صدیوں سے اجنبی
اس کی قربت میں بیتے سب لمحے میری یادوں کا ایک سرمایہ خوشبوؤں سے بھرا بدن اس کا قابل دید بانکپن اس کا شعلہ افروز حسن تھا اس کا دل کشی کا وہ اک نمونہ تھی مجھ سے جب ہم کلام ہوتی تھی خواہشوں کے چمن میں ہر جانب چاہتوں کے گلاب کھلتے تھے اس کی قربت میں ایسے لگتا تھا اک پری آسماں سے اتری ...