میں اور میری تنہائی
ہم سمندر سے ملنے ذرا دیر سے پہنچے رات سمندر سے زیادہ گہری ہو رہی تھی ہم ننگے پاؤں ساحل کے ساتھ بہت دور تک چلے دنوں کے بعد سرشاری نے اپنا چہرہ دکھایا تھا اور ہماری بھولی ہوئی دھن گنگنائی تھی سمندر ہماری خاموشی میں ڈوبنے ہی والا تھا جب ہمارا گیت پتوار ہوا اجنبی قدموں کے نشان چنتے ...