قومی زبان

میں اور میری تنہائی

ہم سمندر سے ملنے ذرا دیر سے پہنچے رات سمندر سے زیادہ گہری ہو رہی تھی ہم ننگے پاؤں ساحل کے ساتھ بہت دور تک چلے دنوں کے بعد سرشاری نے اپنا چہرہ دکھایا تھا اور ہماری بھولی ہوئی دھن گنگنائی تھی سمندر ہماری خاموشی میں ڈوبنے ہی والا تھا جب ہمارا گیت پتوار ہوا اجنبی قدموں کے نشان چنتے ...

مزید پڑھیے

حساب جاں!!

اے میرے صفر صفر صفر۔۔۔۔۔! دائیں نہیں بائیں لیٹو نفی اثبات کے اس وصال میں تمہاری اکائی تو میں ہوں! کہو۔۔ میں تمہیں کون سی رفاقت سے ضرب دوں کہ میری روح اور بدن پر رواں رواں پورے آ جاؤ تمہیں کون سے ہندسے پر تقسیم کروں؟ کہ تنہائی جس کے مساوی نہ آئے! نفی اثبات کے اس وصال میں اس سے پہلے ...

مزید پڑھیے

دن لے کے جاؤں ساتھ اسے شام کر کے آؤں

دن لے کے جاؤں ساتھ اسے شام کر کے آؤں بے کار کے سفر میں کوئی کام کر کے آؤں بے مول کر گئیں مجھے گھر کی ضرورتیں اب اپنے آپ کو کہاں نیلام کر کے آؤں میں اپنے شور و شر سے کسی روز بھاگ کر اک اور جسم میں کہیں آرام کر کے آؤں کچھ روز میرے نام کا حصہ رہا ہے وہ اچھا نہیں کہ اب اسے بد نام کر کے ...

مزید پڑھیے

عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوں

عمر کی ساری تھکن لاد کے گھر جاتا ہوں رات بستر پہ میں سوتا نہیں مر جاتا ہوں اکثر اوقات بھرے شہر کے سناٹے میں اس قدر زور سے ہنستا ہوں کہ ڈر جاتا ہوں مجھ سے پوچھے تو سہی آئینہ خانہ میرا خال و خد لے کے میں ہم راہ کدھر جاتا ہوں دل ٹھہر جاتا ہے بھولی ہوئی منزل میں کہیں میں کسی دوسرے ...

مزید پڑھیے

میں خود کو مسمار کر کے ملبہ بنا رہا ہوں

میں خود کو مسمار کر کے ملبہ بنا رہا ہوں یہی بنا سکتا ہوں لہٰذا بنا رہا ہوں کسی کے سینے میں بھر رہا ہوں میں اپنی سانسیں کسی کے کتبے کو اپنا کتبہ بنا رہا ہوں بہت بھلی لگتی ہے اسے بھی مری اداسی خوشی خوشی خود کو دل گرفتہ بنا رہا ہوں ہجوم کو میرے قہقہوں کی خبر نہیں ہے بنا ہوا ہوں کہ ...

مزید پڑھیے

ان دنوں خود سے فراغت ہی فراغت ہے مجھے

ان دنوں خود سے فراغت ہی فراغت ہے مجھے عشق بھی جیسے کوئی ذہنی سہولت ہے مجھے میں نے تجھ پر ترے ہجراں کو مقدم جانا تیری جانب سے کسی رنج کی حسرت ہے مجھے خود کو سمجھاؤں کہ دنیا کی خبر گیری کروں اس محبت میں کوئی ایک مصیبت ہے مجھے دل نہیں رکھتا کسی اور تمنا کی ہوس ایسا ہو پائے تو کیا ...

مزید پڑھیے

درد وراثت پا لینے سے نام نہیں چل سکتا

درد وراثت پا لینے سے نام نہیں چل سکتا عشق میں بابا ایک جنم سے کام نہیں چل سکتا بہت دنوں سے مجھ میں ہے کیفیت رونے والی درد فراواں سینے میں کہرام نہیں چل سکتا تہمت عشق مناسب ہے اور ہم پر جچتی ہے ہم ایسوں پر اور کوئی الزام نہیں چل سکتا چم چم کرتے حسن کی تم جو اشرفیاں لائے ہو اس ...

مزید پڑھیے

سحر کو کھوج چراغوں پہ انحصار نہ کر

سحر کو کھوج چراغوں پہ انحصار نہ کر ہوا سے دوستی رکھ اس کا اعتبار نہ کر یقین کر او محبت یہی مناسب ہے زیادہ دن مری صحبت کو اختیار نہ کر یہ کوئی رشتہ نہیں ہے فقط ندامت ہے تو مجھ سے عمر میں کم ہے سو مجھ سے پیار نہ کر مجھے پتہ ہے کہ برباد ہو چکا ہوں میں تو میرا سوگ منا مجھ کو سوگوار نہ ...

مزید پڑھیے

صلح کے بعد محبت نہیں کر سکتا میں

صلح کے بعد محبت نہیں کر سکتا میں مختصر یہ کہ وضاحت نہیں کر سکتا میں دل ترے ہجر میں سرشار ہوا پھرتا ہے اب کسی دشت میں وحشت نہیں کر سکتا میں میرے چہرے پہ ہیں آنکھیں مرے سینے میں ہے دل اس لیے تیری حفاظت نہیں کر سکتا میں ہر طرف تو نظر آتا ہے جدھر جاتا ہوں تیرے امکان سے ہجرت نہیں کر ...

مزید پڑھیے

سب کو اپنے ذہن سے جھٹکا خود کو یاد کیا

سب کو اپنے ذہن سے جھٹکا خود کو یاد کیا لیکن ایسا سب کچھ لٹ جانے کے بعد کیا اس کو اس کی اپنی قربت نے سرشار رکھا مجھے تو شاید میرے ہجر نے ہی برباد کیا میں بھی خالی ہو کر اپنے گھر لوٹ آیا ہوں اس نے بھی اک ویرانے کو جا آباد کیا کس شفقت میں گندھے ہوئے مولا ماں باپ دیے کیسی پیاری روحوں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 5169 سے 6203