قومی زبان

جہل کو آگہی بناتے ہوئے

جہل کو آگہی بناتے ہوئے مل گیا روشنی بناتے ہوئے کیا قیامت کسی پہ گزرے گی آخری آدمی بناتے ہوئے کیا ہوا تھا ذرا پتا تو چلے وقت کیا تھا گھڑی بناتے ہوئے کیسے کیسے بنا دیئے چہرے اپنی بے چہرگی بناتے ہوئے دشت کی وسعتیں بڑھاتی تھیں میری آوارگی بناتے ہوئے اس نے ناسور کر لیا ہوگا زخم ...

مزید پڑھیے

تیرگی طاق میں جڑی ہوئی ہے

تیرگی طاق میں جڑی ہوئی ہے دھوپ دہلیز پر پڑی ہوئی ہے دل پہ ناکامیوں کے ہیں پیوند آس کی سوئی بھی گڑی ہوئی ہے میرے جیسی ہے میری پرچھائیں دھوپ میں پل کے یہ بڑی ہوئی ہے گھیر رکھا ہے نارسائی نے اور خواہش وہیں کھڑی ہوئی ہے میں نے تصویر پھینک دی ہے مگر کیل دیوار میں گڑی ہوئی ہے ہارتا ...

مزید پڑھیے

ہیلوسنیشن

میں اپنے بند کمرے میں پڑا ہوں اور اک دیوار پر نظریں جمائے مناظر کے عجوبے دیکھتا ہوں اسی دیوار میں کوئی خلا ہے مجھے جو غار جیسا لگ رہا ہے وہاں مکڑی نے جال بن لیا ہے اور اب اپنے ہی جال میں پھنسی ہے وہیں پر ایک مردہ چھپکلی ہے کئی صدیوں سے جو ساکت پڑی ہے اب اس پر کائی جمتی جا رہی ہے اور ...

مزید پڑھیے

غم کے بادل پھر بھی چھائے رہ گئے

غم کے بادل پھر بھی چھائے رہ گئے آنکھ سے دریا کے دریا بہہ گئے خوف‌ عقبیٰ اور اس دنیا کے بعد وہ بھی سہہ لیں گے جو یہ غم سہہ گئے کس نے دیکھا ہے جمال روئے دوست سب نقابوں میں الجھ کر رہ گئے مختصر تھی داستان عرض شوق بجھ کے کچھ تارے مژہ پر رہ گئے زیست ہے اک شام افسانے کا نام اپنی اپنی ...

مزید پڑھیے

نگاہ و دل کا افسانہ قریب اختتام آیا

نگاہ و دل کا افسانہ قریب اختتام آیا ہمیں اب اس سے کیا آئی سحر یا وقت شام آیا زبان عشق پر اک چیخ بن کر تیرا نام آیا خرد کی منزلیں طے ہو چکیں دل کا مقام آیا اٹھانا ہے جو پتھر رکھ کے سینہ پر وہ گام آیا محبت میں تری ترک محبت کا مقام آیا اسے آنسو نہ کہہ اک یاد ایام گذشتہ ہے مری عمر ...

مزید پڑھیے

انسان کے لئے اس دنیا میں دشنام سے بچنا مشکل ہے

انسان کے لئے اس دنیا میں دشنام سے بچنا مشکل ہے تقصیر سے بچنا ممکن ہے الزام سے بچنا مشکل ہے طائر کے لئے دشوار نہیں صیاد و قفس سے دور رہے لیکن جو شکل نشیمن ہے اس دام سے بچنا مشکل ہے دامن کو بچا بھی لیں شاید صحرا کے نکیلے کانٹوں سے گلشن کے مگر گل ہائے شرر اندام سے بچنا مشکل ہے اس ...

مزید پڑھیے

سر محشر یہی پوچھوں گا خدا سے پہلے

سر محشر یہی پوچھوں گا خدا سے پہلے تو نے روکا بھی تھا مجرم کو خطا سے پہلے اشک آنکھوں میں ہیں ہونٹوں پہ بکا سے پہلے قافلۂ غم کا چلا بانگ درا سے پہلے یہ تو سچ ہے کہ تجھے ترک جفا کا حق ہے ہاں مگر پونچھ تو لے اہل وفا سے پہلے اڑ گیا جیسے یکایک مرے شانوں پر سے وہ جو اک بوجھ تھا تسلیم خطا ...

مزید پڑھیے

اب اپنے دیدہ و دل کا بھی اعتبار نہیں

اب اپنے دیدہ و دل کا بھی اعتبار نہیں اسی کو پیار کیا جس کے دل میں پیار نہیں نہیں کہ مجھ کو طبیعت پہ اختیار نہیں ہر اک جام سے پی لوں وہ بادہ خوار نہیں ہر ایک گام پہ کانٹوں کی ہیں کمیں گاہیں شباب آہ شگوفوں کی رہ گزار نہیں بھری ہوئی ہے وہ کام و دہن میں تلخی زیست کہ لب پہ جام محبت بھی ...

مزید پڑھیے

گرو نانک

کثافت زندگی کی ظلمت میں شمع حق ضو فشاں ہو کیسے جہاں کی بجھتی ہوئی نگاہوں کو جگمگاتا ہے بام نانک نہ پاک کوئی نہ کوئی ناپاک کوئی اونچا نہ کوئی نیچا گرو کا یہ مے کدہ ہے اس جا ہر اک کو ملتا ہے جام نانک یہاں مٹے آ کے تفرقے سب رہی نہ آلودگی کوئی بھی یہ حرف الفت، یہ طور عرفاں، یہ عرش ...

مزید پڑھیے

محبان وطن کا نعرہ

شہید جور گلچیں ہیں اسیر خستہ تن ہم ہیں ہمارا جرم اتنا ہے ہوا خواہ چمن ہم ہیں ستانے کو ستا لے آج ظالم جتنا جی چاہے مگر اتنا کہے دیتے ہیں فرداے وطن ہم ہیں ہمارے ہی لہو کی بو صبا لے جائے گی کنعاں ملے گا جس سے یوسف کا پتہ وہ پیرہن ہم ہیں ہمیں یہ فخر حاصل ہے پیام نور لائے ہیں زمیں پہلے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5235 سے 6203