قومی زبان

پان کی سرخی نہیں لب پر بت خوں خوار کے

پان کی سرخی نہیں لب پر بت خوں خوار کے لگ گیا ہے خون عاشق منہ کو اس تلوار کے خال عارض دیکھ لو حلقے میں زلف یار کے مار مہرہ گر نہ دیکھا ہو دہن میں مار کے انجم تاباں فلک پر جانتی ہے جس کو خلق کچھ شرارے ہیں وہ میری آہ آتش بار کے طوبی جنت سے اس کو کام کیا ہے حوروش جو کہ ہیں آسودہ سائے ...

مزید پڑھیے

زندگی کا ہے یہ بھی کوئی ڈھنگ

زندگی کا ہے یہ بھی کوئی ڈھنگ نہ کوئی آرزو نہ کوئی امنگ ہوش کا طور یا خرد کا رنگ عاشقی کے لئے ہیں دونوں ننگ عقل حیراں ہے اور فکر ہے دنگ جلوہ اور وہ بھی سر بہ سر بے رنگ صلح کل عشق کا ہر اک انداز حسن کی ہر ادا پیام جنگ ابھی جیتے ہیں اہرمن زادے ابھی برپا ہے خیر و شر کی جنگ اللہ اللہ ...

مزید پڑھیے

ہجر میں جو اشک چشم تر گرا

ہجر میں جو اشک چشم تر گرا اک پیام حال دل بن کر گرا دوستوں کے طنز کا ایک ایک تیر برق بن بن کر مرے دل پر گرا جب اٹھایا بزم سے اس شوخ نے میں اٹھا اٹھ کر چلا چل کر گرا وائے اک مفلس کا تھا سب کچھ وہی ان دنوں سیلاب میں جو گھر گرا کیا غضب ہے زندگی کی دوڑ میں راہزن آگے بڑھا رہبر گرا

مزید پڑھیے

ہم نے آپ کے غم کو ہم سفر بنایا ہے

ہم نے آپ کے غم کو ہم سفر بنایا ہے یعنی زندگانی کو معتبر بنایا ہے ہر غم زمانہ کو دل میں دی جگہ ہم نے خوب جو ملا اس کو خوب تر بنایا ہے اینٹ اور پتھر کا گھر نہیں ملا تو کیا دشمنوں کے دل میں بھی ہم نے گھر بنایا ہے احتیاط سیکھی ہے بے اصول لوگوں سے ہم کو چند اندھوں نے دیدہ ور بنایا ...

مزید پڑھیے

مر گئے اے واہ ان کی ناز برداری میں ہم

مر گئے اے واہ ان کی ناز برداری میں ہم دل کے ہاتھوں سے پڑے کیسی گرفتاری میں ہم سب پہ روشن ہے ہماری سوزش دل بزم میں شمع ساں جلتے ہیں اپنی گرم بازاری میں ہم یاد میں ہے تیرے دم کی آمد و شد پر خیال بے خبر سب سے ہیں اس دم کی خبرداری میں ہم جب ہنسایا گردش گردوں نے ہم کو شکل گل مثل شبنم ...

مزید پڑھیے

میں ہوں عاصی کہ پر خطا کچھ ہوں

میں ہوں عاصی کہ پر خطا کچھ ہوں تیرا بندہ ہوں اے خدا کچھ ہوں جزو و کل کو نہیں سمجھتا میں دل میں تھوڑا سا جانتا کچھ ہوں تجھ سے الفت نباہتا ہوں میں با وفا ہوں کہ بے وفا کچھ ہوں جب سے ناآشنا ہوں میں سب سے تب کہیں اس سے آشنا کچھ ہوں نشۂ عشق لے اڑا ہے مجھے اب مزے میں اڑا رہا کچھ ...

مزید پڑھیے

یہ قصہ وہ نہیں تم جس کو قصہ خواں سے سنو

یہ قصہ وہ نہیں تم جس کو قصہ خواں سے سنو مرے فسانۂ غم کو مری زباں سے سنو سناؤ درد دل اپنا تو دم بہ دم فریاد مثال نے مری ہر ایک استخواں سے سنو کرو ہزار ستم لے کے ذکر کیا یک یار شکایت اپنی تم اس اپنے نیم جاں سے سنو خدا کے واسطے اے ہمدمو نہ بولو تم پیام لایا ہے کیا نامہ بر وہاں سے ...

مزید پڑھیے

ہے دل کو جو یاد آئی فلک پیر کسی کی

ہے دل کو جو یاد آئی فلک پیر کسی کی آنکھوں کے تلے پھرتی ہے تصویر کسی کی گریہ بھی ہے نالہ بھی ہے اور آہ و فغاں بھی پر دل میں ہوئی اس کے نہ تاثیر کسی کی ہاتھ آئے ہے کیا خاک ترے خاک کف پا جب تک کہ نہ قسمت میں ہو اکسیر کسی کی یارو وہ ہے بگڑا ہوا باتیں نہ بناؤ کچھ پیش نہیں جانے کی تقریر ...

مزید پڑھیے

عشق تو مشکل ہے اے دل کون کہتا سہل ہے

عشق تو مشکل ہے اے دل کون کہتا سہل ہے لیک نادانی سے اپنی تو نے سمجھا سہل ہے گر کھلے دل کی گرہ تجھ سے تو ہم جانیں تجھے اے صبا غنچے کا عقدہ کھول دینا سہل ہے ہمدمو دل کے لگانے میں کہو لگتا ہے کیا پر چھڑانا اس کا مشکل ہے لگانا سہل ہے گرچہ مشکل ہے بہت میرا علاج درد دل پر جو تو چاہے تو اے ...

مزید پڑھیے

واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہے

واں ارادہ آج اس قاتل کے دل میں اور ہے اور یہاں کچھ آرزو بسمل کے دل میں اور ہے وصل کی ٹھہراوے ظالم تو کسی صورت سے آج ورنہ ٹھہری کچھ ترے مائل کے دل میں اور ہے ہے ہلال و بدر میں اک نور پر جو روشنی دل میں ناقص کے ہے وہ کامل کے دل میں اور ہے پہلے تو ملتا ہے دل داری سے کیا کیا دل ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4703 سے 6203