قومی زبان

اس زندگی کے بدلے

اس زندگی کے بدلے مجھے بنا دیا جاتا بادلوں سے گرتی ہوئی ایک بوند کسی سوکھی گھاس کے گٹھر پر پڑا ہوا ایک تنکا یا بہتے ہوئے پانی کے آس پاس جمی ہوئی کائی اس زندگی کے بدلے مجھے بنا دیا جاتا ایک رات سے دوسری رات تک پھیلا ہوا بے مزا ذائقہ یا وہ دانہ جس کسی پرندے کی چونچ سے گر رہا ہو اس ...

مزید پڑھیے

سب دن ایک جیسے نہیں ہوتے

سب دن ایک جیسے نہیں ہوتے کل کا دن تو ایسا نہیں تھا جیسا آج کا ہے ہر دن اپنی اپنی گپھا میں چھپا جب سویرے سویرے ہم سے سامنا کرتا ہے تو کہتا ہے آج کا دن گزارو تو جانیں اور ہم کمر بستہ ہو جاتے ہیں آج کے دن کے گزارنے کو وہ دن ہم گزار لیتے ہیں اور ہم اس گزرے ہوئے دن کو پیچھے پلٹ کر دیکھتے ...

مزید پڑھیے

فی میل بل فائٹر

کیا رات میں بستر خالی رکھنا اچھا ہوتا ہے بہت تندہی سے کام کر رہے ہو ذرا بھی ادھر نہیں دیکھ رہے دیکھو ادھر دیکھو یہاں جہاں میں پڑی ہوئی ہوں تمہاری پینٹنگز کی کتابوں کی طرح جنہیں تم نے کل کے لئے اٹھا رکھا ہے ٹھیک ہے کہہ لو مجھے بے شرم اب صرف یہ انڈرویئر باقی ہے اسے بھی اتار ...

مزید پڑھیے

ماں کے قدموں کے نیچے جنت ہے

کیا میرے قدموں کے نیچے بھی جنت ہے پوچھتی ہوں اپنے بچوں سے میرے سوال پر وہ مجھے حیرت سے دیکھتے ہیں ماں یہ جنت کیا ہوتی ہے ارے یہ میں نے تم کو نہیں بتایا چلو سنو کہتے ہیں جو ماں اپنے بچوں کو اپنے دل کے قریب رکھتی ہے اسے جنت ملتی ہے ماں ہم کیا جانے تمہارے دل میں کیا ہے ہم کیا جانے جنت ...

مزید پڑھیے

بازی گر

بازی گر اپنا قد اونچے کرنے والے جوتے پہنتا ہے وہ نشے میں بازی گری دکھاتا ہے اس کے جوتے اتنے اونچے ہیں کہ اگر اس کی ماں دیکھتی تو رو دیتی اور اس کی محبوبہ جو اب کسی اور کے بستر میں ہے بازی گر اپنی محبوبہ سے ہاتھ دھو بیٹھا اس لیے کہ وہ اس کے سامنے بازی گری نہیں دکھا سکا بازی گر اونچے ...

مزید پڑھیے

جب تنہائی چرخہ کات رہی ہو

اداسی اس کے پہلو میں سر نیہوڑائے بیٹھی ہو چرخہ کاتنے والے ہاتھ تیزی سے چرخہ چلا رہے ہیں کوئی انہیں روکتا کیوں نہیں اس کی چیخ و پکار نے سناٹے کو مبہوت کر دیا ہے اداسی پہلو بدل بدل کر بیٹھ رہی ہے بس ڈری ہوئی ہے اگر شام گہری ہو گئی تو چرخہ نظر نہیں آئے گا اداسی بھی چھپ جائے گی بس ...

مزید پڑھیے

کہیں سے کوئی نقطہ آ جائے

جو کسی بھی لفظ پر نہ لگایا جا سکے اور وہ نقطہ علیحدہ الگ تھلگ کھڑا رہے کسی بھی گمان کے سہارے اس انتظار میں کہ کوئی ایسا لفظ آ جائے جس پر اسے لگایا جا سکے یہ بھی ہو سکتا ہے وہ نقطہ صدیوں اس لفظ کا انتظار کرتا رہے یہ بھی ہو سکتا ہے صدہا سال گزر جانے کے بعد یہ سارے لفظ بوسیدہ ہو ...

مزید پڑھیے

تم ہنستے کیوں ہو

کیا اب رات ایسے ہی گزر جائے گی یہ رات ہی تو ہے جو تحلیل ہو جاتی ہے ایک نقطے میں اور گھومتی ہے میرے گرد کالے بھنبھناتے ہوئے بھونرے کی طرح وہ میرے کانوں مری آنکھوں میری گردن اور میرے روئیں روئیں میں بھنبھناتی ہے میری بغلوں کے بالوں سے الجھتی ہوئی میرے جسم کے کونے کھدروں ...

مزید پڑھیے

ایک نظم روز آتی ہے

وہ آتی ہے روز میرے بہت قریب مجھے سہلاتی ہے گدگداتی ہے اٹھو۔۔۔ اٹھو۔۔۔ میں حیرت اور خوشی سے اسے دیکھتی ہوں تم کب آئیں؟ ابھی۔۔۔ ابھی تو آئی ہوں۔۔۔ وہ میرے سینے پر اپنا سر رکھ دیتی ہے میرے پستانوں سے کھیلتی ہے میرے ہونٹوں کو چوستی ہے میری ناف کے نیچے بہت نیچے۔۔۔ میری سانس اوپر کی ...

مزید پڑھیے

ایک نظم لکھنا آسان ہے

ایک نظم لکھنا بہت آسان ہے ایک کاغذ اور قلم ہونا چاہئے اور دماغ اور ایک دل اور وہ لفظ جو نظم لکھنا چاہ رہے ہوں اور دل اور دماغ کے درمیان ایک سلسلہ لیکن کبھی کبھی نظم نہیں نظم نہیں لکھی جا سکتی دل اور دماغ اور لفظ کاغذ اور قلم جب ان میں سے کوئی ایک نہیں ہوتا تو پھر نظم درمیان سے کھو ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4751 سے 6203