میری ایک بری عادت تھی
میری ایک بری عادت تھی تو میری عادت کے ہاتھوں کیسی زچ اور کتنی دق تھی جب حیرت کی انگلی تھامے تیرے ساتھ چلا کرتا تھا اک شیریں مسکان کی بیلیں میرے تن بوٹے کے اوپر استحقاق سے چڑھتی تھیں اور اک لمس کا گاتا پانی نس نس دیپ جلاتا تھا لمس کے جگنو اور مسکان کی تتلی میرے کھلونے تھے ان دونوں ...