قومی زبان

تصور کے سہارے یوں شب غم ختم کی میں نے

تصور کے سہارے یوں شب غم ختم کی میں نے جہاں دل کی خلش ابھری تمہیں آواز دی میں نے طلب کی راہ میں کھا کر شکست آگہی میں نے جنوں کی کامیابی پر مبارک باد دی میں نے دم آخر بہت اچھا کیا تشریف لے آئے سلام رخصتانہ کو پکارا تھا ابھی میں نے زباں سے جب نہ کچھ یارائے شرح آرزو پایا نگاہوں سے ...

مزید پڑھیے

عطائے غم پہ بھی خوش ہوں مری خوشی کیا ہے

عطائے غم پہ بھی خوش ہوں مری خوشی کیا ہے رضا طلب جو نہیں ہے وہ بندگی کیا ہے تری نگاہ کی نقاشی حسیں کے سوا تو ہی بتا مرا مفہوم زندگی کیا ہے ستم شعار جفا آشنا وفا دشمن یہ ننگ عظمت آدم ہے آدمی کیا ہے ترا تصور رنگیں اگر نہ ہو شامل بہار گلشن امکاں میں دل کشی کیا ہے زمانہ آپ کا کہتا ہے ...

مزید پڑھیے

عشق مکمل خواب پریشاں

عشق مکمل خواب پریشاں حسن ہمہ تعبیر گریزاں قطرہ میں دریا کی سمائی درد دو عالم اک دل انساں عشق بہ ہر انداز تجلی لرزاں لرزاں رقصاں رقصاں عشق برنگ شعلہ و شبنم سوزش پنہاں اشک نمایاں میری نگاہ فکر میں انورؔ عشق فسانہ حسن ہے عریاں

مزید پڑھیے

ظلمتوں میں روشنی کی جستجو کرتے رہو

ظلمتوں میں روشنی کی جستجو کرتے رہو زندگی بھر زندگی کی جستجو کرتے رہو جس پہ ہو ساقی بہ زعم ہوش مندی بھی فدا اس مکمل بے خودی کی جستجو کرتے رہو بے جنوں چلتا نہیں ہے کار تعمیر حیات ہوش والو آگہی کی جستجو کرتے رہو آدمیت کے سوا جس کا کوئی مقصد نہ ہو عمر بھر اس آدمی کی جستجو کرتے ...

مزید پڑھیے

کچھ ابرووں پہ بل بھی ہیں خندہ لبی کے ساتھ

کچھ ابرووں پہ بل بھی ہیں خندہ لبی کے ساتھ فرما رہے ہیں جور مگر دلکشی کے ساتھ شامل ہو گر نہ غم کی خلش زندگی کے ساتھ رکھے نہ کوئی ربط محبت کسی کے ساتھ اس اہتمام جشن مشیت کو کیا کہوں پیدا کیا ہے درد دل آدمی کے ساتھ جینے نہ دیں حیات کی پیہم شرارتیں انساں جو خود شریر نہ ہو زندگی کے ...

مزید پڑھیے

لب پہ کانٹوں کے ہے فریاد و بکا میرے بعد

لب پہ کانٹوں کے ہے فریاد و بکا میرے بعد کوئی آیا ہی نہیں آبلہ پا میرے بعد میرے دم تک ہی رہا ربط نسیم و رخ گل نکہت آمیز نہیں موج صبا میرے بعد اب نہ وہ رنگ جبیں ہے نہ بہار عارض لالہ رویوں کا عجب حال ہوا میرے بعد چند سوکھے ہوئے پتے ہیں چمن میں رقصاں ہائے بیگانگی آب و ہوا میرے ...

مزید پڑھیے

عشق میں غم کے سوا کوئی خوشی دیکھی نہیں

عشق میں غم کے سوا کوئی خوشی دیکھی نہیں زندگی شایان لطف زندگی دیکھی نہیں ان خزاں ساماں بہاروں کو بہاریں کیوں کہوں کیا کبھی میں نے چمن کی دل کشی دیکھی نہیں اف وہ آنکھیں مرتے دم تک جو رہی ہیں اشک بار ہائے وہ لب عمر بھر جن پر ہنسی دیکھی نہیں تک رہا ہوں نزع میں یوں ان کی صورت بار ...

مزید پڑھیے

آزادی کے دیوانے

ہم آزادی کے دیوانے یہ دنیا فرزانوں کی اس پاپی سنسار میں بابا کون سنے دیوانوں کی مسجد مندر سب کے اندر راج غلامی کرتی ہے دولت لے کر نام خدا کا گھر گھر دھرنا دھرتی ہے کوٹھی بنگلے گورے سانپوں کی اک ایسی بستی ہے جو بھارت کے بھولے بھالے انسانوں کو ڈستی ہے ان سے بچ کر چلنا بابا یہ قاتل ...

مزید پڑھیے

دو پیسے میں تین کھلونے

دو پیسے میں تین کھلونے دو پیسے میں تین سادہ اور رنگین یہ چینی کی گڑیا ہے ایک طرف سے ننھی منی ایک طرف سے بڑھیا ہے جیب میں یوں آ جاتی ہے یہ جیسے ذرا سی پڑیا ہے سادہ اور رنگین دو پیسے میں تین کھلونے دو پیسے میں تین یہ مٹی کی گھوڑی ہے اس کی مانگ بہت ہے لیکن اس کی قیمت تھوڑی ہے ساتھ اگر ...

مزید پڑھیے

غم حبیب غم دو جہاں نہیں ہوتا

غم حبیب غم دو جہاں نہیں ہوتا اگر خلوص وفا بے کراں نہیں ہوتا دلوں کی آگ بڑھاؤ کہ لوگ کہتے ہیں چراغ حسن سے روشن جہاں نہیں ہوتا تری نگاہ کرم ہی کا یہ اثر تو نہیں جہاں میں ہم پہ کوئی مہرباں نہیں ہوتا شعور منزل مقصود بھی ہے شرط سفر ہجوم راہرواں کارواں نہیں ہوتا

مزید پڑھیے
صفحہ 5098 سے 6203