قومی زبان

دھوپ کے جاتے ہی مر جاؤں گا میں

دھوپ کے جاتے ہی مر جاؤں گا میں ایک سایہ ہوں بکھر جاؤں گا میں اعتبار دوستی کا رنگ ہوں بے یقینی میں اتر جاؤں گا میں دن کا سارا زہر پی کر، آج پھر رات کے بستر پہ مر جاؤں گا میں پھر کبھی تم سے ملوں گا راستو! لوٹ کر فی الحال گھر جاؤں گا میں اس سے ملنے کی طلب میں آؤں گا اور بس، یوں ہی ...

مزید پڑھیے

خیال و خواب کا سارا دھواں اتر چکا ہے

خیال و خواب کا سارا دھواں اتر چکا ہے یقیں کے طاق میں سورج کوئی ٹھہر چکا ہے مجھے اٹھا کے سمندر میں پھینکنے والو یہ دیکھو ایک جزیرہ یہاں ابھر چکا ہے میں ایک نقش، جو اب تک نہ ہو سکا پورا وہ ایک رنگ، جو تصویر جاں میں بھر چکا ہے یہ کوئی اور ہی ہے مجھ میں جو جھلکتا ہے تمہیں تلاش ہے جس ...

مزید پڑھیے

صبح اور شام کے سب رنگ ہٹائے ہوئے ہیں

صبح اور شام کے سب رنگ ہٹائے ہوئے ہیں اپنی آواز کو تصویر بنائے ہوئے ہیں اب ہمیں چاک پہ رکھ یا خس و خاشاک سمجھ کوزہ گر ہم تری آواز پہ آئے ہوئے ہیں ہم نہیں اتنے تہی چشم کہ رو بھی نہ سکیں چند آنسو ابھی آنکھوں میں بچائے ہوئے ہیں ہم نے خود اپنی عدالت سے سزا پائی ہے زخم جتنے بھی ہیں ...

مزید پڑھیے

اگرچہ ذہن کے کشکول سے چھلک رہے تھے

اگرچہ ذہن کے کشکول سے چھلک رہے تھے خیال شعر میں ڈھلتے ہوئے جھجک رہے تھے کوئی جواب نہ سورج میں تھا نہ چاند کے پاس مرے سوال سر آسماں چمک رہے تھے نہ جانے کس کے قدم چومنے کی حسرت میں تمام راستے دل کی طرح دھڑک رہے تھے کسی سے ذہن جو ملتا تو گفتگو کرتے ہجوم شہر میں تنہا تھے ہم، بھٹک ...

مزید پڑھیے

یہ کس وحشت زدہ لمحے میں داخل ہو گئے ہیں

یہ کس وحشت زدہ لمحے میں داخل ہو گئے ہیں ہم اپنے آپ کے مد مقابل ہو گئے ہیں کئی چہرے مری سوچوں سے زائل ہو گئے ہیں کئی لہجے مرے لہجے میں شامل ہو گئے ہیں خدا کے نام سے طوفان میں کشتی اتاری بھنور جتنے سمندر میں تھے، ساحل ہو گئے ہیں وہ کچھ پل جن کی ٹھنڈی چھاؤں میں تم ہو ہمارے وہی کچھ ...

مزید پڑھیے

جس طرف چاہوں پہنچ جاؤں مسافت کیسی

جس طرف چاہوں پہنچ جاؤں مسافت کیسی میں تو آواز ہوں آواز کی ہجرت کیسی سننے والوں کی سماعت گئی گویائی بھی قصہ گو تو نے سنائی تھی حکایت کیسی ہم جنوں والے ہیں ہم سے کبھی پوچھو پیارے دشت کہتے ہیں کسے دشت کی وحشت کیسی آپ کے خوف سے کچھ ہاتھ بڑھے ہیں لیکن دست مجبور کی سہمی ہوئی بیعت ...

مزید پڑھیے

باتوں میں بہت گہرائی ہے، لہجے میں بڑی سچائی ہے

باتوں میں بہت گہرائی ہے، لہجے میں بڑی سچائی ہے سب باتیں پھولوں جیسی ہیں، آواز مدھر شہنائی ہے یہ بوندیں پہلی بارش کی، یہ سوندھی خوشبو ماٹی کی اک کوئل باغ میں کوکی ہے، آواز یہاں تک آئی ہے بدنام بہت ہے راہگزر، خاموش نظر، بے چین سفر اب گرد جمی ہے آنکھوں میں اور دور تلک رسوائی ...

مزید پڑھیے

روشنی حسب ضرورت بھی نہیں مانگتے ہم

روشنی حسب ضرورت بھی نہیں مانگتے ہم رات سے اتنی سہولت بھی نہیں مانگتے ہم دشمن شہر کو آگے نہیں بڑھنے دیتے اور کوئی تمغۂ جرأت بھی نہیں مانگتے ہم سنگ کو شیشہ بنانے کا ہنر جانتے ہیں اور اس کام کی اجرت بھی نہیں مانگتے ہم کسی دیوار کے سائے میں ٹھہر لینے دے دھوپ سے اتنی رعایت بھی ...

مزید پڑھیے

صبح کیسی ہے وہاں شام کی رنگت کیا ہے

صبح کیسی ہے وہاں شام کی رنگت کیا ہے اب ترے شہر میں حالات کی صورت کیا ہے ایک آزار دھڑکتا ہے یہاں سینے میں اب تجھے کیسے بتائیں کہ محبت کیا ہے حکم دیتا ہے تو آواز لرز جاتی ہے جانے اب کے مرے سالار کی نیت کیا ہے یہ جو میں پیڑ اگانے میں لگا رہتا ہوں میں سمجھتا ہوں مری پہلی ضرورت کیا ...

مزید پڑھیے

کل پردیس میں یاد آئے گی دھیان میں رکھ

کل پردیس میں یاد آئے گی دھیان میں رکھ اپنے شہر کی مٹی بھی سامان میں رکھ سارے جسم کو لے کر گھوم زمانے میں بس اک دل کی دھڑکن پاکستان میں رکھ جانے کس رستے سے کرنیں آ جائیں دل دہلیز پہ آنکھیں روشندان میں رکھ جھیل میں اک مہتاب ضروری ہوتا ہے کوئی تمنا اس چشم حیران میں رکھ ہم سے شرط ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4763 سے 6203