قومی زبان

میری ایک بری عادت تھی

میری ایک بری عادت تھی تو میری عادت کے ہاتھوں کیسی زچ اور کتنی دق تھی جب حیرت کی انگلی تھامے تیرے ساتھ چلا کرتا تھا اک شیریں مسکان کی بیلیں میرے تن بوٹے کے اوپر استحقاق سے چڑھتی تھیں اور اک لمس کا گاتا پانی نس نس دیپ جلاتا تھا لمس کے جگنو اور مسکان کی تتلی میرے کھلونے تھے ان دونوں ...

مزید پڑھیے

تڑخن

کوئی شیشہ چٹختا ہے کسی بلور کی تڑخن مرے کانوں تک آتی ہے ستون استخواں جس پر مرا بام شکستہ ہے یکایک ڈول جاتا ہے مری گردن سے کچھ نیچے جہاں یہ ریڑھ کی چوب ستادہ کپکپی میں ہے وہیں وسواس کے اور خوف کے اور یاس کے جنات وحشت راگ میں اپنا قدیمی گیت گاتے ہیں تناؤ اس طرح جیسے طناب جان کھنچتی ...

مزید پڑھیے

نسٹالجیا

وہ دن کتنے منور تھے کسی کو بازوؤں میں بے طرح بھرنے کی خواہش سے ایاغ جسم و جاں اک بے خودی میں جب لبا لب تھا چناروں کے بدن میں سرخ رو مستی دہکتی تھی کچھ ایسا حال بیش و کم ہمارے دل کا بھی تب تھا وہ دن کتنے منور تھے کہ بچپن کی حسیں شاموں کے سائے بات کرتے تھے تو جیسے دور افق قلقل سے ہنستا ...

مزید پڑھیے

دھند

جب دسمبر میں دھند اترتی ہے اپنے اسرار میں لپٹتی ہوئی، تہہ بہ تہہ ہم پہ فاش ہوتی ہوئی یہ کسی یاد کے دسمبر سے دل کی سڑکوں پہ آ نکلتی ہے راہ تو راہ دل نہیں ملتا دھند جب ہم میں آ ٹھہرتی ہے کیف کی صبح خوش مقدر میں، یہ در راز ہم پہ کھلتا ہے جیسے دل سے کسی پیمبر کے، رب کی پہلی وحی گزرتی ...

مزید پڑھیے

مشکل

خدا کو یاد کرتا ہوں تو ماں کی یاد آتی ہے ابھی ازلوں سے گرداں چاک کی مٹی کا نم آنکھوں میں روشن تھا کہ میں نے ماں کو دیکھا تھا مجھے مسکان کا پہلا صحیفہ یاد ہے اب تک کہ دل جس کی تلاوت سے سکوں کے گھونٹ بھرتا تھا کہ جس کی لو، اگرچہ وہ نہ شرقی تھی نہ غربی تھی مگر دو نین کے بلور میں کچھ یوں ...

مزید پڑھیے

سوتے میں مسکراتے بچے کو دیکھ کر

تری مخمور سی مسکان ابھی دیکھی تو یاد آیا مری مسکان پر اک دن مجھے ماں نے بتایا تھا کہ چھوٹا تھا تو اکثر نیند میں میں مسکراتا تھا (الوہی انگلیوں کی چھیڑ کا میٹھا ترنم میرے لب پر رقص کرتا تھا) کہ جیسے گدگدی کے اک لطیف احساس کی قلقل سے میری نیند ہنستی تھی یہ گزرے کل کا قصہ ہے، وہ گزرے ...

مزید پڑھیے

ایک خواب

پرانی قبریں ادھورے چہرے اگل رہی تھیں ادھورے چہرے پرانی قبروں کی سرد زا بھربھری اداسی جو اپنے اوپر گرا رہے تھے تو عارض و چشم و لب کی تشکیل ہو رہی تھی وہ ایک کن جو ہزار صدیوں سے ملتوی تھا اب اس کی تعمیل ہو رہی تھی قبور خستہ سے گاہ خیزاں و گاہ افتاں، ہجوم عصیاں ہر ایک رشتہ سے، ہر تعلق ...

مزید پڑھیے

میں کیسے مان لوں کہ عشق بس اک بار ہوتا ہے

میں کیسے مان لوں کہ عشق بس اک بار ہوتا ہے تجھے جتنی دفعہ دیکھوں مجھے ہر بار ہوتا ہے فقط کٹنے کو یوں بھی کٹ رہی ہے زندگی لیکن وہی ہے زندگی جس پل ترا دیدار ہوتا ہے تجھے پانے کی حسرت اور ڈر نا کامیابی کا انہیں دو تین باتوں سے یہ دل دو چار ہوتا ہے اگر ہے عشق سچا تو نگاہوں سے بیاں ...

مزید پڑھیے

سنو جب غیب کا پر جاگتا ہے

سنو جب غیب کا پر جاگتا ہے ہواؤں کا سمندر جاگتا ہے سبھوں میں جس نے کی تقسیم نیندیں خدا ہے جو برابر جاگتا ہے اگرچہ بجھ چکی ہے میری حیرت مگر اب بھی وہ منظر جاگتا ہے بڑی دلچسپ ہوتی ہے کہانی میں سوتا ہوں تو بستر جاگتا ہے کسی دن مار دوں گا آئنے پر جو مجھ میں ایک پتھر جاگتا ہے یقیں ...

مزید پڑھیے

جبراً پیاس پہ پہرا ہوتے دیکھا ہے

جبراً پیاس پہ پہرا ہوتے دیکھا ہے میں نے دریا صحرا ہوتے دیکھا ہے آنکھ میں موت کے کالے کالے آنسو ہیں خواب میں نیند کو گہرا ہوتے دیکھا ہے آنکھیں مونالیزا جیسی ہیں اس کی خاموشی کو چہرہ ہوتے دیکھا ہے دوڑا آتا ہے اب ہر آوازے پر آفیسر کو بہرا ہوتے دیکھا ہے جھیل کنارے بیٹھے بیٹھے ...

مزید پڑھیے
صفحہ 4594 سے 6203