کاش
تمہارے چہرے پر صرف دو آنکھیں میری آشنا ہیں جو مجھ سے ہم کلام رہتی ہیں میں تمہیں اپنی تمام حسیات کی یکسوئی سے ملا ہوں تمہارا جسم میری پوروں کے لیے اجنبی سہی لیکن پھر بھی تمہاری خوشبو میں لپٹا ہوا تمہارا لمس مجھے باسی نہیں ہونے دیتا کنکھیوں سے دیکھتے ہوئے سوچتا ہوں تمہیں جی بھر کر ...