس طرح جاؤں کہ یہ آئے ہوئے رات میں ہیں یہ اندھیرے نہیں ہیں سائے مری گھات میں ہیں ملتا رہتا ہوں میں ان سے تو یہ مل لیتے ہیں یار اب دل میں نہیں رہتے ملاقات میں ہیں یہ تو ناکام اثاثہ ہے سمندر کے پاس کچھ غضب ناک سی لہریں مرے جذبات میں ہیں یہ دھوئیں میں جو نظر آتے ہیں سرسبز یہاں یہ ...

مزید پڑھیے

پہلے پہل لڑیں گے تمسخر اڑائیں گے

پہلے پہل لڑیں گے تمسخر اڑائیں گے جب عشق دیکھ لیں گے تو سر پر بٹھائیں گے تو تو پھر اپنی جان ہے تیرا تو ذکر کیا ہم تیرے دوستوں کے بھی نخرے اٹھائیں گے غالبؔ نے عشق کو جو دماغی خلل کہا چھوڑیں یہ رمز آپ نہیں جان پائیں گے پرکھیں گے ایک ایک کو لے کر تمہارا نام دشمن ہے کون دوست ہے پہچان ...

مزید پڑھیے

تیرے آگے سرکشی دکھلاوں گا؟

تیرے آگے سرکشی دکھلاوں گا؟ تو تو جو کہہ دے وہی بن جاؤں گا اے زبوری پھول اے نیلے گلاب مت خفا ہو میں دوبارہ آؤں گا سات صدیاں سات راتیں سات دن اک پہیلی ہے کسے سمجھاؤں گا یار ہو جائے سہی تجھ سے مجھے تیرے قبضے سے تجھے چھڑواؤں گا تم بہت معصوم لڑکی ہو تمہیں نظم بھیجوں گا دعا پہناؤں ...

مزید پڑھیے

غموں کی دھوپ میں جلتا ہوں مثل صحرا میں

غموں کی دھوپ میں جلتا ہوں مثل صحرا میں بچھڑ گیا مرا سایہ کھڑا ہوں تنہا میں کوئی بھی ساتھ کہاں تھا رہ محبت میں یہ اور بات کہ اب ہو گیا اکیلا میں کہیں تو بچھڑے ہوؤں کا سراغ پاؤں گا نکل پڑا ہوں یہی سوچ کر اکیلا میں زمانہ مجھ کو سمجھنے میں دیر کرتا رہا یہ اور بات زمانے کو بھی نہ ...

مزید پڑھیے

جنگل بھی تھے دریا بھی

جنگل بھی تھے دریا بھی ساتھ چلا اک رستہ بھی محرومی نے خوابوں کا جھلس دیا ہے چہرہ بھی روٹھ گئی خوشبو میری چھوڑ گیا ہے سایہ بھی تو ہر شخص کا دکھ بانٹے تیرا دکھ کوئی سمجھا بھی اک لمحہ تھا حاصل عمر یاد نہیں وہ لمحہ بھی یاد سفر میں ساتھ رہی یاد تھی میرا رستہ بھی سونا شہر اداس ...

مزید پڑھیے

آتش عشق میں جلتا رہا بجھتا رہا دل

آتش عشق میں جلتا رہا بجھتا رہا دل رنج‌ بیتاب سے دریا کبھی صحرا رہا دل اک سفر ہاں وہ سفر پاؤں کی زنجیر بنا بعد اے یار تری یاد میں جلتا رہا دل محفل آرائی کی خواہش تھی سو دل اس کے سبب محفل آرا رہا ویراں رہا تنہا رہا دل موجۂ خوں کسی سینے میں رکا تھا کل رات درد اٹھتا رہا چبھتا رہا ...

مزید پڑھیے

کہا تھا میں نے کیا تو نے سنا کیا

کہا تھا میں نے کیا تو نے سنا کیا مگر اس بات کا تجھ سے گلا کیا جو میرے کرب سے غافل رہا تھا اسی کو اب کہوں درد آشنا کیا یہی ٹھہری ہے کشتی ڈوب جائے تو ایسے میں خدا کیا ناخدا کیا دلوں کے رابطے باقی ہیں جاناں تو پھر یہ درمیاں کا فاصلہ کیا گلی کوچوں میں سناٹا ہے کیسا علی وجدانؔ عاشق ...

مزید پڑھیے

پہلے بھی کون ساتھ تھا

پہلے بھی کون ساتھ تھا اب جو کوئی نہیں رہا وقت ستم ظریف تھا وقت کا پھر بھی کیا گلہ کیسی عجیب شام تھی کیسا عجیب واقعہ کہنے کو کہہ رہے ہیں لوگ میں نے تجھے بھلا دیا قصہ یہ ہے کہ میں تجھے دل سے کہاں بھلا سکا ترک تعلقات کا باقی ہے ایک مرحلہ باقی ہے اب بھی ذہن میں خوابوں کا ایک ...

مزید پڑھیے

اہل دل فسانوں میں ذکر یار کرتے ہیں

اہل دل فسانوں میں ذکر یار کرتے ہیں مسکرا کے محفل کو اشک بار کرتے ہیں بد نصیب دھرتی کی داستاں ہی ایسی ہے اس کے چاہنے والے اس پہ وار کرتے ہیں دھجیوں کے سودا گر آئیں آ کے لے جائیں ہم خوشی سے دامن کو تار تار کرتے ہیں حادثوں کے کندھوں پر جسم و جاں کو لے آؤ اسپتال کے کمرے انتظار کرتے ...

مزید پڑھیے

گھر سے باہر نکل کے دیکھ ذرا

گھر سے باہر نکل کے دیکھ ذرا کون صحرا میں دے گیا ہے صدا میں نے جب اس کی خیریت پوچھی اس نے باتوں میں مجھ کو ٹال دیا کتنے پنکھے لگا دئے چھت میں پھر بھی گرمی کا زور کم نہ ہوا اونچی اونچی عمارتوں میں کہاں جو سکوں دل کو جھونپڑے میں ملا ساتھ چلتے ہیں لوگ پل دو پل طے ہوا ہے ہر اک سفر ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5308 سے 6203