قومی زبان

دیا منڈیر پہ دل کی جلا رہی ہوں میں

دیا منڈیر پہ دل کی جلا رہی ہوں میں ہوا مزاج کو واپس بلا رہی ہوں میں مجھے کسی کے بھی جانے سے دکھ نہیں ہوتا نہ جانے کس لیے آنسو بہا رہی ہوں میں یہ تیری مرضی کہ آئے نہ آئے واپس تو نظام دل کو تو دل سے چلا رہی ہوں میں اسی چراغ سے ہر سمت روشنی ہوگی جلا ہے دل تو دیے سب بجھا رہی ہوں ...

مزید پڑھیے

دیر سویر تو ہو جاتی ہے

دروازے پہ جو آنکھیں ہیں آنکھوں میں جو سپنے ہیں ان سپنوں میں جو مورت ہے وہ میری ہے دروازے کے باہر کیا ہے اک رستہ ہے جس پر میری یادوں کا شہر بسا ہے میرا رستہ دیکھنے والی ان آنکھوں کا جال بچھا ہے مجھے پتا ہے لیکن ان آنکھوں کو کیسے میں یہ بات بتاؤں ہر رستہ پہ اتنی بھیڑ چلنا مشکل ہو ...

مزید پڑھیے

اک گلی سے خوشبو کی رسم و راہ کافی ہے

اک گلی سے خوشبو کی رسم و راہ کافی ہے لاکھ جبر موسم ہو یہ پناہ کافی ہے نیت زلیخا کی کھوج میں رہے دنیا اپنی بے گناہی کو دل گواہ کافی ہے عمر بھر کے سجدوں سے مل نہیں سکی جنت خلد سے نکلنے کو اک گناہ کافی ہے آسماں پہ جا بیٹھے یہ خبر نہیں تم کو عرش کے ہلانے کو ایک گناہ کافی ہے پیروی سے ...

مزید پڑھیے

میں نے سوچا ہے رات بھر تم کو

میں نے سوچا ہے رات بھر تم کو کاش ہو جائے یہ خبر تم کو زندگی میں کبھی کسی کو بھی میں نے چاہا نہیں مگر تم کو جانتی ہوں کہ تم نہیں موجود ڈھونڈھتی ہے مگر نظر تم کو تم بھی افسوس راہ رو نکلے میں تو سمجھی تھی ہم سفر تم کو مجھ میں اب میں نہیں رہی باقی میں نے چاہا ہے اس قدر تم کو

مزید پڑھیے

اے خدا عجب ہے ترا جہاں مرا دل یہاں پہ لگا نہیں

اے خدا عجب ہے ترا جہاں مرا دل یہاں پہ لگا نہیں جہاں کوئی اہل وفا نہیں کسی لب پہ حرف دعا نہیں بڑا شور تھا ترے شہر کا سو گزار آئے ہیں دن وہاں وہ سکوں کہ جس کی تلاش ہے ترے شہر میں بھی ملا نہیں یہ جو حشر برپا ہے ہر طرف تو بس اس کا ہے یہی اک سبب ہے لبوں پہ نام خدا مگر کسی دل میں خوف خدا ...

مزید پڑھیے

خوشی کا لمحہ ریت تھا سو ہاتھ سے نکل گیا

خوشی کا لمحہ ریت تھا سو ہاتھ سے نکل گیا وہ چودھویں کا چاند تھا اندھیری شب میں ڈھل گیا ہے وصف اس کے پاس یہ بدل سکے ہر ایک شے سو مجھ کو بھی بدل دیا اور آپ بھی بدل گیا مچل رہا تھا دل بہت سو دل کی بات مان لی سمجھ رہا ہے نا سمجھ کی داؤ اس کا چل گیا یہ دوڑ بھی عجیب سی ہے فیصلہ عجیب تر کی ...

مزید پڑھیے

کب موسم بہار پکارا نہیں کیا

کب موسم بہار پکارا نہیں کیا ہم نے ترے بغیر گوارہ نہیں کیا دنیا تو ہم سے ہاتھ ملانے کو آئی تھی ہم نے ہی اعتبار دوبارہ نہیں کیا مل جائے خاک میں نہ کہیں اس خیال سے آنکھوں نے کوئی عشق ستارا نہیں کیا اک عمر کے عذاب کا حاصل وہیں بہشت دو چار دن جہاں پہ گزارا نہیں کیا اے آسماں کس لیے ...

مزید پڑھیے

چراغ گھر میں جلا نہیں ہے

چراغ گھر میں جلا نہیں ہے یہ رات کا مسئلہ نہیں ہے یہ رات تم سے نہیں کٹے گی یہ ہجر ہے رت جگا نہیں ہے دلیل منطق نہیں چلے گی یہ عشق ہے فلسفہ نہیں ہے یہ عشق ہے بندگی سمجھ مت تو آدمی ہے خدا نہیں ہے ہے رنج کیوں حال دل پہ آخر یہ قصہ تو نے سنا نہیں ہے خود اپنے دشمن ہیں لوگ سارے نہیں کوئی ...

مزید پڑھیے

ملا بھی زیست میں کیا رنج رہ گزار سے کم

ملا بھی زیست میں کیا رنج رہ گزار سے کم سو اپنا شوق سفر بھی نہیں غبار سے کم ترے فراق میں دل کا عجیب عالم ہے نہ کچھ خمار سے بڑھ کر نہ کچھ خمار سے کم ہنسی خوشی کی رفاقت کسی سے کیا چاہیں یہاں تو ملتا نہیں کوئی غم گسار سے کم وہ منتظر ہے یقیناً ہوائے سرسر کا جو حبس ہو نہ سکا باد نوبہار ...

مزید پڑھیے

بہتے ہوئے اشکوں کی روانی نہیں لکھی

بہتے ہوئے اشکوں کی روانی نہیں لکھی میں نے غم ہجراں کی کہانی نہیں لکھی جس دن سے ترے ہاتھ سے چھوٹا ہے مرا ہاتھ اس دن سے کوئی شام سہانی نہیں لکھی کیا جانئے کیا سوچ کے افسردہ ہوا دل میں نے تو کوئی بات پرانی نہیں لکھی الفاظ سے کاغذ پہ سجائی ہے جو دنیا جز اپنے کوئی چیز بھی فانی نہیں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5254 سے 6203