قومی زبان

سبق

کہیں کہیں پہ ہری سی شاخیں ہیں اپنے غنچوں پہ مسکراتی کہیں کہیں پہ ہیں سوکھے پتے اداسیوں کے سبق سناتے کہیں کہیں پہ گلوں پہ بھنورے محبتوں کی کہانی لکھتے کہیں کہیں پہ گلاب عشق کے کتاب دل میں ہیں سوکھے ملتے کہیں پہ دریا کہیں پہ صحرا کہیں بہاریں کہیں خزائیں کہیں تماشا کہیں ...

مزید پڑھیے

کپس

چائے کا ایک سپ لگاتے ہی اس کے ہونٹوں کی یاد تازہ ہوئی کپ بورڈ میں رکھے سلیقے سے چائے کے کپس جن پہ اس نے اپنے ہونٹوں کے لمس یہ کہہ کر چھوڑے تھے کہ سنو جاناں انہیں تم جب بھی اپنے خوبصورت ہونٹوں سے لگاؤ گے مجھے اپنی سانسوں میں پاؤ گے

مزید پڑھیے

دل پر خوں کو یادوں سے الجھتا چھوڑ دیتے ہیں

دل پر خوں کو یادوں سے الجھتا چھوڑ دیتے ہیں ہم اس وحشی کو جنگل میں اکیلا چھوڑ دیتے ہیں نہ جانے کب کوئی بھیگے ہوئے منظر میں آ نکلے دیار اشک میں پلکیں جھپکنا چھوڑ دیتے ہیں اسے بھی دیکھنا ہے اپنا معیار‌ پذیرائی چلا آئے تو کیا کہنا تقاضا چھوڑ دیتے ہیں غموں کی بھیڑ جب بھی قریۂ جاں ...

مزید پڑھیے

قریب آ کے بھی اک شخص ہو سکا نہ مرا

قریب آ کے بھی اک شخص ہو سکا نہ مرا یہی ہے میری حقیقت یہی فسانہ مرا یہ اور بات کہ مجھ کو نہ مل سکا اب تک ترے جہاں میں کہیں ہے سہی ٹھکانہ مرا چراغ کہنے لگا پھر ہوا کے جھونکے سے یہ اہتمام تو اے دوست ہے ترا نہ مرا سو اب تو بزم تمنا میں طائرانہ چہک! ترے دماغ پہ ہلکا سا بوجھ تھا نہ ...

مزید پڑھیے

غم کی سوغات ہے خموشی ہے

غم کی سوغات ہے خموشی ہے چاندنی رات ہے خموشی ہے میں اکیلا نہیں کہ باتیں ہوں وہ مرے سات ہے خموشی ہے میری بربادیوں کی سازش میں ضبط کا ہات ہے خموشی ہے کیسا آسیب ہے کہ ہر جانب جشن جذبات ہے خموشی ہے وقت کے زخم زخم ہونٹوں پر ان کہی بات ہے خموشی ہے پھر اسی طرح گرم ماتھے پر کانپتا ہاتھ ...

مزید پڑھیے

جب بھی ہنسی کی گرد میں چہرہ چھپا لیا

جب بھی ہنسی کی گرد میں چہرہ چھپا لیا بے لوث دوستی کا بڑا ہی مزا لیا اک لمحۂ سکوں تو ملا تھا نصیب سے لیکن کسی شریر صدی نے چرا لیا کانٹے سے بھی نچوڑ لی غیروں نے بوئے گل یاروں نے بوئے گل سے بھی کانٹا بنا لیا اسلمؔ بڑے وقار سے ڈگری وصول کی اور اس کے بعد شہر میں خوانچہ لگا لیا

مزید پڑھیے

جب دل ہی نہیں باقی وہ آتش پارا سا

جب دل ہی نہیں باقی وہ آتش پارا سا کیوں رقص میں رہتا ہے پلکوں پہ شرارا سا وہ موج ہمیں لے کر گرداب میں جا نکلی جس موج میں روشن تھا سرسبز کنارا سا تارا سا بکھرتا ہے آکاش سے یا کوئی ٹھہرے ہوئے آنسو کو کرتا ہے اشارا سا تنکوں کی طرح ہر شب تن من کو بہا لے جائے اک برسوں سے بچھڑی ہوئی ...

مزید پڑھیے

بھیگے شعر اگلتے جیون بیت گیا

بھیگے شعر اگلتے جیون بیت گیا ٹھنڈی آگ میں جلتے جیون بیت گیا یوں تو چار قدم پر میری منزل تھی لیکن چلتے چلتے جیون بیت گیا شام ڈھلے اس کو ندیا پر آنا تھا سورج ڈھلتے ڈھلتے جیون بیت گیا ایک انوکھا سپنا دیکھا نیند اڑی آنکھیں ملتے ملتے جیون بیت گیا آخر کس بہروپ کو اپنا روپ ...

مزید پڑھیے

زلزلے کا خوف طاری ہے در و دیوار پر

زلزلے کا خوف طاری ہے در و دیوار پر جبکہ میں بیٹھا ہوا ہوں کانپتے مینار پر ہاں اسی رستے میں ہے شہر نگار آرزو آپ چلتے جائیے میرے لہو کی دھار پر پھر اڑا لائی ہوا مجھ کو جلانے کے لیے زرد پتے چند سوکھی ٹہنیاں دو چار پر طائر تخئیل کا سارا بدن آزاد ہے صرف اک پتھر پڑا ہے شیشۂ منقار ...

مزید پڑھیے

دیار ہجر میں خود کو تو اکثر بھول جاتا ہوں

دیار ہجر میں خود کو تو اکثر بھول جاتا ہوں تجھے بھی میں تری یادوں میں کھو کر بھول جاتا ہوں عجب دن تھے کہ برسوں ضرب خوشبو یاد رہتی تھی عجب دن ہیں کہ فوراً زخم خنجر بھول جاتا ہوں گزر جاتا ہوں گھر کے سامنے سے بے خیالی میں کبھی دفتر کے دروازے پہ دفتر بھول جاتا ہوں اسی باعث بڑی چاہت ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4908 سے 6203