قومی زبان

’’یہ نقش فریادی ہے کس کی شوخئ تحریر کا ۔‘‘

کسی مشاعرے میں مجاز اپنی غزل پڑھ رہے تھے ۔محفل پورے رنگ پر تھی اور سامعین خاموشی کے ساتھ کلام سن رہے تھے ۔ کہ اتنے میں کسی خاتون کی گود میں ان کا شیر خوار بچہ زور زور سے رونے لگا۔مجاز نے اپنی غزل کا شعرادھورا چھوڑتے ہوئے حیران ہوکر پوچھا۔’’بھئی! ’’یہ نقش فریادی ہے کس کی شوخئ ...

مزید پڑھیے

مجاز کا وضو

ایک ادب نواز مجسٹریٹ نے مجازکو بستی آنے کی دعوت دی۔ مجاز نے کہا کچھ کام کی بات بھی ہوگی۔‘‘ اس نے جواب دیا ۔ ’’تم آؤ تو نہلادوں گا۔‘‘ مجازمسکراکر بولے۔ ’’خیر وہاں تو نہلادوگے۔ یہاں کم از کم وضو تو کرو ا ہی دو۔‘‘

مزید پڑھیے

اماں صدر جاؤ گے ؟

رات کا وقت تھا ۔ مجاز کسی میخانے سے نکل کر یونیورسٹی روڈ پر ترنگ میں جھومتے ہوئے چلے جارہے تھے ۔ اسی اثناء میں ادھر سے ایک تانگہ گزرا۔ مجاز نے اسے آواز دی ۔ تانگہ رک گیا ۔ آپ اس کے قریب آئے اور لہرا کر بولے ۔ ’’اماں صدر جاؤ گے ؟‘‘ ’’ہاں جاؤں گا ۔‘‘ ’’اچھا تو جاؤ۔‘‘ کہہ کر ...

مزید پڑھیے

مے کا غرق دفتر ہونا

لکھنؤ کاایک اچھا ہوٹل جہاں مجازکبھی کبھی شراب نوشی کے لئے جایا کرتے تھے ، بند ہوگیا ۔کچھ دنوں بعد معلوم ہوا کہ اس کی عمارت میں کوئی سرکاری دفتر کھولا جارہا ہے ۔یہ سن کر مجاز سے نہ رہا گیا ۔ کہنے لگے : ’’سنتے ہیں پہلے زمانے میں دفتر بے معنی کو غرق مے ناب کردیا جاتا تھا اور اب بے ...

مزید پڑھیے

شعر سے پہلے شراب شعر کے بعد بھی شراب

شعر سے پہلے شراب شعر کے بعد بھی شراب ایک مشاعرے میں مجازجب اپنی نیم بیہوشی کے عالم میں بھی اپنی نظم بول ری او دھرتی بول راج سنگھاسن ڈانواں ڈول بڑی کامیابی کے ساتھ پڑھ چکے تو ہنس راج رہبر نے چھیڑتے ہوئے کہا۔ ’’مجاز بھائی! کیا یہ نظم تم نے شراب پی کر کہی تھی...؟‘‘ ’’بلکہ کہنے کے ...

مزید پڑھیے

مجاز ،شراب ، عورت اور قدر دان

مجاز سے کسی نے پوچھا: مجاز صاحب ، آپ کو عورتوں نے کھایا یا آپ کے قدر دانوں نے ، یا شراب نے ؟ ‘‘ شراب کا گلاس منہ سے لگاتے ہوئے مجاز بولے :’’ہم نے سب کو برابر کا حصہ دیا ہے ۔‘‘

مزید پڑھیے

ممبئی ڈرائی ہے

ایک بارحیدرآباد میں مجاز اور فراق دونوں ایک ساتھ ٹھہرے ہوئے تھے فراق نے مجاز سے مشورہ کے انداز میں کہا۔’’بمبئی چلے جاؤ، تمہارے گیت فلم والے بڑی قیمت دے کر خریدیں گے ۔‘‘ مجاز کہنے لگے ۔’’بمبئی میں روپے کس کام آئیں گے ؟‘‘ فراق نے حیرت زدہ ہوکر پوچھا۔’’کیا مطلب ۔؟‘‘ مجاز نے ...

مزید پڑھیے

باپ کا بگڑنا

شوکت تھانوی نے ایک دفعہ مجاز کے والد کی بڑی تعریف کی ، مگر ساتھ ہی یہ بھی کہہ دیا کہ : ’’مجاز کو شراب نوشی کی بری عادت پڑگئی ہے ، کسی طرح یہ عادت ان سے چھڑوائیے ۔‘‘ یہ خبر جب مجاز تک پہنچی تو بہت خفا ہوئے اور ان سے کہا۔ ’’یا مجھ سے دوستی رکھئے یا میرے والد صاحب سے۔ بیک وقت باپ ...

مزید پڑھیے

نمائش میں

وہ کچھ دوشیزگان ناز پرور کھڑی ہیں اک بساطی کی دکاں پر نظر کے سامنے ہے ایک محشر اور اک محشر ہے میرے دل کے اندر سنہرا کام رنگیں ساریوں پر بساط آسماں پر ماہ و اختر جمال و حسن کے پر رعب تیور نمایاں چاند سی پیشانیوں پر وہ رخساروں پہ ہلکی ہلکی سرخی لبوں میں پر فشاں روح گل تر سیہ زلفوں ...

مزید پڑھیے

ادھر بھی آ

یہ جہد و کشمکش یہ خروش جہاں بھی دیکھ ادبار کی، سروں پہ گھنی بدلیاں بھی دیکھ یہ توپ یہ تفنگ یہ تیغ و سنان بھی دیکھ او کشتۂ نگار دل آرا ادھر بھی آ آ، اور بگل کا نغمۂ ''جاں آفریں'' بھی سن آ، بے کسوں کا نالۂ اندوہ کیں بھی سن آ، باغیوں کا زمزمۂ آتشیں بھی سن او مست ساز و بربط و نغمہ ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4865 سے 6203