قومی زبان

حیات ڈھونڈ رہا ہوں قضا کی راہوں میں

حیات ڈھونڈ رہا ہوں قضا کی راہوں میں پناہ مانگنے آیا ہوں بے پناہوں میں بدن ممی تھا نظر برف سانس کافوری تمام رات گزاری ہے سرد بانہوں میں اب ان میں شعلے جہنم کے رقص کرتے ہیں بسے تھے کتنے ہی فردوس جن نگاہوں میں بجھی جو رات تو اپنی گلی کی یاد آئی الجھ گیا تھا میں رنگین شاہراہوں ...

مزید پڑھیے

دل و جاں کے فسانے کیا ہوئے سب

دل و جاں کے فسانے کیا ہوئے سب محبت کے ترانے کیا ہوئے سب یہاں کچھ صوفیوں کا گھر تھا پہلے وہ ان کے آستانے کیا ہوئے سب پرانا پیڑ برگد کا کہاں ہے پرندوں کے ٹھکانے کیا ہوئے سب کہاں ہیں شہر کے بے فکر بچے مسرت کے خزانے کیا ہوئے سب برستی تھی محبت آسماں سے وہ بارش کے زمانے کیا ہوئے ...

مزید پڑھیے

آنکھیں میری کیا ڈھونڈتی ہیں

آنکھیں میری کیا ڈھونڈھتی ہیں پانی میں یا چٹانوں میں شبنم کے ننھے قطروں میں بارودی دہکتے شعلوں میں گلزاروں میں یا بنجر ریگستانوں میں محفل میں تنہائی میں دوسروں کی انگنائی میں نظموں کے تیکھا پن میں غزلوں کی رعنائی میں میخوانوں کے بند کواڑوں کے پیچھے مندر میں چڑھائے پھولوں ...

مزید پڑھیے

جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا

جگر کے ٹکڑے ہوئے جل کے دل کباب ہوا یہ عشق جان کو میرے کوئی عذاب ہوا کیا جو قتل مجھے تم نے خوب کام کیا کہ میں عذاب سے چھوٹا تمہیں ثواب ہوا کبھی تو شیفتہ اس نے کہا کبھی شیدا غرض کہ روز نیا اک مجھے خطاب ہوا پیوں نہ رشک سے خوں کیونکہ دم بہ دم اپنا کہ ساتھ غیر کے وہ آج ہم شراب ...

مزید پڑھیے

شمشیر برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہی

شمشیر برہنہ مانگ غضب بالوں کی مہک پھر ویسی ہی جوڑے کی گندھاوٹ قہر خدا بالوں کی مہک پھر ویسی ہی آنکھیں ہیں کٹورا سی وہ ستم گردن ہے صراحی دار غضب اور اسی میں شراب سرخی پاں رکھتی ہے جھلک پھر ویسی ہی ہر بات میں اس کی گرمی ہے ہر ناز میں اس کے شوخی ہے قامت ہے قیامت چال پری چلنے میں ...

مزید پڑھیے

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی

بات کرنی مجھے مشکل کبھی ایسی تو نہ تھی جیسی اب ہے تری محفل کبھی ایسی تو نہ تھی لے گیا چھین کے کون آج ترا صبر و قرار بے قراری تجھے اے دل کبھی ایسی تو نہ تھی اس کی آنکھوں نے خدا جانے کیا کیا جادو کہ طبیعت مری مائل کبھی ایسی تو نہ تھی عکس رخسار نے کس کے ہے تجھے چمکایا تاب تجھ میں مہ ...

مزید پڑھیے

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں

لگتا نہیں ہے دل مرا اجڑے دیار میں کس کی بنی ہے عالم ناپائیدار میں ان حسرتوں سے کہہ دو کہیں اور جا بسیں اتنی جگہ کہاں ہے دل داغدار میں کانٹوں کو مت نکال چمن سے او باغباں یہ بھی گلوں کے ساتھ پلے ہیں بہار میں بلبل کو باغباں سے نہ صیاد سے گلہ قسمت میں قید لکھی تھی فصل بہار میں کتنا ...

مزید پڑھیے

یاں خاک کا بستر ہے گلے میں کفنی ہے

یاں خاک کا بستر ہے گلے میں کفنی ہے واں ہاتھ میں آئینہ ہے گل پیرہنی ہے ہاتھوں سے ہمیں عشق کے دن رات نہیں چین فریاد و فغاں دن کو ہے شب نعرہ زنی ہے ہشیار ہو غفلت سے تو غافل نہ ہو اے دل اپنی تو نظر میں یہ جگہ بے وطنی ہے کچھ کہہ نہیں سکتا ہوں زباں سے کہ ذرا دیکھ کیا جائے ہے جس جائے نہ ...

مزید پڑھیے

ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں

ہجر کے ہاتھ سے اب خاک پڑے جینے میں درد اک اور اٹھا آہ نیا سینے میں خون دل پینے سے جو کچھ ہے حلاوت ہم کو یہ مزا اور کسی کو نہیں مے پینے میں دل کو کس شکل سے اپنے نہ مصفا رکھوں جلوہ گر یار کی صورت ہے اس آئینے میں اشک و لخت جگر آنکھوں میں نہیں ہیں میرے ہیں بھرے لال و گہر عشق کے گنجینے ...

مزید پڑھیے

کریں گے قصد ہم جس دم تمہارے گھر میں آویں گے

کریں گے قصد ہم جس دم تمہارے گھر میں آویں گے جو ہوگی عمر بھر کی راہ تو دم بھر میں آویں گے اگر ہاتھوں سے اس شیریں ادا کے ذبح ہوں گے ہم تو شربت کے سے گھونٹ آب دم خنجر میں آویں گے یہی گر جوش گریہ ہے تو بہہ کر ساتھ اشکوں کے ہزاروں پارۂ دل میرے چشم تر میں آویں گے گر اس قید بلا سے اب کی ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4707 سے 6203