قومی زبان

نشاط کار سے محروم ہی سہی ہم بھی

نشاط کار سے محروم ہی سہی ہم بھی ہوس سے زیست کی پھر بھی نہیں تہی ہم بھی ہمیں بھی زعم ہے دانشورانہ منصب کا ہیں مبتلائے فریب خود آگہی ہم بھی ہیں مٹھیوں میں سبھی رہنما خطوط اگر اٹھائے پھرتے ہیں کیوں بار گمرہی ہم بھی ہے زیست نام تغیر کا یہ سنا تو ہے وہی ہو تم بھی وہی غم بھی اور وہی ...

مزید پڑھیے

لوری نما

دادا دادا بولے بابو دادا دادا بولے کانوں میں رس گھولے بابو کانوں میں رس گھولے دادا دادا بولے بابو دادا دادا بولے تاتا تھیا چلنا سیکھے سیکھے تاتا تاتا تھیا تاتا تھیا تاتا تھیا خوش ہیں آپی بھیا خوش ہیں آپی بھیا بابو سو لے اب تو سو لے سو لے اب تو سو لے دادا دادا بولے بابو دادا دادا ...

مزید پڑھیے

ایک اولوالعزم بچے کا احساس

میں حال کا مژدہ ہوں میں رونق فردا ہوں بچپن کا زمانہ ہے خوشیوں کا ترانہ ہے معمار ہوں فردا کا امروز ٹھکانہ ہے آنکھوں کو ہمیشہ میں سو خواب دکھاتا ہوں میں حال کا مژدہ ہوں میں رونق فردا ہوں پڑھ لکھ کے بڑا بننا مقصد بھی ہے کاوش بھی انسان کی خدمت کا جذبہ بھی ہے خواہش بھی میں نیک عزائم ...

مزید پڑھیے

سایا میرا سایا وہ

سایا میرا سایا وہ مجھ میں آن سمایا وہ دن نکل آیا آنگن میں رات گئے جب آیا وہ میرے لہو کی گردش میں چپکے سے در آیا وہ میری گلی میں رات گئے لہراتا اک سایا وہ غنچہ سا مرے ساتھ گیا صبح تلک کھل آیا وہ میری زندہ سانسوں میں کیسا آن سمایا وہ قرب کی ہلکی بارش میں قوس قزح بن آیا وہ مجھ ...

مزید پڑھیے

سکوت شب سے اک نغمہ سنا ہے

سکوت شب سے اک نغمہ سنا ہے وہی کانوں میں اب تک گونجتا ہے غنیمت ہے کہ اپنے غمزدوں کو وہ حسن خود نگر پہچانتا ہے جسے کھو کر بہت مغموم ہوں میں سنا ہے اس کا غم مجھ سے سوا ہے کچھ ایسے غم بھی ہیں جن سے ابھی تک دل غم آشنا نا آشنا ہے بہت چھوٹے ہیں مجھ سے میرے دشمن جو میرا دوست ہے مجھ سے بڑا ...

مزید پڑھیے

رونق بیش و کم کس کے ہونے سے ہے

رونق بیش و کم کس کے ہونے سے ہے موسم خشک و نم کس کے ہونے سے ہے کس کا چہرا بناتی ہیں یہ ساعتیں وقت کا زیر و بم کس کے ہونے سے ہے کون گزرا کہ بنتے گئے راستے راہ کا پیچ و خم کس کے ہونے سے ہے کس کی خاطر دریچوں سے آئی ہوا یہ فضا یوں بہم کس کے ہونے سے ہے شاخ در شاخ پتوں کی یہ زندگی آج بھی ...

مزید پڑھیے

پھر کوئی نیا زخم نیا درد عطا ہو

پھر کوئی نیا زخم نیا درد عطا ہو اس دل کی خبر لے جو تجھے بھول چلا ہو اب دل میں سر شام چراغاں نہیں ہوتا شعلہ ترے غم کا کہیں بجھنے نہ لگا ہو کب عشق کیا کس سے کیا جھوٹ ہے یارو بس بھول بھی جاؤ جو کبھی ہم سے سنا ہو دروازہ کھلا ہے کہ کوئی لوٹ نہ جائے اور اس کے لیے جو کبھی آیا نہ گیا ...

مزید پڑھیے

کبھی سایہ ہے کبھی دھوپ مقدر میرا

کبھی سایہ ہے کبھی دھوپ مقدر میرا ہوتا رہتا ہے یوں ہی قرض برابر میرا ٹوٹ جاتے ہیں کبھی میرے کنارے مجھ میں ڈوب جاتا ہے کبھی مجھ میں سمندر میرا کسی صحرا میں بچھڑ جائیں گے سب یار مرے کسی جنگل میں بھٹک جائے گا لشکر میرا باوفا تھا تو مجھے پوچھنے والے بھی نہ تھے بے وفا ہوں تو ہوا نام ...

مزید پڑھیے

مثل باد صبا تیرے کوچے میں اے جان جاں آئے ہیں

مثل باد صبا تیرے کوچے میں اے جان جاں آئے ہیں چند ساعت رہیں گے چلے جائیں گے سر گراں آئے ہیں شام آزردگی کے ستائے ہوئے چوٹ کھائے ہوئے مہرباں ہو کے مل ہم بہت آج نا شادماں آئے ہیں عشق کرنا جو سیکھا تو دنیا برتنے کا فن آ گیا کاروبار جنوں آ گیا ہے تو کار جہاں آئے ہیں زخم کھلنے لگے ...

مزید پڑھیے

نہ شام ہے نہ سویرا عجب دیار میں ہوں

نہ شام ہے نہ سویرا عجب دیار میں ہوں میں ایک عرصہء بے رنگ کے حصار میں ہوں سپاہ غیر نے کب مجھ کو زخم زخم کیا میں آپ اپنی ہی سانسوں کے کار زار میں ہوں کشاں کشاں جسے لے جائیں گے سر مقتل مجھے خبر ہے کہ میں بھی اسی قطار میں ہوں شرف ملا ہے کہاں تیری ہمرہی کا مجھے تو شہسوار ہے اور میں ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4842 سے 6203